تازہ ترین

سکردو بلتستان تاریخ کے آئینے میں ۔۔۔۔

تاریخ کا مطالعہ اہم ہے کیوں کہ یہ ہمیں ماضی کے حالات کو سمجھنے کی طرف توجہ دلاتی ہیں ۔ہم ماضی کی کامیابی اور غلطیوں سے سیکھے تو مستقبل میں ان غلطییوں کو دوبارہ دوہرانے سے بچ سکتے ہیں ۔تاریخ کے مطالعے سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ معاشرہ کس طرح تبدیل ہوا اور اس کے ارتقائ عمل کے اسباب کیا تھے ۔تاریخ یہ بھی بتائی ہے کہ ماضی میں خاص حالات میں کیا فیصلے ہوے اور ان کے کیا نتایج برآمد ہوے ۔تاریخ ہمیں استدلال اور تجزیاتی مہارت کیساتھ مسائل کو حل کرنے اور تخلیقی طور پر سوچنے کی صلاحیت دیتی ہیں سر زمین بلتستان کی تاریخ چوتھی صدی سے تاریخ کی کتابوں میں ملتی ہے بلتستان کے بے شمار قدیم نام ہیں ۔ شوری بوٹن ،لکھ بوٹن، سری بوتان، ننگ گون سا، تیبت خورد، بلو پولو، بلتی، اسلامی تیبت ، لٹل تبت ،بہشت کوچک، تبت آف اپریکاٹ، بام عالم، پریوں کا دیس، رانگ یول، فہ یول اور بلتی یل ۔اسلام کی آمد کے بعداس سر زمین کا نام بلتستان موسوم ہوا۔ اس سر ز مین پر مختلف حکمرانوں کی حکومت قائم رہی کیسر پانچویں صدیء سکردو میں پلوشاہی خاندان 660ءسے 727ء تک رگیالوسترالبو خاندان 900ءسے 1200ء تک اور1200ء میں ابراہیم مقپون کی حکومت رہی جب کہ 850ء میں یبگو بیگ خاندان کی خپلومیں 1110ء اماچا خاندانکی شگر میں 1200 ء میں انٹھوک خاندان کی کھرمنگ میں 1200ء روندو میں خلون چھے کی حکومت قائم تھی ۔1633ء میں بلتستان کی سلطنت مشر ق میں پرانگ تک مغرب میں چترال تک شمال میں قراقرم تک جنوب میں زوجی لاتک پھیلی ہوئی تھی ۔1840ء میں بلتستان پر ڈوگروں نے قبضہ کیا جن کی حکومت 108 سالوں پر مشتمل رہی ان کے پہلے حکمران گلاب سنگھ نے 1840 ء سے 1851 تک رنجرسنگھ نے 1855 سے 1857ء تک پرتاب سنگھ 1855 سے 1925 ء تک اور ہری سنگھ نے 1925 سے 1948 ء تک حکومت کی۔
اہل بلتستان نے 14اگست 1948ء کو صبح سات بجے آزادی حاصل کی ۔جنگ آزادی کے پہلے شہید کا اعزاز ماسٹر غلام رضا سکردو کو ملا وہ اس جنگ آزادی کے پہلے شہید مانے گئے ۔بلتستان سکردو روندو شگر کھرمنگ خپلو اور گولتری پر مشتمل ہیں ۔اسلام کی آمد سے پہلے بلتستان میں 6 مذاہب موجود تھے ۔ زرتشی، برن چھوس، پون چھوس، بون چھوس، بدمت اور لاازم اور اسوقت سال کے مہینوں کے نام کچھ اسطرح تھے ۔ گوخپید، سکیلی خپید ،جوگی خپید ، گوغبیار سکیلی غبیار جوگی غبیار ،گوستونگ، سکیلی ستونگ، جوگی ستونگ، گورگون، سکیلی رگون، جوگی رگون تھے ۔بلتستان میں اسلام کا ظہور 1381ء میں بلتستان کے پہلے مبلغ پیر کبیر علی ہمدانی کی تبلیغ سے ہوا جو عظیم مبلغ کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔۔آمد اسلام کے بعد لوگوں کے رسم و رواج میں تبدیلیاں رونما ہوئی اسطرح اسلام کی آمد کے بعد سال کے مہینوں کے نام تبدیل کر دیے گئے مورخین ان ناموں کو کچھ اسطرح اسطرح بیان کرتے ہیں ۔ ماتم ،صفر ، پیغمبر/ عرسی ۔ گوستونگ ، سکیل ستونگ جوگ ستونگ، ہرمنگ دو / غولوک، برات ، رمضان ۔ سکیالزا، ستونگمہ/ چھون لزا اور قربان، رکھ دیا گیا سر زمین بلتستان میں پہلا پرائمری اسکول 1892ء میں ڈوگروں نے سکردو میں قائم کیا ڈوگروں کی حکومت میں 32 پرائمری اسکول تھے ۔1966ءمیں سکردو میں پہلے انٹر کالج کا قیام عمل میں لایا گیا اور 1975ء میں اس کو ڈگری کالج کادرجہ دیا گیا ۔ علمی سلسلے میں پیش رفت ہوتی گئی اور 1988ء میں سکردو میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی متعارف ہوئی ۔1949ء میں بلتستان میں پہلی گاڑی بذریعہ ہوائی جہاز لائے گئ۔ سکردو سے گلگت بس سروس کا آغاز 1981ء میں نادرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور مشہ بورم ٹورز نے شروع کیا ۔بلتستان میں لوک کہانیاں بڑی مشہورہیں لوگ سرد راتوں میں کہیں ایک جگہ جمع ہوتے تھے اور کہانیاں سننانے والا کہانیاں سناتا تھا مشور لوک کہانیوں میں کیسار، اپی فڑاژھو، سلمہ چو چو، شینگ کھن، چندن رگیالوسترالبو اپی نا اپو، ژھونگپہ نا طوطا، پرستانی بادشاہ، سینگ سکم اور دیگر کئی اہم لوک کہانیاں شامل ہیں ۔بلتستان 1880 میٹر سے 3350 میٹر تک سطح سمندر سے بلند ہے یہاں چار موسم پاے جاتے ہیں خچید (بہار) غبیار (گرما) ستون (خزاں) اور رگون (سرما) بلتستان میں اگائی جانے والی فصلیں مندرجہ ذیل ہیں گندم ،جو ، مٹر، کنگی، ترونبہ، سترنجوں، نقسترن اور مکئی وغیرہ ۔اس سر زمین میں یوں تو بیشمار جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں چیند اہم ایک جڑی بوٹیاں خوروس ، محوتینگ، چھنڈول، شمدون ،اثمان ژہے لونگژے وغیرہ پر مشتمل ہیں ۔بلتستان کے حدود 150 بلند چوٹیوں پر مشتمل ہے جن میں سے کچھ اہم مندرجہ ذیل ہیں چھوغوری( کے-ٹو)8611 میٹر رگشہ بروم(1) 8068 میٹر براڈ پیک 8016 رگشہ بروم 2،3،4اور رگشہ بروم 5 بلند و بلا چوٹیاں ہیں ،۔یہ سر زمین خوبصورت ترین جھلیوں پر مشتمل ہے جن میں سدپارہ جیھل سکردو، شنگریلا جھیل، کتپناہ جیھل،جھاربہ جھیل، سوبوجھیل، شوشتر جھیل اور گانھچے جھیل تاریخ کے اوراق کی چھان بین سے پتہ چلتا ہے کہ بلتستان کے مقامی کیھلوں میں اپوش، پولو ،ڈین پولو ،ٹیاکوپولو ، ٹیاپو دونگ، بجب جون تھب ، ایپ ایپ اور کنگ پولو وغیرہ شامل ہیں ۔

تحریر: آصف علی تیمور (ریسرچ سکالر جامعہ کراچی پاکستان )

  •  
  • 11
  •  
  •  
  •  
  •  
    11
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*