تازہ ترین

سپریم کورٹ کا گلگت بلتستان پر حکم نامہ،سوشل میڈیا پر دھوم، اہم لیڈران کا بڑا مطالبہ۔

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت سے متعلق زیر سماعت کیس پر عدالت نے گلگت بلتستان کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر جواب طلب کرلیا ہے اور حکومت کا حکم دیا ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے یکم نومبر کو سے رپورٹ جمع کرائیں۔
اس کیس کے حوالے سے گلگت بلتستان میں ایک نئی بحث چھیڑ گئی ہے ایک طرف مسلم لیگ نون کی حکومت اس تمام معاملے میں بلکل خاموش نظر آتا ہے دوسری طرف پیپلزپارٹی وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن کی خاموشی کو گلگت بلتستان مخالف قرار دیا جارہا ہے،جبکہ تحریک انصاف نے نو منتخب گورنر راجہ جلا ل حسین کے حوالے سے مقامی پرنٹ میڈیا میں وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے مسلے کو جلد حل کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
بیرون ممالک مقیم آذاد کشمیر کا ایک طبقہ وقت سے پہلے ہی گلگت بلتستان کو لیکر پریشان نظر آتا ہے اُنکا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی ہے لہذا پاکستان کو یہ حق حاصل نہیں کہ گلگت بلتستان کو کسی بھی طرح پاکستان کا صوبہ بنائیں۔اُنہوں نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے سامنے اس حوالے سے احتجاج کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے،دوسری طرف آذاد کشمیر کے کچھ پرنٹ میڈیا بھی اس حوالے سے سرگرم نظر آتا ہے۔اس تمام صورت حال کو دیکھ کر گلگت بلتستان کے عوام میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے اور اس عوامی ردعمل کو دیکھ کر کچھ لوگ عوام میں عجیب وغریب قسم کے دلیل بھی پیش کرنے میں ایک سے بڑھ ایک آگے نظر آتا ہے۔
آزاد کشمیر کے کچھ سیاسی رہنماوں نے اس تمام صورت حال کو دیکھ عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر بنانے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے جو عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے ساتھ ملکر حقوق گلگت بلتستان کی تحفظ کریں گے اس سلسلے میں عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے اہم رہنما سردار عابد نے بیرون ملک مقیم کشمیریوں کو خاص طور پر پیغام دیا ہے کہ وہ وقت سے پہلے عوام میں دوریاں پیدا کرنے کی سازشوں سے گریز کریں کیونکہ گلگت بلتستان کی اپنی الگ ایک جعرافیائی اور قانونی حیثیت ہے اور گلگت بلتستان پر مملکت پاکستان کا تنازعہ کشمیر کی روشنی میں جو بھی حقوق ملنے ہیں اُس ملنا چاہئے تاکہ یہاں کے عوام کی اکہترسالہ محرومیاں ختم ہوسکے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی مہلت کے بعد گلگت بلتستان کے لوگوں نے عدالت عالیہ سے بڑی امیدیں وابسطہ کررکھا ہے عوام چاہتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے مزید صرف وعدوں پر نہ اکتفاء کیا جائے تاکہ اس خطے کے 22 لاکھ عوام کی قانونی اور آئینی شناخت واضح ہو۔
سرتاج عزیز کمیٹی سفارشات میں گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو نہ چھیڑتے ہوئے اس خطے کو دیگر صوبوں کے برابر حقوق دینے کا مطالبہ ہے لیکن اس حوالے سے عوام میںشدید شکوک شبہات پایا جاتا ہے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فرض کرتے ہیں کہ سرتاج عزیز کمیٹی پر من عن فیصلہ کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے چند افراد کو قومی اسمبلی اور سنیٹ میں بطور مبصر داخلے کا موقع ملے لیکن اُن کے وہاں جانے سے عوامی مسائل حل نہیں ہونگے کیونکہ بطور مبصر وہ شریک تو ہوگا لیکن فیصلہ سازی میں اُنکا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کپٹن ریٹائر ڈ محمد شفیع خان کا ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو سپریم کورٹ سے بڑی اُمیدں وابسطہ ہیں لہذا ہم اُمید کرتے ہیں کہ عدالت گلگت بلتستان کو یہاں کے عوام کی اُمنگوں کے مطابق حقوق کی حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اُنکا مزید کہنا تھا کہ اگر سرتاج عزیز کمیٹی پر ہی عمل درآمد کرنا ہے تو ضروری ہے کہ گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان نظرثانی کریں کیونکہ متنازعہ حیثیت کے مطابق حقوق ملنے کا مطلب سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون اُس فیصلے کا لازمی جزو ہونا چاہئے کیونکہ آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ حیثیت کی وجہ سے اسپیشل اسٹیٹس کے ساتھ یہ قانون نافذ ہیں اور اس قانون کو نافذ کرنے سے مسلہ کشمیر کیلئے کوئی مسلہ بھی نہیں۔
عوامی ایکشن کمیٹی چیرمین مولانا سلطان رئیس کا ہمارے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عجیب المیہ ہے کہ ایک طرف کہاجارہا ہے کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو نہیں چھیڑا جائے گا دوسری طرف متنازعہ حیثیت کا اہم اور بنیادی جزو سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کو بھی نہیں روکا جائے گا یہ اقدام گلگت بلتستان کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوگا۔اُنکا کہنا تھا کہ کوئی بھی پیکج جس میں سٹیٹ سبجیکٹ شامل نہ ہو ہمیں قبول نہیں لہذا بطور ایک اہم سٹیک ہولڈر کے ہمارا موقف روز اول سے یہی ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو مکمل طور پر آئین میں شامل نہیں کرسکتے تو وہاب الخیری کمیشن پر من عن عمل درآمد کریں یا گلگت بلتستان کو ایکٹ آف پارلمینٹ کے ذریعے حقوق دیں جس میں ہماری پہچان اور گلگت بلتستان کے مسائل کا حل ہو۔ اُنکا کہنا تھا کہ چند افراد کے اسمبلی میں بطور مبصر اسمبلی میں جانے سے گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوگا۔
عوامی ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کے کنونیئر سردار عابد رشید نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کو اختیارات دینے سے مسئلہ کشمیر مزید مظبوط ہوگا اور گلگت بلتستان کو حقوق دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اب مزید محرومیوں میں نہیں رکھاجاسکتا ہے اور سپریم کورٹ آف پاکستان گلگت بلتستان کو داخلی طور پر مکمل بااختیار سیٹ اپ دے تا کہ گلگت بلتستان کےعوام کے دیرنہ مسائل حل ہوسکیں اور اس اقدام سے مسئلہ کشمیر مزید مظبوط ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کا آئینی مسئلہ دوچار وفاداروں کو نوازنے سے حل نہیں ہوگا اس بار گلگت بلتستان کے عوام 70سالہ محرومیوں کا ازالہ کرتے ہوئے مکمل اختیارات دینے ہونگے۔گلگت بلتستان کے عوام نے ریاست کے مفاد ہمیشہ اپنے مفادات کا خون کیا ہے مزید متحمل نہیں ہو سکتے ہیں کہ انکے صبر کا امتحان لیا جائے لہذا کمیٹیوں کے بتی کے پیچھے لگانے کی بجائے مسئلہ کشمیر میں ریاستی موقف کو متاثر کیئے بغیر مکمل طور پر اندرونی خودمختاری دی جائے۔
سوشل میڈیا پر ہر کوئی اپنی منطق کے مطابق ایک دوسرے کو ٹرول کرنے کا سلسلہ جاری ہیں لیکن کوئی بھی مسلہ کشمیر پر مملکت پاکستان کے موقف اور اقوام متحدہ کے قراداوں پر تحقیق کرتے نظر نہیں آرہا ہر ایک کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کو اُن کی سوچ کے مطابق حقوق ملے لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو حقوق مسلہ کشمیر خراب کئے بغیر ہی ملنا ہے کیونکہ ریاست پاکستان کا مسلہ کشمیر کو زندہ رکھنے کیلئے قربانیاں ہیں اور اس حوالے سے مضبوط خارجہ پالیسی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اس مسلے کو مزید طویل کرتے ہیں یا مسلہ کشمیر کے تناظر میں گلگت بلتستان کے عوام کو حقوق دیکر اس خطے کی اکہتر سالہ محرومیوں کو ختم کرتے ہیں۔

  •  
  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*