تازہ ترین

گلگت بلتستان میں تعلیمی اصلاحات۔ وقت کی اہم ضرورت

یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستا ن کا تعلیمی نظام پچھلے کئی دہایئوں سے ساکت و جامد ہے۔ سب جانتے ہیں کہ تعلیم کسی بھی قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور جو قومیں اپنے اپنے معاشروں میں جدید تعلیمی اصلاحات سے دور ہوتی ہیں ،اُن معاشروں کے اخلاقی اقدار زوال پذیر ہوتے ہیں کیونکہ تعلیمی ترقی اور نظام میں پائیداری کا انحصار اُس معاشرے کے معاشرتی اقدار پر منحصر ہوتا ہے۔ اگر معاشرے میں تعلیمی نظام کے ذمہ دار افراد تعلیمی نظام تشکیل دیتے وقت اگر اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے معاشرے کی ترقی کو سامنے رکھ کر تعلیمی نظام ترتیب دیں تو کوئی وجہ نہیںکہ ملک اور معاشرہ کے افراد ہر شعبہ زندگی میں ترقی کے منازل طے کرے۔
تعلیم کا مقصد فرد کی رویے میں تبدیلی لانا اور ذہنی بالیدگی کا نام ہے۔ ایک مربوط اور بہتر تعلیمی نظام کی تشکیل سے ہی معاشرے میں تبدیلی ممکن ہے۔ اسطرح حکومتوں کا فرض بنتا ہے کہ کسی نسلی، علاقائی اور سیاسی تعصب کے بغیر معاشرے کے ہر فرد کے لیے ایک ہی معیار پر مبنی تعلیم کا بندو بست کیا جائے۔
ہمارے بزرگوں کے مطابق گلگت بلتستان میںآزادی سے قبل ڈوگروں کے دور میں اگر چہ تعلیمی ادارے آ ج کی نسبت بہت کم تھے اور گلگت ،سکردو، کرگل لداخ میں لڑکوں کے لیے صرف مڈل سطح تک تعلیم کا بندوبست تھا مگر ڈوگروں کی سخت ریاستی قوانین اور مروجہ تعلیمی نظام کی وجہ سے مڈل پاس افراد آج کے دور کے کالج طلبہ سے زیادہ قابلیت، فہم و فراست اور ذہنی بالیدگی رکھتے تھے۔کہتے ہیں کہ ڈوگروں کے دور میں قانون تھا کہ اساتذہ اور تعلیمی شعبے میں کام کرنے والے دوسرے ملازمین کا ہر تین سال بعد اپنے علاقے سے دوسرے اضلاع یعنی کرگل، سرنیگر، سکردو وغیرہ تبادلہ کیا جاتا تھا۔ سفارش اور رشوت نام کی کوئی چیز اُس زمانے میں تعلیمی نظام میں شامل نہیں ہوتی تھی۔ سکولوں کی سربراہی میرٹ اور قابلیت پر ہوتی تھی۔ کہتے ہیں کہ انسپیکشن کرنے والا شخص کارگل میں بیٹھ کر بھی بلتستان کے سکولوں پر گہری نظر رکھتا تھا۔ اًن کا کام صرف سکولوں کی کارکردگی کو جانچنا ہوتا تھا اور ادارے میں کمی بیشیوں کو دور کر کے اور ا ساتذہ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اًن کی بر وقت اصلاح کرکے تعلیمی نظام کو بہترانداز میں چلانا ہوتا تھا اور ہمارے آج کے دور کے نظام کے برعکس افسراان اپنے دفتروں میں بیٹھ کر کتابی باتیں کرنے کی بجائے عملی طور پر تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کام کرتے تھے۔ آزادی کے بعد80 ء کی دہائی تک ہمارا نظام تعلیم اًسی ڈگر پر چلتا رہا اور گو رنمنٹ سکولز سے پڑھے ہوئے ان گنت افراد نے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں نام پیدا کیا۔ ماہرین کے مطابق مربوط نظام تعلیم اور طلبہ کی ذہنی استعداد کار کے مطابق نصاب کی تشکیل ہی ماضی کی تعلیمی ترقی کی ضامن تھی۔ ماضی کے مقابلے میں ہمارے ہاں سکولوں اور کالجز کی تعداد میں بے حداضافہ ہوا ہے مگر ان اداروں سے فارغ ہونے والے طلبہ میں وہ قابلیت اور فہم و فراست نہیں جو آج کے دور اور جدید تعلیمی نصاب کے وجہ سے ان میں ہونی چاہیئے۔ آج کے دور میں ٹیچنگ کا مطلب طلبہ کو صرف درسی کتابیں پڑھ کر سنانا ہے جیسے کسی ان پڑھ کو کوئی خط پڑھ کر سناتا ہے۔ حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبال موجودہ زمانے کے اساتذہ سے متعلق بہت پہلے کیا درست فرما گئے ہیں:
شکایت ہے مجھے یا رب خداواندان مکتب سے
سبق شاہین بچوں کو دے رہے ہیں خاک بازی کا
اب نصاب پر ایک نظر ڈالئیے ۔ ماہرین تعلیم کے مطابق نصاب سے مراد وہ لمبا اور سیدھا راستہ ہے جس پر چل کر طالب علم اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔ ماہرین نصاب میں مدرسے کی عمارت، گراونڈ اور دیگر اشیاء کو بھی شامل کرتے ہیں جس سے طلبہ کو تعلیم حا صل کرنے میں مدد ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ اور امریکہ اور خود ہمارے اپنے ملک میں سکولوں کی عمارتوں کے ساتھ کھیلوں کے لیے گراونڈز اور دیگر لوازامات ضروری سمجھتے ہوئے اس بات کا خاص خیال رکھتے ہیںلیکن گلگت بلتستان کے سکولوں اور کالجز میںیہ صورت حال بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے خصوصاً گرلز کالجز اور سکولوں میں کھیلوں کی سہولت خال خال ہی نظر آتی ہے ۔ دوسری طرف وقت کے ساتھ ساتھ نصاب میں بھی تبدیلی کو ضروری سمجھا جاتا ہے لہذاٰ اس پر اب عمل درآمد ہونے تو لگا ہے لیکن اساتذہ کو ساتھ تربیت دینے کی ضرورت کو بہت کم محسوس کیا جاتا ہے اس لیے یہ عمل نہایت سست روی کا شکار ہے نتیجتاً نصاب کی تبدیلی کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہو رہا ہے۔
علاوہ ازیں علاقے میں بہت کم فاصلوں پر سیاسی مصلحت کی خاطر جا بجا سکول کھولے گئے ہیں۔ان میں سے بعض صرف دو کمروں پر بھی مشتمل ہیں۔اس کی بجائے بہتر یہ ہے کہ جی بی کے ہر بڑے شہر میں ایک فیڈرل بورڈ سے منسلک جدید حکومتی ملکیت کے پبلک سکولز کا قیام عمل میں لایا جائے جو کسی نظام تعلیم سے مربوط ہو جہاں نرسری سے لیکر ایف اے ،ایف ایس سی تک تعلیم معمولی فیسوں کے عوض دی جائے ، جہاں سے تعلیم پا کر ہمارے طلبہ آگے اپنا راستہ خود متعین کرسکے۔
آج ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں تعلیم اور علم کو ایک ہی ترازو میں تولا جاتا ہے۔ ہمارے اساتذہ تعلیم اور علم میں فرق کی وضاحت سے قاصر ہیں۔ کئی دہائیوں سے ہمارے ہاں قابلیت اور اہلیت کا معیار محنت، لگن اور جستجو کی بجائے سفارش اور سیاسی اثرو رسوخ کو سمجھاجاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم تعلیمی اصلاحات سے بہت دور ہوتے جارہے ہیں۔ ہمارے موجودہ بوسیدہ نظام تعلیم میں اساتذہ کی تربیت کا مقصد صرف ٹی اے ،ڈی اے وصول کرنے تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ان حالات میں جی بی میں تعلیم کے شعبہ میں
ضروری اصلا حات لانا وقت کی اہم ضرورت ہے اگرچہ یہاں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات لانے کی مثال ایسی ہے جیسے تیز ہوا، بارش اور پھسلن میں پہاڑ پر چڑھنا۔ یعنی یہ امر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ ابتدائی اور پرائمری تعلیم طلبہ کی تعلیمی کیرئیر پر بہت گہرا نقش چھوڑ جاتے ہیں۔ پرائمری سکولز کے اساتذہ ہی ہماری آنے والی نسل کی تشکیل کرتے ہیں۔ اگر پرائمری سطح پر ایسے اساتذہ کو تعینات کیا گیا جنھیں پرائمری سطح پر پڑھانے کا تجربہ اور ٹریننگ نہ ہو، ساتھ ساتھ طلبہ کے ذہنی استعداد کار سے واقف نہ ہو تو ایسے اساتذہ کے پاس پڑھنے والے بچے کی کامیابی کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں یورپ اور امریکہ کے نظام تعلیم کی نقل کرتے ہوئے وہاں کے سکولوں میں رائج سسٹم مثلاً نرسری کلاس کی جگہ ECD کلاسز وغیرہ کا اجراء تو کردیا مگرہمارے ۳ تا ۵ سال کے بچے ذہنی اور دماغی طور پر ترقیاتی ممالک کے بچوں سے سست ہوتے ہیں۔ زچگی اور اس کے بعد بچے اور ماں کو متوازن خوراک کا نہ ملنا، عدم میڈیکل سہولیات اور دیگر بہت سی وجوہات کے بنا پر ہمارے بچوں کی دماغی و ذہنی کارکردگی ترقی یافتہ ممالک اور ہمارے اپنے ملک کے شہری علاقوں کے بچوں کی نسبت بہت پیچھے ہوتے ہیں۔ ایسے میں اپنے ماحول اور سہولیات کو مدنظر رکھے بغیر ا مپورٹڈ سسٹم کی کسی حصے کو اپنے ہاں نافذ کرنا تعلیمی خودکشی کے مترادف ہوگی۔
ہمیں چاھئیے کہ ہم اپنے معاشرتی و معاشی ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسے نظام تعلیم تشکیل دیں جو ہمارے لئے صحیح معنوں میں مفید ہو، جدید نظام تعلیم کو اپنانا کوئی بری بات نہیں مگر ایک دم سے جدیدیت کی جانب چھلانگ مارنے سے بہتر ہے ہم ایک ایسے نظام کی تشکیل کریں جو ہماری قوم کے نونہالوں کو قدم بہ قدم جدید نظام تعلیم کی طرف لے جاسکے۔ گلگت بلتستان میں تعلیمی ترقی کے حصول کے لیے کوئی تحقیقاتی ادارہ موجود ہے اور نہ ہی تحقیق کرنے کے خواہشمند سکالرز کو حکومت کی جانب سے مالی تعاون حاصل ہے ایسے میں ہم بحیثیت قوم تعلیم کے شعبے میں جہاں کھڑے ہیں ،وہ سب کے سامنے ہے۔
ہمارے ہاں اساتذہ کے پیشہ وارانہ قابلیت کو بڑھانے کے لیے جو کورسسز ہوتے ہیں ان میں بچے کی نفسیات کو جاننے کے لیے عملی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں اس کے علاوہ سماجی سائنسز کے بارے میں معلومات اور کسی ایک مضمون میں اعلیٰ مہارت سے لیس کرنے پر بھی توجہ نہیں دی جاتی۔ یہ ایک بہتر فیصلہ ہے کہ این ٹی ایس سسٹم کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔ سکولوں کے چیک اینڈ بلینس کے لیے یا تو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے براہ راست ایجوکیشن افسران کی تعیناتی عمل میں لائی جائے یا ان سروس اساتذہ کو ٹسٹ و انٹرویو کے ذریعے اس عمل میں شامل کیا جائے۔ سنیارٹی کی بنیاد پر کی جانے والی افسراان کی بھرتیاں ہی ہمارے نظام تعلیم کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے جس کا خمیازہ ہم ابتک بھگت رہے ہیں اور اگر یہی نظام چلتا رہا تو شائد علاقے میں کبھی بھی تعلیمی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو۔
نظام تعلیم کا سب سے اہم جًز اساتذہ کے تربیتی ادارے اور ان میں ٹریننگ دینے والے انسٹرکٹرز ہیں۔ انسٹرکٹرز کی تعیناتی کے موجودہ طریقہ کار میں بھی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ بہترین دماغ اور قابلیت رکھنے والے اساتذہ کو مزید ٹریننگ دے کر ہی تربیتی اداروں میں انسٹرکٹرز کے فرائض سونپے جائیں۔ ہمارے ہاں کالج آف ایجوکیشنز اور مڈل و ہائی سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ اور انسٹرکٹرز کے پے پیکجز میں ذرہ بھر فرق نہیں، ہونا تو یہ چاھیئے تھا کہ کالج آف ایجوکیشنز کے انسٹرکٹرز کے پے پیکجز دوسرے اساتذہ سے دوگنی ہو تاکہ اعلیٰ معیار کے انسٹرکٹرز میسر ہوں۔ ساتھ ساتھ علاقے کے حالات اور دستیاب وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے کالج آف ایجوکیشن کے انسٹرکٹرز اور سکولز ہیڈز صاحبان کو تعلیم کی بہتری اور ترقی کے اسباب اور اس کے مختلف پہلوئوں پر تحقیق کرنے کی بھی ذمہ داری سونپی جائے اور ان تحقیقی مقالوں کی روشنی میں ایک نئے تعلیمی نظام کی تشکیل عمل میں لائی جائے جو ماضی و حال کی ساکت و جامد نظام کی بجائے ایک Dynamic نظام ہو جس میں تحقیق کی روشنی میں اصلاح کی ہر وقت گنجائش موجود ہو۔
فیڈ بیک کے لیے nabiwani8@gmail.com

تحریر: نبی وانی

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*