تازہ ترین

یکم نومبریوم آزادی گلگت بلتستان۔۔

جنگ آزادی گلگت بلتستان عام جنگوںسے مختلف نوعیت کی تھی،یہ دوقوموں کے درمیان لڑی جانے والی جنگ تھی نہ اس جنگ کامقصدکسی اورخطے کی جانب فوجی طاقت کااستعمال تھا،بلکہ اس عظیم جنگ کااولین مقصدایک متحدافرادکی جانب سے اپنے اوپرمسلط کیے ہوئے ناجائزحکومت کاسرے سے خاتمہ کرناتھا،اوراپنے علاقے کوبیرونی تسط سے مکمل طورپرآزادکراناتھا،1842سے پہلے کی بات ہے جب مقامی حکمرانوں کے درمیان ناچاقی اوراندورنی چپقلش کوفروغ ملنے لگے توڈوگرافواج نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے شمالی علاقوں میں قدم جمانے کی حکمت عملی بنالی،اورگلگت بلتستان کی ریاستوں کی اندورنی خلفشاراوربدنظمی کی کیفیت سے خوب استفادہ حاصل کرتے ہوئے ان علاقوں میں پنجے گاڑناشروع کیے،ڈوگروں کے اس اقدام کوشروع دن سے ہی اندھے حکمرانوںکے بجائے عوام نے ناپسندگی کی نظرسے دیکھنے لگا،ان کے دلوں میں ڈوگروں کیلئے نفرت بڑھنے لگا،بالآخران کے دلوں چھپے نفرت کی آگ عیاں ہوگئی،جس کاعملی مظاہرہ بلتستان میں 1942میں ڈوگروں کے خلاف کامیاب بغاوت سے ہوئی،اس بغاوت کے بعد ڈوگروں نے اپنے آپ کوپہلے سے زیادہ مضبوط کرنے کی ٹھان لی،انہوں نے پہلے سے زیادہ بہترحکمت عملی بناکرعوام پرراج کرناشروع کیا،گلگت بلتستان کے لوگوں کی دلوں میں ڈوگروںکیخلاف اندراندرسے نفرت کی آگ سلگتی رہی،اورمناسب وقت کاانتظارکرتے رہے،تاکہ ڈوگروں کے خلاف علم بغاوت بلندکرکے اپنے علاقے کوان کے شرسے نجات دلاسکیں،اس بغاوت کیلئے تحریک کاآغازگلگت سے ہوا،گلگت ریجن کو1935میں ہونے والے ایک معاہدے کے تحت انگریزوں کولیزپردیاگیاتھا،14اگست 1947کوبرصغیرمیں انگریزوں کے اقتدارکی سورج غروب ہوتے ہی گلگت بلتستان پرسے بھی انگریزوں کی حکومت کاخاتمہ ہوگیا،پاکستان کی آزادی کے فوراََ بعدمہاراجہ کشمیرنے گلگت بلتستان میں ایک بریگیڈرگھنسارسنگھ کوگورنربناکربھیجااورگلگت کاانتظام اپنے ماتحت رکھنے کافیصلہ کیا،چونکہ پاکستان کے ساتھ گلگت اور بلتستان ریجن آزادنہیں ہواتھا،اس لیے انہوںنے موقع کوغنیمت جان کرکمان سنبھال لی،لیکن گلگت کے عوام اورکشمیرانفنڑی اپنے علاقے پربیرونی تسلط سے بیزارتھے،انہوںنے علاقے کوبیرونی تسلط سے آزادکرنے کامصمم ارادہ کرلیا،خفیہ اجلاسوں میں گلگت کوآزادکرنے کرانے کے منصوبے کوحتمی شکل دی گئی،بغاوت کی منصوبہ بندی کی صف میں شامل راہنماوں سے قرآن مجیدپرحلف لیاگیا،بالآخر31اکتوبراوریکم نومبرکی درمیانی رات کوصبح کی سورج پہاڑوں کی چوٹیوں کوچھونے سے پہلے ڈوگرگورنرکے بنگلے کوگھیرے میںلے کرانہیں گرفتارکرلیاگیا،اورگلگت ریجن کوڈوگرراج سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے آزادکرالیاگیا۔
یکم نومبرکی صبح صادق کیساتھ ایک آزادریاست کی قیام کے بعدقائدین کی باہمی مشاورت سے راجہ شاہ رئیس خان کواس نوزائیدہ اسلامی ریاست کاصدرچن لیا،ساتھ ہی دوسرے عہدوں پربھی تقرری عمل میں لائی گئی،اس طرح قائم ہونے والی یہ نوزئیدہ ریاست سولہ دن تک کام کرتی رہی،گلگت کی آزادی کے فوراََبعدآزادحکومت نے پاکستان حکومت سے بذریعہ ٹیلی گرام اورخطوط رابطہ کیا،اورحکومت پاکستان کونوزائیدہ ریاست کی بھاگ ڈورسنبھالنے کی دعوت دی گئی،خطوط کی روشنی میں پاکستان کے ایک انتظامی آفیسرسردارعالم خان سولہ نومبرکو گلگت پہنچااورآزادریاست کی کمان اپنے ہاتھ میں لے لی،یوں یکم نومبرکوآزادہونے والی ریاست ختم ہوگئی اوریہ علاقے براہ راست پاکستان کے زیرانتظام چلے گئے۔
گلگت کے آزادی کی خبرسنتے ہی اہلیان بلتستان نے گلگت کے اسلحہ بردارجوانوں کومددکیلئے طلب کیا،یوں آزادی کادائرہ کاربلتستان تک پھیل گیا،بلتستان کے غیورجوانوں کے لازاول قربانیوں کی بدولت بالآخر14اگست 1948کوبلتستان ریجن بھی ڈوگروں کی تسلط سے آزادہوا ، بلتستان کے جذبہ ایمانی سے سرشارجوانوں نے مقبوضہ کشمیرکے علاقوں تک ڈوگروں کاپیچھاکیااورانہیں ماربھگایا،چونکہ گلگت پاکستان کے زیرانتظاتھااس لیے بلتستان ریجن بھی پاکستان کے زیرانتظام چلاگیا۔1948میں بانی پاکستان قائداعظم کی رحلت کے بعدعہدوں کی بندربانٹ اوراداروں کی اندونی خانہ جنگی کی وجہ سے کسی کوبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ گلگت بلتستان کے عوام کوان کے جائزحقوق دلائے،وہاں کے ایک نسل حقوق کی ارمان دل میں لیے اس دارجہاںسے دارفانی کی طرف کوچ کرگئے ہیں،جب کہ ایک طبقہ اب بھی حقوق کی خواب دیکھ رہے ہیں نہ جانے ان کی یہ خواب کب شرمندہ تعبیرہوگی،بجائے حقوق دلانے کے گلگت بلتستان کوآزادوجموں کشمیرکاحصہ قراردے کرمتنازعہ قراردیاجارہاہے،کشمیرکاکیس سترسالوں سے عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے،نہ جانے اس کافیصلہ کب ہوگا،گلگت بلتستان کوکشمیرکاحصہ قراردینے کا اصل مقصداستصواب رائے ہیں، مسئلہ کشمیرکے حوالے سے 1948میں پاکستان اوربھارت کشمیرمیں آمنے سامنے ہوئی توبھارت نے اس مسئلے کوعالمی عدالت میں لے جاناغنیمت سمجھا،بین الاقوامی فورم پراس مسئلے کواُٹھایاگیا،طویل بحث ومباحثے کے بعدطے یہ پایاکہ کشمیریوں کواستصواب رائے کاحق دیاجائے گا،فیصلہ یہ بھی ہواکہ پاکستان اوربھارت اپنی تمام فوجیں واپس بلائے گا،تاہم اتنی بھارتی فوج کشمیرمیں رہے گی جواستصواب رائے کے دوران وہاں کے امن وامان کوقائم ر کھ سکیں،یہ شرط طرفین نے قبول کرلی تاہم پاکستان نے یہ محسوس کیابھارت کی موجودگی میں استصواب رائے کاعمل شفاف نہیں ہوگا،جس کی روشنی میں وہاں دھاندلی یقینی ہے،اس خدشے کے پیش نظرپاکستان نے گلگت بلتستان میں بھی استصواب رائے کامطالبہ کردیا،حکومت پاکستان بھارتی فوج کی نگرانی میں ہونے

والی دھاندلی کوگلگت بلتستان سے پوراکرناچاہتے تھے،یوں پاکستان حکومت نے گلگت بلتستان کے متعلق مصلحت آمیزموقف اختیارکرکے آئینی مسئلے کوغیرارادی طورپرمسئلہ کشمیرسے منسلک کردیا،شروع میں لگ رہاتھاکہ جلدازجلدکشمیرمیں استصواب رائے کاعمل شروع ہوگا،لیکن ستربرس کاطویل عرصہ گزرنے کے باوجوداب تک استصواب رائے نہ ہوسکا،اوریوں گلگت بلتستان کومتنازعہ جموں کشمیرکاحصہ نہ ہونے کے باوجودکشمیرکاحصہ قراردے کراب تک حقوق سے محروم رکھاگیاہے،شہیدبے نظیربھٹوکی دوسری حکومت میں گلگت بلتستان میں ایک صوبائی سیٹ اپ عمل میں لائی گئی،بعدازاں اس علاقے کوآرڈرکی نذرکیاگیا،2009میں پاکستان پیپلزپارٹی نے عوام پرایک آرڈرمسلط کیاجبکہ 2018میں پاکستان مسلم لیگ ن کے حکومت نے بھی پچھلے حکومت کی نقش قدم پرچلتے ہوئے دوسری آرڈرجبری مسلط کیاگیا،اوریہ خطہ اب آرڈرزپرچل رہاہے،نہ جانے اورکتنے آرڈرلاگوکیے جائیں گے،لیکن گلگت بلتستان کے عوام ان تمام آرڈرزسے بیزارہے،ان کامطالبہ ہے کہ ہمیں آئینی حقوق دیتے ہوئے پاکستانی تسلیم کیے جائیں ،مگرحکومت پاکستان ماننے کوتیارنہیں،ہرآنے جانے والاسیاستدان گلگت بلتستان کوپاکستان کاحصہ قرارنہیں دے کرعوام کی دل آزاری کرنے کے سواکچھ نہیں کررہاہے،لوگ مایوس ہے،اس سے پہلے کہ ان کایہ مایوسی اداسی اوربے بسی میں ڈھل جائے حکومت پاکستان کواس خطے کی اہمیت کااندازہ لگاتے ہوئے ان کے مسائل حل کرنے کی ضرورت ہیں۔

تحریر : ممتازعباس شگری

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*