تازہ ترین

گلگت بلتسان کی آزادی کے تاریخی ادوار!

تین چیزوں کی قدر وقیمت کا اندازہ اس وقت ہوتاہے جب وہ چیز آپ کے  پاس نہیں رہتی۔ ان میں سے پہلی چیز صحت ہے ۔ صحت  کی قدر انسان کو تب ہوتی ہے جب وہ  مریض  ہوجائے ۔صحت قدرت کا انمول تحفہ ہے  اس بیش بھا نعمت کی جتنا شکر ادا کیاجائے کم ہے۔ دوسری چیز امن وامان ہے۔ امن وآشتی کا انسانی روزمرہ زندگی سے گہراتعلق ہے۔ جب تک انسان کو امن اور سکون نہیں ہوگا کسی بھی صورت میں زندگی لاحاصل اور بدمزہ ہوجائے گی۔ امن کی قدر بدامنی اور افتراق کے وقت ہوتی ہے ۔ اس عظیم نعمت کی قدر و قیمت ان اقوام یا ملکوں سے پوچھی جائے جہاں خانہ جنگی، بدامنی ، فسادات، دھشتگردی جیسی لعنت پائی جاتی ہے۔ خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ایک عرصے سے اس بدامنی جیسے ناسور سے نکل چکے ہیں ۔ تیسری چیز آزادی ہے۔ آزادی خالق کی طرف سے  ایک ایسا انعام ہے جس کے مقابلے میں کوئی چیز نہیں آسکتی۔   آزادی کی قدر ان لوگوں سے پوچھی جائے جو محکومیت اور غلامی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا میں ایسے بہت سارے قومیں بستیں ہیں جو آج کی اس صدی میں بھی غلامی کی زندگی گزارتیں ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں آج کا دن ایک انتہائی اہمیت کا حامل  ہے۔ یکم نومبر ۱۹۴۷ء کو پاکستان کے شمال میں واقع علاقہ گلگت آزاد ہوا۔ گرچہ تقسیم پاک وہند سے پہلے ہی یہاں علحیدگی کی ہوا چل پڑی تھی۔ خطے کے مختلف علاقوں اور وادیوں سے حاکم وقت کے خلاف بغاوت کی تحریکیں چل رہیں تھیں۔ جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو اس وقت کے بریٹش فوج کے  مقامی آفیسر کرنل حسن خان کی قیادت میں باقاعدہ بغاوت کا اعلان ہوا اور گورنر گھنساراسنگھ کو گرفتار کرکے ڈوگرہ راج کا خاتمہ کیا۔  چونکہ بہت سے لوگ گلگت بلتستان کی اصل تاریخ سے نابلد اور حقائق سے ناآشناہیں ان کی معلومات کے  لیے یہاں پر مختصراً گلگت بلتستان کی تاریخ بیان کروں۔ ساتھویں صدی قبل مسیح میں گلگت بلتستان کو پلور کہتے تھے۔ جسے چینی سیاح فاہیاں نے اپنے سفرنامے میں ذکر کیا ہے پلور کی سرحدیں موجودہ چترال اور سوات سے لیکر مشرق میں تبت تک اور چلاس کوہستان سے لیکر خنجراب تک پھیلی ہوئیں تھیں۔اس کا صدر مقام بلتستان ، موجودہ خپلو کا علاقہ تھا۔ پلور لفظ کو بعد میں عرب مورخین بگاڑ کر بلور بنادیا۔اسی وجہ سے بلورستان بھی کہتے ہیں۔ ۹۰۰ عیسوی میں یہ علاقہ تبت کے زیر تسلط آیا۔ تبتی دور حکومت میں بلتیوں اور تبتیوں نے چینی فوج کوگلگت کے مقام پر شکست دی۔ تبتی تھذیب کا اثر آج بھی گلگت بلتستان پر ہے۔اور خاص طور پر بلتی زبان تبتی زبان کی ایک شاخ ہے۔تبتی سلطنت کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان مختلف حصوں میں بٹ گیا۔گلگت اور چلاس میں دردستان، ہنزہ اور نگر میں بروشال جبکہ بلتستان میں شگر، خپلواور سکردو کی ریاستیں وجود میں آئیں۔ سولہویں صدی میں سکردو کے مقپون خاندان کے ایک چشم چراغ علی شیر خان  انچن  نے پورے گلگت بلتستان کو ایک بار پھر متحد کیا۔ مغل تاریخ میں ان کو” علی رائے تبتی “کے نام سے یاد کیا ہے۔اس دور کی تاریخی عمارات جو آج تک موجود ہیں ان میں ہنزہ کی بلتت اور التت فورٹ جسے بلتیوں نے اپنی شہزادی کے لیے بنائی جس کی شادی  ہنزہ میں ہوئی تھی۔ گلگت کے قریب مقپون پولوگراونڈ اسی دور میں بنایاگیا ، سکردو میں قلعہ کھر فوچو، گنگوپی نہر، سدپارہ جھیل پر بند اور  چین کے ساتھ تجارتی شاہراہ براستہ مزتغ شامل ہیں۔

تاریخ ہندوستان اور تاریخ فرشتہ میں ملاقاسم فرشتہ نے ایک تاریخی واقعے کا ذکر کیا ہے کہ مغلیہ فوج کی لڑائی بلتی فوج کے ساتھ کشمیر کے شمالی پہاڑوں پر ہوئی۔ جس میں مغلیہ فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں مغل شہنشاہ اکبر نے بلتی بادشاہ علی رائے کے پاس ایک سفیر بھیجا اور سفارتی تعلقات قائم کئے۔ پھر مغلیہ دربار میں علی رائے نے اکبر سے ملاقات کی اور مغل شہزادی کی شادی بلتی شہزادے کے ساتھ ہوئی۔  مغل شہزادی کا نام گل خاتون تھا۔ جس کا تاریخی ثبوت سکردو میں مغل شہزادی کے نام سے بنائی گئی مندوق کھر ہے۔ مندوق بلتی زبان میں پھول (گل) کو کہتے ہیں ۔ انچن کے وفات کے بعد خاندانی فسادات نے جنم لیا اور اس طرح گلگت بلتستان ایک بار پھر الگ الگ چھوٹی ریاستوں میں بٹ گیا۔

۱۸۴۰ ء میں زور  آور سنگھ نے پہلے بلتستان پر پھر گلگت پر حملہ کیا۔ البتہ ۱۲ دسمبر ۱۸۴۱ء کو زور آور سنگھ قتل ہوگیا تو سکردو کے احمدشاہ نے بلتستان میں بغاوت کی۔ مگر آزادی کی یہ جدوجہد کامیاب نہ ہوسکی۔ اور بلتستان  کی باگ دوڑ واپس ۱۸۴۲ء میں ڈوگرہ حکومت کے قبضے  میں چلی گئی۔بلتستان میں ڈوگرہ حکومت ۱۹۴۸ء تک رہی ۔ اس حکومت کی ۱۰۸ سالہ دور میں گلگت بلتستان کے عوام پر ظلم وستم کےپہاڑ توڑے گئے۔

یاد رہے انگریزوں نے جو کشمیر ڈوگروں کو بیچا تھا اس میں گلگت بلتستان شامل نہیں تھا  مگر گلاب رائے کے صاحبزادے رنبیرسنگھ بادشاہ بنے تو ان کی افواج نے گلگت اور بلتستان کو فتح کرکے زبردستی کشمیر کا حصہ بنا لیاتھا۔۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو گلگت میں کرنل مرزاحسن خان کی سرکردگی میں انقلاب آیا۔ گلگت اور بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف آزادی کی جنگ لڑی۔ ڈوگرہ گورنر گھنسارا سنگھ کو گرفتار کیا اور یکم نومبر ۱۹۴۷ء  کو بونجی کے مقام پر فوجی چھاونی پر حملہ کرکے ڈوگروں کو گلگت سے بھاگنے پر مجبور کیا۔ یہ جنگ آزادی ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو شروع ہوئی اور یکم نومبر ۱۹۴۷ء تک گلگت اور استور کا علاقہ آزاد کرالیاگیا۔ اور آزادی کی تحریک پورے گلگت بلتستان میں پھیل گئی یوں ۱۴ اگست ۱۹۴۸ء کو ۲۸ ہزار مربع میل پر مشتمل علاقہ گلگت بلتستان مکمل آزاد ہوگیا۔ گلگت بلتستان کی  جنگ آزادی میں گلگت سکاؤٹس، چترال سکاؤٹس ، راجہ سکردو، راجہ روندو اور علاقے کے عوام نے نمایاں کردار ادا کیا۔ جنہوں نے بے سروسامانی کے عالم میں کرگل تک کے علاقے کو آزاد کرکے بلتستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں اپنا جھنڈا لہرایا۔گلگت کی آزادی کے سولہ دن بعد وہاں کے نمائندوں نے اپنی مرضی اور خواہش پر پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا۔ یوں بعد میں آزاد ہونے والے علاقے بھی پاکستان کے زیر انتظام ہوتا گیا۔اور ۱۹۷۲ء تک گلگت بلتستان کو پاکستان کی وفاقی حکومت کے زیر انتظام علاقے کی حیثیت حاصل رہی۔ اور یہاں قبائلی علاقوں کی طرح ایف سی آر جیسا کالا قانون نافذ رہا۔چونکہ بین الاقوامی عدالت میں گلگت بلتستان کو کشمیر کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا تھا اس وجہ سے یہاں کی حتمی آئینی حیثیت کا تعین مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ابھی تک معطل رہاہے۔ ستمبر ۲۰۰۹ء میں اس وقت کے صدر پاکستان نے گلگت بلتستان کے عارضی انتظامی حقوق کے حوالے سے ایک صدارتی آرڈنینس جسے”سیلف گورننس آرڈیننس” کانام دیاگیا ہے جاری کردیا جس کے بعد گلگت بلتستان میں جموں کشمیر اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی طرح ایک قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں آیا۔ اور اس طرح گلگت بلتستان کے عوام کو قانون سازی کے لیے اپنے نمایندے چننے کے لیے باضابطہ اختیارتفویض ہوا۔ ۲۰۰۹ء میں باضابطہ طورپر۲۴ نشستوں پر  الیکشن ہوئے جو پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی اور سید مہدی شاہ پہلا وزیراعلیٰ منتخب ہوا۔ اس دور میں مرکز کی طرف سے بہت سارے اصلاحی اور ترقیاتی پیکچ کا اعلان تو ہواتھا مگر یہ نظام عوام کو کچھ دے نہیں دےسکا۔ پیپلز پارٹی کی مدت پوری ہونے کے بعد ۲۰۱۵ ء میں دوبارہ الیکشن کرایا گیا جس میں پاکستان مسلم لیگ نون کے حافظ حفیظ الرحمٰن کو وزیراعلیٰ منتخب کیاگیا ۔

قابل ذکر بات یہ ہے پاکستان نے یہ سوچ کر گلگت بلتستان کو تنازعہ کشمیر کا حصہ بنایا۔کہ اگر کشمیر پر اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری ہوجائے تو مقبوضہ کشمیر کا ہندو ووٹ کو گلگت بلتستان کامسلم ووٹ کاؤنٹر کریگا۔لیکن بدقسمتی سے کشمیرکا مستقبل کا فیصلہ اب تک نہ ہوسکا۔ اور آج تک گلگت بلتستان  بھی ایک عضوء معطل کی طرح لٹکارہا۔۹۰ کی دھائی میں امریکہ کشمیر کو الگ ملک بنانے کے پوزیشن میں تھاتاکہ امریکہ کے لئے وسط ایشیاء میں چین کے قریب ایک اتحادی ملک مل جائے جو صرف اس کے اشاروں پہ چلے۔ اور اس کے لیے امریکہ انڈیا سے ٹکر لینے کے لئے تیار تھا۔ لیکن پاکستان نے امریکہ کی اس خواب کو شرمندہ تعبیر ہونے نہیں دیا۔ دنیا میں ہرجگہ علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ مگر گلگت بلتستان وہ واحد خطہ ہے جو سات دھائیوں سے پاکستان کے ساتھ الحاق کا نعرہ لگا رہا ہے۔ حکومت کو پاکستان  کے مستقبل کے بڑے منصوبوں اور اقتصادی راہداری  جیسے اہم فیصلوں میں گلگت بلتستان کے موجودہ وضعیت اور حیثیت کو نہیں بھولنا چاہئے۔ گلگت بلتستان کے محب وطن شہری ہر وقت ملک کے لئے قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔ اس تناظر میں  خطے کو عوام کے امنگوں کے مطابق مکمل آئینی حقوق دینا چاہئے ۔

پاکستان زندہ باد

گلگت بلتستان پائندہ باد۔

تحریر : سید حسین

  •  
  • 50
  •  
  •  
  •  
  •  
    50
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*