تازہ ترین

ہمارا المیہ۔۔۔

بطور لکھاری جب قلم اٹھاتا ہوں تو ہمارے معاشرے میں ہر طرف مسائل کے انبار نظر آتے ہیں۔ ان مسائل کی نشاندہی کی ذ مہ داری اگر چہ معاشرے کے ہر فرد پر عائد ہوتی ہے لیکن اہل قلم کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے ارد گرد ہونے والی نا انصافیوں کو قلم کی طاقت سے عوام اور خواص پر عیاں کردے۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ حکومتی محکموں میں ذمہ داران کی کثیر تعداد اپنی اپنی ذمہ داریاں درست طریقے اور ایمانداری سے ادا کرنے سے قاصر ہیں یا جان بوجھ کر اپنا فرض ادا نہیں کرتے۔ ماضی سے لیکر اب تک تمام حکومتوں نے اپنی بساط کے مطابق اربوں روپے تعلیم، صحت اور دیگر مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کئے مگر ہماری قومی المیہ ہے کہ ان منصوبوں سے عوام کو فائدہ پہنچنے کی بجائے ان منصوبہ سازوں کے عزیز اقارب فیض یاب ہوتے آرہے ہیں ۔سکردو گلگت سمیت جی بی کے دیگر علاقوں میں چلنے والی جدید اور مہنگی گاڑیوں سمیت دیگر تعیشات کی جھلک ان ہی منصوبوں کی مرہون منت ہے ۔
ہسپتالوں میں مریضوں کا پرسان حال نہیں، ڈاکٹرز صاحبان کے پاس سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو دیکھنے کا وقت نہیں اور اگر وقت ملے بھی تو سرسری نظر ڈالنے پر اکتفا کیا جاتا ہے، ہاں اگر یہی مریض ان کے کلینکس کا رُخ کریں تو انتہائی پیار اور محبت سے اس طرح پیش آتے ہیںکہ مریض دم بخود رہ جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں روز بروز غربت میں اضافہ ہورہا ہے۔ معاشرے کی ترقی کا دارو مدار تعلیم کی ترقی پر ہوتا ہے مگر اکیسویں صدی میں بھی ہم اپنی تعلیمی ترقی کا رُخ متعین کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے نتیجتاً ہمارے تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ کی ایک بڑی کھیپ روزگار پانے کی منتظر ہے۔ ماسٹر اور گریجویٹ سطح کے حامل طلبہ یونیورسٹی ڈگری رکھنے کے باوجود ان میں اصل تعلیمی قابلیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ فی زمانہ ہمارے نوجوان تعلیم کو صرف نوکری حاصل کرنے کی غرض سے حاصل کرتے ہیں لیکن اگر وہ تعلیم کو ایک بہتر انسان بننے کی نیت سے حاصل کریں اور زندگی میں معاشرے کے لئے کچھ اچھاکر نے کے ارادے سے بھی تعلیم کو با مقصد طریقے سے حاصل کرے تو یقین مانیئے کہ آج ہمارے معاشرے کا رُخ ہی کچھ ہوتا۔ معاشرے میں روزگار سمیت تمام معاملات ہماری دسترس میں ہوتے۔ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد فرد میں اتنی شعور و آگاہی ہونی چاھئیے کہ وہ کسی دفتری ملازمت کے انتظار میں وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی ایسا پیشہ یا خود اختیاری روزگار کا سلسلہ شروع کریں جو اسے دوسروں کی محتاجی سے روک سکے۔
برادر ممتاز عباس شگری کا کالم روزنامہ سلام میں بعنوان ـ’’ زندگی کی تلاش میں‘‘ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ممتاز شگری نے کینسر کے مریض عمار کی جوکہانی لکھی ہے اسطرح کے کئی عمار جیسے لاچار اور بے بس مریض ہمارے معاشرے میں موجود ہیں۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایسے ہردل عزیز سیاسی رہنمائوں کو چنتے آرہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ ہمارے خستہ حال ہسپتالوں میں کینسر اور ہپاٹئیٹس جیسی بیماریوں کے علاج و معالجہ کے لیے الگ وارڈ او ر ان بیماریوں کی تشخیص کے لیے جدید لیبارٹری کھولنے کی تگ و دو کریں مگر اس تگ و دو کی بجائے وہ جب گائوں اور دیہاتوں میں یونیورسٹی کیمپس کھولنے کی ہوائی باتیں کر تے ہیں جو غریب عوام کے زخموں پر مرہم رکھنے کی بجائے مزید نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ شہر کے اکثرسرکاری سکولوں میں اساتذہ آج بھی سائنس مضمون پڑھاتے وقت طلبہ کو کاغذ کے بنے مائکرو سکوپ کے ماڈل اور کمپیوٹر کے مضمون کے کلاس میں لکڑی کے بنے کمپیوٹر دکھا کر طلبہ کو نالج دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہمارامعاشرتی المیہ یہ ہے کہ سرکاری تقریب میں پی ایچ ڈی کے حامل اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو سٹیج کی پچھلی نشستوں پر اور نیم خواندہ سیاستدانوں کو تقریبات میں اگلی نشستوں پر جگہ دے کر نئی نسل کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ آج کے معاشرے میں تعلیم کی کوئی قدر و منزلت نہیں۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ بھی ہے کہ ہمارے بنجر پہاڑوں میں قدرت نے معدنیات کی شکل میں خزانے چھپا رکھے ہیں ہے انہیں ڈھونڈ نکال کر عوام پر خرچ کر تے ہوئے علاقے سے غربت کو مٹانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی بجائے مختلف محکمہ جات میں محدود پیمانے پر بھرتیوں کے ذریعے بیروزگاری پر قابو پانے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے۔ ہمارا معاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہمارے پہاڑوں پر ہر سا ل اربوں ٹن برف پڑتی ہے جو پگھل کر پانی کی شکل میںملک کے دیگر دریاوں میں شامل ہو تے ہوئے باقی صوبوں کے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں مگر ہمارے کسانوں کو مختصر سی زراعت کے لیے پانی میسر نہیں ۔ ہمارامعاشرتی المیہ یہ ہے کہ ہمارے ندی نالوں سے ہزاروں میگا واٹ بجلی پیداکی جاسکتی ہے مگر ہم سالوں سے لوڈ شیڈینگ کا عذاب سہہ رہے ہیں کیونکہ ہمارے اداروں میں عوام کی فلاح کے لیے سوچنے والا کوئی نہیں۔ معاشرے کے کس کس المیے کا ذکر کیا جائے جب پورا معاشرہ ہی بے حس ہو۔ ہمارا قومی المیہ یہ ہے کہ ہماری قوم بصارت تو رکھتی ہے مگر ہم سے بصیرت چھن گئی ہے۔ وہ وقت کب آئے گا جب ہم اپنے وسائل کو مثبت انداز میں استعمال میں لاتے ہوئے انھیں غریب عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرکے معاشرے سے غربت اور جہالت کو ختم کرنے کی حقیقی معنوں میں کوشش کریں گے۔ جی بی میںتعلیم کو عام کرنے کے لیے ٹھوس اور دیرپا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صحت کے شعبے میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے لانگ ٹرم پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ سرکاری محکموں کی سرپرستی کے لیے ایسے افراد کو چننے کی ضرورت ہے جو اپنے اپنے اداروں کو صحیح رُخ پر لے کے جاسکیں۔ آزادی حاصل کرنے کے ستر سال بعد بھی ہم معاشرتی و ذہنی ترقی کے مدارج طے کرنے کے بجائے آج وہیں پر کھڑے ہیںجہاں سے ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا لیکن ہماری منزل ایک فلاحی معاشرے کا قیام ہے جس کے لیے ہمارے آباو اجداد نے ڈوگروں کے خلاف تن تنہا جدو جہد کرکے اپنی آزادی کو یقینی بنایا تھا اور آج وقت کی اہم ضرورت یہ ہے کہ ہم مملکت خداداد پاکستان کی بنیادوں کو مضبوط بنانے کے لیے باہم متحد ہو کر بیرونی دشمنوں کو یہ پیغام دیںکہ ہزار معاشرتی المیوں کے باوجود ہم پاکستانی ایک مضبوط قوم ہیں او ر راہ میں ہزار ہا مشکلات کے باوجود ایک زندہ قوم کی حیثیت سے دنیا میں اپنا لوہا منوا تے ہوئے ہم اُس منزل تک پہنچیںگے جس کا تعین علامہ اقبالؒ نے کیا تھا :
اے دوست کرو ہمت کچھ دور سویرا ہے
گر چاھتے ہو منزل تو پرواز بدل ڈالو ( اقبالؒ )
تحریر: نبی وانی

( فیڈ بیک کے لیے nabiwani8@gmail.com )

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*