تازہ ترین

27 اکتوبر یوم سیاہ کشمیر

27 اکتوبر 1947 تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے جب بھارتی فوج نے سرینگر میں اترتے ہی کشمیری عوام پر مظالم ، قتل و غارت گری اورانسانی حقوق کی بدترین پامالی کے اس سلسلے کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہےلیکن بھارتی فوج کے جبری قبضے،مظالم اور تشدد کے باوجود کشمیریوں نے نہ کبھی بھارتی تسلط کو تسلیم کیا ہے اور نہ کرینگے،یہی وجہ ہے کہ 27اکتوبر کو کنٹرول لائن کے آر پار اور دنیا بھر میں کشمیری 27اکتوبر کو یوم سیاہ کے طور پر مناتے ہیں یاد رہے کہ بھارت اس وقت خطہ کشمیر کے 101،387 مربع کلومیٹر رقبہ پریاستی جبر وتشدد کے ذریعے قابض ہے ،اوراس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کشمیریوں کو ان کا ناقابل تنسیخ حق، حق خود ارادیت دینےکی قرار داد کے باوجود 70 برس بعد بھی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل میں عملا ناکام چلی آرہی ہے جو یقینا ً اس موقر ادارہ پر اٹھنے والا غیر معمولی سوال ہے ،جب کہ بھارتی فورسز نے صرف 1989 سے اب تک 94 ہزار 846 سے زائد کشمیریوں کو شہید کردیا،جن میں سے 7 ہزار 99 کو جعلی مقابلوں یا حراست میں شہید کیا گیا۔کشمیر میڈیا سروس کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز نے 8 جولائی 2016 کو معروف نوجوان راہنما برہان مظفر وانی کے ماورائے عدالت قتل کے بعد شروع ہونے والے پرامن احتجاجی مظاہروں پر بے دریغ طاقت کا استعمال کرتے ہوئے گولیوں، پیلٹ گنوں اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 169بے گناہ کشمیریوں کو شہید کر دیا تھا ،مجموعی طور پر بھارتی فورسز کے حملوں میں 20 ہزار 443 افراد زخمی ہوئے، صرف پیلٹ لگنے سے 8 ہزار 276 افرادزخمی ہوئے، جن میں 73مکمل طور پر نابینا اور1 ہزار 841 کی بینائی جزوی طور پر متاثر ہوئی۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ اس عرصے کے دوران حریت رہنمائوں اور کارکنوں سمیت 18 ہزار531 افراد کو گرفتار کیا، جن میں سے 804 افراد پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگو کیا گیا،اسی طرح بھارتی فورسز نےکشمیریوں کی تحریک آزادی کے دوران 65 ہزار 548 گھروں یا عمارتوں کو نقصان پہنچایا، 53 اسکولوں کو نذر آتش کیا، 732خواتین کی بے حرمتی کی اور کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کیلئے 1 ہزار 229 کارروائیاں بھی کیں ،رپورٹ میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ رواں برس جنوری سے اب تک فوجیوں نے 249 کشمیریوں کو شہید کر دیا، جن میں سے 22 کو دوران حراست یا جعلی مقابلوں میں شہید کیا گیا۔بلاشبہ کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی فہرست بہت طویل اور المناک ہے ،اور پاکستان نے ہمیشہ کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے حق اور بھارتی ریاستی جارحیت کے خلاف عالمی فورمزپر مضبوط انداز میں آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتا رہےگا،یہی وجہ ہے کہ کشمیری قیادت سمیت پوری دنیا اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی شمولیت کے بغیر غیر مؤثر اور منطقی انجام کو نہین پہنچ سکتا ہے ،اطلاعات کے مطابق بھارت کی طرف سے کشمیری قیادت کو مذاکرات کی پیش کش کے ردعمل میں حریت کانفرنس نے مذاکرات کو پاکستان کی شمولیت کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے کہ پاکستان کےبغیر مقبوضہ کشمیرپرمذاکرات نہیں ہوسکتے ہیں ،حریت راہنماؤں کاکہنا ہے کہ جب تک تینوں فریق کشمیری،بھارت اور پاکستان مذاکرات کی میز پر نہیں آئیں گے مسئلہ حل نہیں ہوگا،جب کہ حریت رہنماؤں نے مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فوج کی جبری قبضے کے خلاف آج 27اکتوبر 2018 کو یوم سیاہ منانے کی اپیل پر منایا گیا جبکہ دنیا سمیت پاکستان بھر کی طرح گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں بھی مقبوضہ کشمیر پر بھارتی فورسز کی جبری تسلط کے خلاف 27 اکتوبر یوم سیاہ منایا گیا۔سید عبدالوحید شاہ کمشنر دیامر استور ڈویژن کی سربراہی میں ضلعی انتظامیہ نے ہائی چلاس سے کے آئی یو دیامر کیمپس تک ریلی نکالی۔جس میں فلاحی تنظیموں اسکول کے طلباء سیاسی و سماجی راہنماؤں اور سول سوسائٹی نے شرکت کی۔اور کشمیر پر 71 سالوں سے بھارتی غاصبانہ ظلم و بربریت کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی اور کشمیریوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ کشمیر کی حق خود ارادیت کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور مظلم کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم جبر و تشدد بند کروایا جائے۔اس دن کی مناسبت سے کے آئی یو کیمپس دیامر میں خصوصی سیمینار کا بھی منعقد ہوئی۔منعقدہ سیمینار میں شبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔سیمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا ہوا اور باقاعدہ قومی ترانہ سے شروع کیا گیا۔تقریب کے شرکاء سے ترجمان حکومت گلگت بلتستان فیض اللہ فراق،کمشنر دیامر استور ڈویژن سید عبدالوحیدشاہ ،ڈی ڈی رحیم شاہ،دیامر یوتھ مومنٹ صدر شبیر احمد قریشی و دیگر نے خطاب کیا۔مقررین کا کہنا ہے کہ بھارتی ریاست کی مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ابھی تک تقسیم ہند مکمل نہیں ہوا جب تک کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کے وجود میں نہیں آتا۔سیمینار کی اس تقریب میں دیامر کے صحافیوں کے درمیان یوم سیاہ کشمیر کی مناسبت سے ڈوکومینٹری پیکیج کا بھی مقابلہ کرایا گیا جس میں سینئر صحافی شفیع اللہ قریشی نے 1st پوزیشن حاصل کی اور دوسرے نمبر پر راجہ اشفاق طاہر جبکہ تیسرے نمبر پر نوجوان صحافی عمر فاروق فاروقی نے حاصل کی۔اس دوران مختلف اسکولوں کے طلبہ نے یو سیاہ کشمیر کی مناسبت سے تقاریر بھی پیش کی گئی۔بعد ازاں ڈوکومینٹری پیکیجز اور تقریری مقابلے میں حصہ لینے والے صحافیوں،اساتذہ اور طلبہ کو انعامات سے نوازا گیا ۔ضرورت اس امر کی ہے اقوام متحدہ مسئلہ کشمیر پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرکے اس پر عمل درآمد کو یقینی بناکرخطے میں امن قائم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے،یہی 27 اکتوبر کی آواز بھی ہے اور کشمیری عوام کے جذبات کی ترجمانی بھی۔

تحریر:صحافی شفیع اللہ قریشی

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*