تازہ ترین

گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا مقدمہ اور دفتر خارجہ۔۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ دفتر خارجہ نے گلگت بلتستان کی آئینی اور قانونی حیثیت اور یہاں لگائے جانے والے غیر مدلل نعروں اور مطالبات کا قانونی جواب نہیں دیا ہو۔لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں ایک طبقہ ایسا ہے جنہوں کچھ نہ ماننے کی قسم کھائی ہوئی ہے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آج بھی لاحاصل مطالبات کرکے عوام میں پذیرائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح گلگت بلتستان کے پیڈ دانشوروں اور صحافیوں کا بھی یہی المیہ ہے جنہوں نے عوام کو گمراہ کرنے کی ذمہ داری لی ہوئی ۔لیکن ہم چاہے جتنا بھی جھوٹ بولے اور اپنی مرضی سے من گھرٹ تاریخ اور واقعات بیان کریں سچ وہی ہے جو تاریخ کا حصہ ہے اور قانون کے مطابق ہے۔ گزشتہ روزنجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے واضح انداز میں بتایا کیا کہ گلگت بلتستان ریاست جمو ں کشمیر کا حصہ تھا ،ہے اور اُس وقت تک رہے گا جب تک مسلہ کشمیر کی حل کیلئے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی میں رائے شماری نہیں کرائے جاتے۔یہ تاریخ کا کھرا سچ ہے اور اس کھرے سچ کے پیچھے گلگت بلتستان کے عوام کی ناکامیاں اور منافقت بھی کارفرما ہیں جسے مقامی زبان میں الحاق کردیا یا ،ہوگیا کہتے ہیں جس کی کوئی قانونی اور مسلہ کشمیر کے تناظر میں بین الاقوامی حیثیت نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ گلگت بلتستان کی آزادی کا اصل مقصد بھارت سے الحاق کا نفرت اور مہاراجہ کی بھارت نوازی کے خلاف حکمت عملی تھی جس میں کچھ حد تک کامیابی ملی اور جمہوریہ گلگت دنیا کے نقشے پر یکم نومبر 1947 سے لیکر 16 نومبر تک صرف 16 دن تک قائم رہے۔
محترم قارئین اٹھائیس ہزار مربع میل پر مشتمل مسئلہ کشمیر سے منسلک خطہ گلگت بلتستان صدیوں پر محیط ایک تاریخی خطہ ہے۔ تاریخ کے دریچوں کو کھولیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پانچویں صدی عیسوی سے یہاں دردستان، بلورستان اور بروشال کی ریاستیں قائم تھیں اور اس خطے کو تبت ریاست کی ایک اہم اکائی ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔اُنیسویں صدی میں اس خطے پر سکھوں نے قبضہ کر لیا اور101سال تک ڈوگروں کے ماتحت رہے۔ اس دوران یہاں کے باسیوں نے سکھوں سے آزادی حاصل کرنے کیلئے کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا لیکن اس کے باوجود آزادی نصیب نہیں ہوئی اور بلآخر متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے بعد جب مہاراجہ کشمیر نے بھارت کے ساتھ الحاق کیا تو یہاں کے عوام نے ڈوگرہ سلطنت کے خلاف بغاوت کا علم بلند کیا اور بغیر کسی غیرریاستی امداد کے گلگت بلتستان میں ڈگروہ حکومت کا خاتمہ کردیا ۔اس نومولود ریاست کی بربادی کیلئے غیروں کی سازش اور اپنوں کی روش اور متعصبانہ سوچ نے جو کردار ادا کیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ لیکن اُس آزادی کی بنیاد پر نہ گلگت بلتستان نہ مکمل طور پر پاکستان کا حصہ بن سکے اور نہ ہی ریاست جموں کشمیر میں جو ریاستی حیثیت تھی وہ برقرار رہی۔آذادی کے بعد جس شخص کو پاکستان کے ساتھ رابطہ آفیسر کے طور پر بُلایا تھا اُس نے یہاں پولیٹیکل ایجنٹ اور اسسٹنٹ پی اے نے وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ یہاں انتظامی ڈھانچے کو ایف سی آر اورایجنسی نظام کے تحت چلایا جاتا رہا۔ وقت کے ساتھ ساتھ وفاق کی جانب سے ان عہدوں میں تبدیلی آتی گئی، اور یہاں ریذیڈنٹ، ایڈمنسٹریٹر، چیف کمشنر اور چیف سیکریٹریز کی حیثیت سے وفاقی نمائندے اس خطے کا انتظام و انصرام سنبھالتے رہے۔متنازعہ خطے کو درپیش سیاسی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے1961میں پہلی مرتبہ بنیادی سیاسی نظام کی بنیاد رکھ کر انتخابات کروائے گئے۔
محترم قارئین چار ایٹمی ممالک کے سنگم پر واقع انتہائی حساس اور اہم جغرافیائی اور دفاعی اہمیت کے حامل متنازعہ گلگت بلتستان کو قدرت نے وہ سب کچھ عطا کیا ہوا ہے جو شاید ہی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور خطوں کو میسر ہو۔ کہتے ہیں قطبین کے بعد دنیا کے سب سے زیادہ آبی ذخائر گلگت بلتستان میں گلیشئرز کی شکل میں موجود ہیں، سیاحت،معدنیات اور جنگلات کے حوالے سے بھی اس خطے کا پاکستان میں کوئی ثانی نہیں۔ ہائیڈرو الیکٹرک پروڈکشن کے حوالے سے بھی یہاں 52 ہزار میگاواٹ پن بجلی کے مواقع موجود ہ ہیں لیکن پروڈکشن 20 فیصد بھی نہیں جس کی بنیادی وجہ سرمایہ کاری کیلئے مناسب انتظام نہ ہونا بتایا جاتا ہے۔المیہ یہ ہے کہ اس وقت سی پیک کی تکمیل کیلئےاس خطے کا00 6 کلومیٹر رقبہ استعمال ہوگا لیکن سی پیک کا ایک بھی صنعتی زون گلگت بلتستان میں قائم نہیں کیا گیا بلکہ سی پیک کا پہلا پڑاو سُست گلگت بلتستان سے شروع ہوکر حویلیاں میں لے جایا گیا ہے، دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر گلگت بلتستان میں ہورہا ہے لیکن بدقسمتی سے اور پاور جنریشن ٹربائین کوخیبرپختونخوا کی حدود بھاشا میں رکھا گیا ہے(بھاشا بھی تاریخی اعتبار سے گلگت بلتستان کا حصہ ہے) جس کی اصل وجہ اس خطے کا متنازعہ ہونا بتایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگ آج بھی اس علاقے کو اپنا چراگاہ سمجھتے ہیں۔مگر بدقسمتی سےانرجی جنریشن ٹربائیں بھاشا میں لگا کر رائلٹی خیبرپختونخواہ کو دیا جائے گا۔
محترم قارئین گلگت بلتستان کے باسی ہرسال یکم نومبر کو یوم آزادی مناکر جنگ آزادی گلگت بلتستان کے ان شہیدوں اور غازیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کی بے پناہ قربانیوں کی بدولت یکم نومبر ،اُنیس سو سینتالیس کو مہاراجہ کشمیر سے بغاوت اور الحاق بھارت سے انکار کرتے ہوئے آزادی حاصل کی تھی۔ لیکن بدقسمتی سے یہاں کے عوام آج تک صرف دن ہی مناتے آئے ہیں کیونکہ جیسے راقم  نے اوپر ذکر کیا کہ ہمارے عوام کو آج بھی معلوم نہیں کہ اس آزادی کے اسباب کیا تھے؟ اور کیسے اُس آزادی کو ٹھیک دو ہفتے بعد برطانوی سامراجی ایجنٹوں نے فرقہ واریت سے جوڑکر ایک سازش کے تحت عوام کو گمراہ کرکے قومی ہیروز کو دیوار سے لگا کر ،بغیر کسی معاہدے کے الحاق کا ڈرامہ رچا کر یہاں ایف- سی -آر جیسا کالا قانون نافذ کیاتھا۔ اپنے خطے کے بارے میں آگاہی نہ ہونے کے سبب ہمارے عوام آج بھی آئینی صوبے کا نعرہ لگا کر آنے والی نسلوں کو بھی گمراہ ہی کر رہے ہیں۔ اگر ہم حقیقت کی آنکھ سے اُس وقت کے حالات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی کچھ ہی دنوں میں ،سازشی عناصر نے اس خطے کے مستقبل کو متنازعہ بنانے کیلئے سازشوں کا جال بچھانا شروع کر دیا تھا جس میں اُن عناصر کو کامیابی بھی ملی اور آج بھی یہ خطہ قانونی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں(یہ بیانیہ ریاست پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان کا بھی ہے)۔آگے چل کر اس خطے کے عوام کے ساتھ اُس وقت کے نام نہاد کشمیریوں کے ذریعےیہاں کے عوام سے کسی قسم کی رائے لئے بغیر اٹھائیس اپریل 1949 کو ایک سازش کے تحت مسئلہ کشمیر کے ساتھ منسلک کرکے مزید غلامی کی طرف دھکیل دیا ۔ابھی زخم بھرا نہیں تھا کہ 1963میں ایک بار پھر متازعہ خطے کے عوام سے رائے لئے بغیر “اکسائی چن” جو گلگت بلتستان کا حصہ تھا اسے چین کی تحویل میں دے دیا۔ اسی طرح ذولفقار علی بھٹو کے دور میں ،جہاں گلگت بلتستان کے عوام کو مقامی ڈوگروں(میروں اور راجاوں سے سیاسی آذادی) سے آزادی نصیب ہوئی تو وہیں بھٹو نے اس خطے سے “سٹیٹ سبجیکٹ” قانون کی خلاف ورزیوں کی ابتداء کی اور 1956 میں اسکندر مرزا نے چند مقامی افراد کی ملی بھگت سے مکمل طور پر غیرمقامی صاحب حیثیت افراد کیلئے ایک چراہ گاہ بناکے یہاں کے وسائل اور زمینوں کو ایک طرح سے نیلام کر دیا۔ یوں ہر دور میں اس خطے کے عوام کے ساتھ فراڈ کیا گیا لیکن اس خطے کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے کسی بھی حکومت نے سنجیدگی کا مظاہر ہ نہیں کیا۔ ہر دور میں یہاں قانونی حق کے حصول کیلئے انفرادی اور اجتماعی کوشش کرنے والوں کو ریاستی ظلم اور جبر کا سامنا رہا ۔خدا خدا کرکے 2009 میں وفاق پاکستان نے پہلی مرتبہ اس خطے کو آزاد حیثیت دیکر یہاں الیکشن کرایا مگر اُس الیکشن سے لیکر آج تک کی حکومتوں اور اُن کے اختیارات کے بارے میں بات کریں تو وہ ایک یونین کونسل کے برابر بھی نہیں۔موجودہ مسلم لیگ ن کی حکومت جب سے آئی ہے یہاں خوف اور ڈر کا سماں ہے اس حکومت نے گلگت بلتستان کو ایک طرح سے فورتھ شیڈول زورن بنا رکھا ہے یہاں بنیادی حقوق کیلئے پرُامن جدوجہد ایک طرح سے خطرناک قسم کی جُرم بن چُکی ہے اور اس جُرم کو براہ راست بھارت سے ملا دیا جاتا ہے تاکہ عوام میں ذیادہ خوف ہراس پھیل جائے۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے اس حوالے سے گزشتہ سال شدید خدشات کا بھی اظہار چُکے ہیںاور اس حوالے سے باقاعدہ بی بی سی پر ڈاکومنٹری چل چُکی ہے۔ معاشرتی ترقی اور تعمیر اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے اس خطے کا شمار نصف صدی تک دنیا کی آخری کالونی میں اگر کہیں تو مذاق نہ ہوگا۔
محترم قارئین گلگت بلتستان کا الحاق پاکستان کے حوالے سے کئی ابہام پائے جاتے ہیں،ایک رائے یہ ہے کہ جنگ آزادی کے بعد یہاں کے عوام کی خواہش کے مطابق پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا گیا لیکن اس حوالے سے کوئی قانونی دستاویز موجود نہیں ہے۔دوسری رائے یہ ہے کہ انقلاب گلگت کی ناکامی اور ادھوری آزادی کے بعد یہ خطہ، سابق ریاست جموں کشمیر کی اکائی ہے لہذا اس خطے کی قسمت کا فیصلہ مسئلہ کشمیر کے حل سے مربوط ہیں ۔یہاں کے عوام اس حوالے سے خدشات پایا جاتا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھے تو جب جنگ آزادی لڑی جارہی تھی تب ریاست جموں کشمیر والے کہاں تھے؟ تحریک آزادی کی جنگ میں ریاست جموں کشمیر کے اطراف سے مقامی مجاہدین کیلئے کسی بھی قسم کی امداد فراہم کرنے کا کوئی ثبوت موجود نہیں ۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ صرف مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت الحاق بھارت سے انکار کرتے ہوئے خطے کو آزاد کرایا(یہاں یہ بات بھی معلوم ہونا ضروری ہے کہ گلگت بلتستان کی آذادی ایک دن کا حادثہ نہیں بلکہ اس جہدوجہد کیلئے کرنل مرزا حسن خان نے تقسیم برصغیر کی جدوجہد کے دوران ہی ایک خصوصی خفیہ کونسل تشکیل دی ہوئی تھی)مگر بدقسمتی سےگلگت بلتستان آج بھی قانونی اور آئینی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں لیکن ہمارے وسائل اور قدرتی ذخائر تو مکمل طور پر پاکستانی کہلاتے ہیں۔ یہاں کے عوام آج بھی قانونی شہریت کی بھیک مانگ رہے ہیں اور شدید معاشی بحران کے شکار ہیں اور یہاں کے باشندے معاشی بحران سے مسلسل تنگ آکر شہروں کی طرف رخ کرنے پر مجبور ہیں ۔ یہ بھی ایک تاریخی المیہ ہے کہ دنیا بھر سمیت پاکستان میں اسوقت قانونی صوبوں میں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں وہیں دوسری جانب گلگت بلتستان شائد دنیا کاواحد خطہ ہے جہاں آئینی فریم میں شامل ہونے کیلئے لوگ احتجاج کرتے ہیں۔
اس وقت گلگت بلتستان کا سب سے اہم مسلہ اس خطے کو بطور مکمل پاکستانی یا متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق کا نہ ملنا ہے۔ جیسے میں نے اوپر ذکر کیا کہ 2009 میں پاکستان پیپلزپارٹی نے گلگت بلتستان سلیف گورنمنٹ آرڈننس کے نام سے ایک پیکج دیا جسکا مقصد اس خطے کی محرومیوں کو کم کرنا اور اس خطے کی شناخت کو بحال کرنا تھا اُس پیکج کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان کو نام دیا اور یہاں صوبائی طرز پر ایک انتظامی ڈھانچہ تشکیل دیا جس میں کچھ اختیارات امور کشمیر اور وفاق سے لیکر گلگ بلتستان اسمبلی کو تفویض کیا ۔اُس پیکج کے خلاف بھی قوم پرستوں نے کھل کر احتجاج کیا اور اُنکا مطالبہ تھا کہ گلگت بلتستان کو پیکج نہیں شناخت چاہئے اس احتجاج میں موجودہ حکومت کے وزیر اعلیٰ سمیت اہم رہنماوں نے بھر پور شرکت کی اور گلگت بلتستان پیکج کو مسترد کیا۔
اسی طرح 2015 میں گلگت بلتستان سے پاکستان پیپلزپارٹی کا سورج غروب ہوتے ہی مسلم لیگ نون کی سورج طلوع ہونے کے آثار نظر آیا تو اُنہوں نے بھی عوامی سوچ کے مطابق آئینی حقوق دینے کا نعرہ لگایا لیکن الیکشن کے بعد اس نعرے کی غبارے سے خود وزیر اعلیٰ نے ایک بار نہیں بلکہ کئی بار ہوا نکال دیا۔ اور کہا گیا کہ مسلہ کشمیر اور کشمیریوں کے قربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم وفاق کو اس سلسلے میں تنگ نہیں کریں گے لیکن آئینی صوبے کیلئے قانون ساز اسمبلی سے بھاری اکثریت کے ساتھ بل بھی پاس ہوگیا۔ اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دیا جنہوں نے دو سال کے بعد جو تجاوزیر حکومت کو پیش کیا اُس میں کہا گیا کہ گلگت بلتستان چونکہ مسلہ کشمیر سے منسلک ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس خطے کی منتازعہ حیثیت کو چھیڑنے سے پاکستان کو عالمی سطح پر بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے مسلہ کشمیر پر پاکستان کی موقف میں کمزوری آسکتا ہے لیکن گلگت بلتستان کو عبوری طور پاکستان کے دیگر صوبوں کی طرح ملک کے تمام آئینی اداروں میں نمائندگی کو یقینی بنائیں لیکن کہا یہ جاتا ہے کہ سرتاج عزیز کمیٹی کے اصل متن کوبلکل کنارے لگا گلگت بلتستان پر ایک آرڈر مسلط کردیااور اُس آرڈر کے بہت سارے شقات میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف وزری کا ذکر سامنے آیا اور سب سے بڑھ کر اس خطے کے حوالے سے تمام تر اختیارات کا منبع وزیر اعظم پاکستان کو قرار دیا اور وزیر اعظم کو عدالتی اور مقامی اسمبلی کے فیصلوں کو مسترد کرنے کا حق دینے کی باتیں ہوئی۔ جبکہ اس خطے کے عوام کو وزیر اعظم کی انتخاب کیلئے ووٹ کاسٹ کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے متنازعہ شقیں موجود ہیں ۔اس حوالے سے عوامی ایکشن کمیٹی سمیت متحدہ اپوزیشن بہت زیادہ متحرک نظر آئے اورگلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن کے رہنماوں سابق وزیر اعظم مہتاب عباسی کے سامنے گلگت بلتستان اسمبلی کے اندر گلگت بلتستان آرڈر 2018 کے بھرپور احتجاج کیا اور اسی طرح
نے خطے کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کے سامنے اس آرڈر کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔
اس وقت گلگت بلتستان کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اور اس حوالے سے چیف جسٹس آف پاکستان نے لارجر بنچ تشکیل دیکر گلگت بلتستان کے محرومیوں کی ازالے کیلئے سپریم کورٹ فعال نظر آتا ہے اور یکم نومبر یوم آزادی گلگت بلتستان کے دن لاجر بنچ نے گلگت بلتستان کے حوالے سے تاریخی فیصلہ کرنا ہے یا ممکن ہے کہ ملتوی ہوجائے۔ لیکن دفتر خارجہ کے تازہ ترین بیان کے بعد یہ بات واضح ہوگیا کہ گلگت بلتستان کو وہ حقوق تو ممکن نہیں جسکا یہاں کے عوام مطالبہ کرتے ہیں ۔لیکن گلگت بلتستان کو اقوام متحدہ کی چارٹرڈ پر عمل درآمد کرتے ہوئے حقوق دیا جاسکتا ہے جو گلگت بلتستان کیلئے مسلہ کشمیر کی حل تک کیلئے آزاد کشمیر کی طرز پر اس نظام نے بااختیار سیٹ اپ ہوگااور اس سیٹ اپ سے نہ ہی مسلہ کشمیر پر کوئی آنچ آئے گا اور نہ ہی گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی آئے گی۔ جیسا کہ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا حصہ تھا ہے اور رہے گا مگر بدقسمتی سے گلگت بلتستان کے عوام اس بیانئے کے تحت حقوق سے محروم ہیں جس میں سب سے اہم دیگر متنازعہ خطوں میں نافذ قانون باشندہ 1927(سٹیٹ سبجیکٹ رول) کی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت گلگت بلتستان میں عوامی زمینوں کی بندربانٹ ایک سنگین شکل اختیار کرگیا ہے جو آنے والے سالوں میں مزید گھمبیر صورت حال اختیار کرسکتا ہے۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ جب گلگت بلتستان جموں کشمیر کا حصہ تسلیم کرتے ہیں تو جموں کشمیر میں نافذ قوانین بھی گلگت بلتستان میں نافذ ہونا وقت کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے گلگت بلتستان اسمبلی میں متحدہ اپوزیشن اور عوامی ایکشن کمیٹی جنہیں گلگت بلتستان کے تمام سیاسی سماجی ارو مذہبی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے،مطالبہ کرچُکے ہیں کہ اگر گلگت بلتستان کو ایکٹ آف پارلمینٹ کے تحت حقوق دینے سے مسلہ کشمیر خراب ہوسکتا ہے تو دفاع کرنسی اور خارجہ امور کے علاوہ تمام اختیارات گلگت اسمبلی کو منتقل کریں اور یہاں کی اسمبلی کو آذاد کشمیر اور بھارتی مقبوضہ کشمیر کی طرح آئین سازی کا اختیار دیں۔
تحریر : شیر علی انجم

  •  
  • 49
  •  
  •  
  •  
  •  
    49
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*