تازہ ترین

ضلع ہنزہ اور نگر سے شہریوں کے ہجرت میں ناقابل یقین اضافہ۔

نگر ( اقبال راجوا) نگر اور ہنزہ کی آبادی روزانہ کی بنیاد پر کم ہونا شروع ہوگئی آبادی میں کمی کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ ان علاقوں سے مختلف خاندانوں کا تقسیم ہو کر شہروں کی طرف ہجرت کرنا ہے۔ گرم علاقوں میں سردی کی شدت میں اچانک اضافے سے نگر اور ہنزہ سے مختلف خاندانوں نے گرم شہروں میں ڈھیرے ڈالنے کے لئے ہجرت کرنا شروع کیا روزانہ کی بنیاد کئی خاندان دونوں سرحدی اضلاع نگر اور ہنزہ سے گرم شہروں میںسردیاں گزار کر آتے ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں کی بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری سے نگر اور ہنزہ میں سردی ک شدت میں اچانک اضافہ ہونے کے سب ضلع نگر کے مختلف علاقوں میں مختلف خاندانوں سے بزرگ بچے اور خواتین نے پاکستان گرم علاقوں بالخصوص کراچی اور اسلام آباد میں ڈھیرے ڈالنے کے لئے بوسں مین بھر بھر کر جانا شروع کیا ہے ۔ ہجرت کرتے ان خاندانوں سے پوچھنے پر بتایا کہ گلگت بلتستان سمیت ہنزہ اور نگر میں موسم اس قدر ٹھنڈا ہو جاتا ہے کہ بزرگ اور بچیوں کے لئے ناقابل برداشت ہو جاتا ہے ۔ بزرگ خواتین اور بچے سردی کی شدت کا شکلار ہو کر مختلف بیمار یوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان پر بھاری اخراجات آنے کے ساتھ ساتھ گھر کے دیگر افراد کو بھی پریشانیاں ہو جاتیں ہیں۔ ان کو گرم رکھنے کے لئے اضافی اخراجات کے ساتھ گھر کے کام کرنے والے افرادکو بھی ان بزرگوں اور بچوں کا خصوصی طور پر خیال رکھنا پڑتا ہے ۔ قابل ذکربات یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں سردیوںمیں اکثر مقامات پر درجہ حرارت نکتہ انجماد سے گر جاتا ہے تو اس موسم میں یہاں کے باسی صرف اس پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں کہ خود کو اور اپنے پیاروں کو سردی کی شدت اور اثرات سے کیسے بچا جائے۔ اوسطاً سردی کے موسم میں دو سے تین لاکھ روپے کے اضافی اخراجات ہر گھرانے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں ۔ جبکہ کراچی تک پہنچانے اور سردی کا موسم گزار کر واپس آنے کا خرچہ اس کے نصف سے بھی کم ہوتا ہے ۔ اکثر خاندان میں جوان اور صحت مندا فراد گھر میں ہی رہتے ہیں اور پورا سردیوں کا مہینہ اپنی مال مویشی کی حفاظت اور پرورش میں گزارتے ہیں ۔ دوسری طرف غریب خاندانوں کے افراد سردی کے سخت موسم میں اپنے مٹیالے گھروں میں رہ کر موسم بہار کے اچھے دنوں کا انتظار کرتے ہیں ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*