تازہ ترین

معذور،بھکاری،جمہوریت اور اسلام

ایک دن میں اپنی دوکان کے سامنے دھوپ سیک رہا تھا اور شاید کسی گہری سوچ میں تھا کہ ایک ہاتھ جو میرے کاندھے پر تھا چونکا دیا ۔۔ ایک اجنبی شخص نے جیپ سے 10 روپے نکالے اور تھماتے ہوے کہا بھائی میرے حق میں دعا کرنا۔میں اس وقت ششدر رہ گیا نہ پیسے واپس کرسکا اور نہ ہی ہاتھ میں اٹھانے کی ہمت ہوی۔پیسے میری گود میں گر گئے وہ شخص بہت سارا ثواب اکھٹا کر کے چل دئے۔
اسی طرح کچھ دن پہلے میں اور میرا اک دوست ایک دھرنے میں اظہار یکجہتی کیلئے گئے تھے جونہی سٹیج کے پاس پہنچے سٹیج پر موجود شخص جو اچھا خاصا پڑھا لکھا نظر آرہا تھا آو دیکھا نہ تاو اعلان فرمانے لگے ہمارے کچھ معذور دوست آئیں ہیں ان کے لیے چندہ اکٹھا کریں ۔
اس طرح کے واقعات شاید بہت سارے معذور دوستوں کو آے روز پیش ہوتے ہونگے جو اپنی خودی کو قائم رکھتے ہوئے ایک عملی زندگی گزارنے کی کوشش کرتےہیں۔جب بھی ایسے واقعات پر غور کرتا ہوں تو اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہوں شاید ہمیں بھکاری سمجھنے والوں کی اتنی غلطی نہیں کیونکہ ان کی ذہنی پرورش ہی اس طرح نہیں کی گئی ہے کہ اگر کوئی کمزور طبقہ جو پستی کی طرف جارہا ہو اسے اوپر کیسے لیکر انا ہے۔ کیونکہ ہم اسلامی جمہوری پاکستان کے باسی ہیں تو اسلام اور جمہوریت دونوں ہی برابری کی سطح کی بات کرتا ہے۔مگر یہاں اسلام اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھنے والے دونوں قوتیں نے دلاسہ اور جنت کی لالچ کے سوائے کچھ نہیں دیا۔ مولوی کہتا ہے یہ تو اللہ کا امتحان ہے اور اس کا اجر روز محشر میں ملے گا۔
دنیا کا ٹھکانہ عارضی ہے اصل حیات تو دوسری دنیا کی ہے۔مگر اپنے وعظ میں معاشرے کو یہ تربیت نہیں دیتا کہ ان کمزور طبقوں کو کیسے اپنے برابر لانا ہے۔اگر دنیا عارضی ہے اور روز حشر میں نوازا جانا ہے تو کیوں میرے عالم دین بھی میرے نبی کریم ,اصحاب رسول، اور پنجتن پاک کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے مٹی کے گھروں میں رہ رہے ہیں؟ کیوں نہ پیوند لگے کپڑے پہنتے ہیں؟ کیوں نہ عبدالستارایدھی کی طرح پوری زندگی ایک ہی جوڑہ کپڑے میں گزارتے ہیں ؟
اگر میں سوال کروں تو واجب القتل اور اسلام کو خطرہ اور جب وقت کے خلیفہ سے ایک چادر کا سوال ہو تو وہ جوابدہ ہوتا ہے۔اب بات کرتے ہیں جمہوریت کی اور جمہوریت کی راپ الاپتے والوں کی ۔میری ہمیشہ سے خواہش رہی کہ کاش ہم یا تو مکمل اسلام کا نفاظ کرتے یا مکمل جمہوری نظام پر عمل کرتے۔ جس طرح قرآن مجید کی آیتوں کا ہر بندہ اپنے حساب سے تشریح کرتا ہے ٹھیک اسی طرح آئین پاکستان کا ہر بندہ ضرورت کے مطابق اس کو موڑنے کی کوشش میں لگا ہے آئین پاکستان کی روح سے اس ملک میں بسنے والا انسان برابری کی بنیاد پر اپنی زندگی گزار کا حق رکھتا ہے۔مگر اس نظام میں دن بدن کمزور طبقہ اور کمزور اور طاقتور اور طاقتور بنتا جارہا ہے۔
ہمارے سیاست دان اور علماء کرام مثالیں یورپ اور مدینے کی ریاست کا دیتے ہیں مگر اس پر خود کتنا عمل کرتے ہیں یہ آپ خود واقف ہیں۔اگر ہمارے معاشرے پر غور کیا جائے تو اسلام اور جمہوریت کی کچھی رسی سے باندھ کر رکھنے کی کوشش کی گئی ہے چند خاندانوں کے مفاد کے لیے۔۔ ہونا تو یہ چاہے تھا اس اسلامی جمہوریہ پاکستان کو پوری کائنات کے لئے ایک مثال بناکر پیش کیا جاتا ایسے ہوتے ہیں توحید پر یقین رکھنے والے۔ مگر یہاں چند طاقتور خاندان اس ملک اور اسلام دونوں پر قابض ہوگئے۔ جن کی وجہ سے آج جمہوریت اور اسلام دونوں ان پر ماتم کناں ہیں۔۔
بات کہاں سے شروع ہوئی کہاں پر نکل گئی ۔دعا گو ہوں اللہ سب کو صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین۔

تحریر : امجد ندیم

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*