تازہ ترین

ضلع کھرمنگ غاسنگ کے زرعی وادی چھوچن(ذیادہ پانی والا جگہ) حکومتی توجہ کے منتظر۔

کھرمنگ (خصوصی رپورٹ)اس وقت گلگت بلتستان میں داخلی طورپر معاشی استحکام لانے کیلئے مسلم لیگ نون کے حکومت کی جانب سے جو اقدام اُٹھایا جارہا ہے وہ کچھ عوامی خدشات کے باوجود ایک بہترین ڈائرکیشن کی طرف جارہا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ وزیر اعلیٰ اس معاملے میں منظر نظر علاقوں کو لاڈلے نگاہ سے دیکھتے ہیں۔مگر خوشی اس بات پر ہے کہ گلگت بلتستان کو ماضی بعید میں ایک زرعی خطے کے طور پر جانے جاتے تھے ، کو دوبارہ اُس راہ پر لے جانے کی کوشش ایک نیک شگون عمل ہے۔
اس اقدام سے گلگت بلتستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا یہاں کے باسی جو اس وقت حکومت کی جانب سے زرعی شعبے میں عدم توجہی کے سبب ذریعہ معاش کیلئے شہروں کی طرف رُخ کرنے پر مجبور ہیں۔ امید ہے آنے والے سالوں میں گلگت بلتستان معاشی طور ایک مستحکم اور پاکستان بھر میں زرعی اجزاء سپلائی کرنے والے خطہ کہلائے گا۔
موضع غاسنگ کو ضلع کھرمنگ کا وسیع علاقہ سمجھا جاتا ہے اس موضع کی آبادی کاری میں ماضی کے قیادتوں نے بہترین حکمت عملی کے تحت کام کیا اور لب دریا سندھ ایک وسیع عریض علاقے کو آباد کرکے پورے غاسنگ کی سطح پر تقسیم کیا۔اُس تقسیم کی شفافیت پر کئی سوالات کے باوجود آج اس پالیسی کو عوام دوست پالیسی سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح شارع کھرمنگ سے متصل پولی کنال بھی علاقہ غاسنگ کا ایک آبائی بندوبستی اثاثہ ہے جو کبھی کھیت کھلیار تھے آج ویران نظر آتا ہے ۔ اس وسیع رقبے کو آباد کرنے کیلئے بھی ماضی میں کئی بار کوشش تو کی گئی لیکن چند افراد کے مفادات کا شکار ہوگئے اور یہ وسیع رقبہ اہل علاقہ کی معاشرتی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت کا منظر پیش کررہا ہے ورنہ اس علاقےکو قلیل سرمائے کے ساتھ آباد کیا جاسکتا تھا۔
چھوچن(جس کا لفظی معنی ذیادہ پانی والا جگہ ہے) کیونکہ ماضی بعید میں غاسنگ میں منظم کوہل سسٹم نہ ہونے کی اور غاسنگ ندی میں پانی کی کمی سے شدید پانی کی قلت کا سامنا رہتا تھا لیکن ہمارے آباو اجداد پانی کی قلت کو دور کرنے کیلئے زمانہ قدیم سے ایک طویل کوہل جو منٹھوکھا نالے سے لایا گیا ہے یوں پانی کا یہ قلت یقینا اُس زمانے کے لحاظ سے کم ہوگیا ہوگا۔ لیکن غاسنگ ٹاون سے صرف چند کلومیٹر فاصلے پر واقع بالائی علاقہ چھوچن جہاں لوئر غاسنگ سے ذیادہ سے لوگوں کی زمینیں اور پھلدار اور غیر پھلدار خاص طور خوبانی کے درخت سے مالا مال ہیں۔لوئر غاسنگ کے بہت سے خاندان ایسے بھی ہیں جن کا ٹاون غاسنگ سے ذیادہ بلائی غاسنگ چھوچن میں زمینیں موجود ہیں۔ اور ماضی قریب میں یہاں لے لوگ سال میں چھے ماہ غاسنگ نالے میں کاشت کاری کرتے اور وہیں رہتے تھے آج بھی غاسنگ میں ایسےچندخاندان ہیںجو تمام تر مسائل کے باوجودخاندان کا گزربسراسی چھوچن سےپوراکرتےہیں لیکن سڑک اورسہولیات نہ ہونےکی وجہ سےابھی تک کئی افراد لقمہ اجل بن چُکے ہیں۔اس خوبصورت وادی کی خاص خوبی یہ ہے کہ یہاں کے زمینوں کو چشموں کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے یہاں آلو اور میٹھا مولی خصوصی طور پر اگائے جاتے ہیں اس کے علاہ مٹر بھی یہاں سے اگایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں سیاحت اور معدنیات کے حوالے سے بھی کثیر مواقع موجود ہیں۔
چھوچن غاسنگ اس وقت حکومت عدم توجہی کے سبب ہر گزرتے دن کے ساتھ ویران ہوتا جارہا ہے کیونکہ مواصلاتی نظام نہ ہونے اور معاشی طور عوام مستحکم نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے باسیوں کیلئے اس زرعی وادی کومزید آباد رکھنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس وادی تک پونچنے کیلئے دو بار سڑک منظور ہوئے لیکن کرپشن کا شکار ہوگیا اور آج یہ سڑک محکمہ تعمیرات عامہ کی بے حس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ یہ علاقہ سکردو شہر سے صرف 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے حکومت اگر اس خوبصورت وادی پر توجہ دے تو یہ وادی گلگت بلتستان میں خاص طور پر ضلع کھرمنگ میں زرعی ترقی اور سیاحتی حوالے کے حوالے سے مثالی اور فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔ جس کیلئے اولین ضرورت اس خوبصورت وادی تک سڑک کا ہونا ہے ۔لہذا حکومت کو چاہئے کہ غاسنگ نالہ کے قدیم سڑک کو مزید وسیع کرکے چھوچن غاسنگ کو بھی گلگت بلتستان میںزرعی ترقی کیلئے اُٹھائے جانے والے اقدامات میں شامل کرنے کی ضررورت ہے۔

  •  
  • 87
  •  
  •  
  •  
  •  
    87
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*