تازہ ترین

ایک تمنالاحاصل سی۔۔۔!

تمناایک ایسی چیزجس سے ہرانسان کاواسطہ ہوتاہے،یعنی ہرانسان کی کوئی نہ کوئی تمناضرورہوتی ہے،اوراسی بناپراسے امیدکے زمرے میں بھی استعمال کرتے ہیں،کیونکہ ہرانسان اپنی تمناوں کی امیدمیںزندگی کے کٹھن راستوں پرسفرکرتے ہیں،تاریخ کی لفظوں پرنظریںپڑتی ہے توتمنائیں بہت ظالم بن کردیکھائی دیتی ہے،یعنی دیوارچین ہویاشاہی قلعہ۔تاج محل ہویاپرانے بادشاہوں کے بڑے بڑے راج محلیں، ان سب کی تعمیرات کے وقت ایک پل بھی آرام کئے بغیرلوگوں سے دن رات اس قدرکام لیے گئے کہ لوگ کام کرتے کرتے وہی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی تمناوں کوبھی خیربادکہہ گئے،اس کی وجہ یہ تھی ،ماضی کے حکمران اپنی تمنا وں کوجلداورفل فورپوراہوکردیکھناچاہتے تھے اوریوں تمناظالم بھی ہوتے ہیں،مگردوسری طرف یہی تمناعبدالستارایدھی اوررمضان چھیپاکی دل میںجنم لے تویہ بہت سارے لوگوں کی دل میں نہ صرف امیدپیداکرتے ہیں،بلکہ تمنائیں بھی پوراکرتے ہیں،اوریوں تمنامہربان اورشفقت جیسے اچھے شکلوں میں دیکھنے کومل رہے ہیں۔
اب ہم اصل بات کی طرف آنے کی کوشش کرتے ہیں،ارض پاکستان میں ایک ایساخطہ بھی موجودہے،جہاں کے لوگ بلیک اینڈوائٹ کے دورمیں زندگی بسرکرتورہے ہیںمگراس خطے کے بیس لاکھ عوام ایک اجتماعی تمنابرسوں سے اپنے دل میں لیے کاش کاش کی ْصدائیں بلندکررہی ہے،جی بالکل اوریہ خطہ بے آئین گلگت بلتستان ہے اوران میں رہنے والے لوگ جواب تک ایک اجتماعی تمنالاحاصل کی امیدکی آس سے یقین بندھے ہوئے ہیں وہ ہے آئینی صوبے کی تمنا،جوکہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی بنیادی وقانونی حق ہے،افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کے اس اجتماعی دلی تمناکوایدھی اورچھیپاجیسے کشادہ دل اورسخی شخصیت کے مالک بھی پورانہیں کرسکتے۔خطہ بے آئین گلگت بلتستان کے 28000مربع میل سے زائدکی رقبے میںقدرت نے گراںقدرقدرتی حسن وسحرانگیزسیاحتی، مقامات ،جھیل، وادیاں،ندیاںاور تاریخی عمارتیں دیئے ہیںمگر افسوس پاکستان کاالمیہ ہے یہاں توروز ازل سے سیاحت کو نظراندازکرتاآرہاہے،اگرسیاحتی اعتبارسے بات کی جائے توگلگت بلتستان سیاحتی مقامات سے مالامال ہے، جس میں دنیاکے دوسرے بلندترین چوٹی کے ٹومشہورہے،جہاں عالمی سیاح ہرسال آتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی آمدنی میں بھی خاطرخواہ اضافہ بھی ہوتاہے،دیوسائی پاکستان کا سب سے بلندترین سیاحتی مقام ،جسے نیشنل پارک اوردنیاکاچھت جیسے ناموں سے پہچاناجاتاہے جہاں ملکی و غیر ملکی سیاح ہر سال کیمپینگ کیلئے آتے ہیں ۔
جغرافیائی طوپردیکھاجائے تو گلگت بلتستان پاکستان کی دفاعی نظام کو مظبوط بنانے میں نہایت اہمیت کے حامل ہے کیونکہ اس کی سرحدیںپاکستان کے حریف ہندوستان کے ساتھ ملتی ہے،ساتھ ہی چین ،تاجکستان سے بھی ملتی ہے،دنیاکابلندترین محازسیاچن بھی گلگت بلتستان میں ہی واقع ہے،جس پرپاکستان کے بہادرافواج پچھلے سترسالوں سے بھارتی فوج کے مدمقابل سردموسم کی سختیوں کوبھی برداشت کرتے ہوئے وطن عزیزکی حفاظت کیلئے سینہ تان کرکھڑاہے،انہیں اپنی جان کی فکرہے نہ اپنی مال کی،اپنی صحت کی فکرہے نہ اپنی اولادکی ،بس فکرہے تووطن عزیزپاکستان کی،وہ ہمہ وقت دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کرمقابلے کیلئے تیارہے،گلگت بلتستان سی پیک کاگیٹ وے ہیں،سی پیک کی وجہ سے ہی اس خطے کی اہمیت دوگنی ہوگئی ہے،دنیاکی نظریں اب گلگت بلتستان کی جانب مبذول ہوگئی ہے،لیکن حکومت پاکستان اس خطے کوان کے جائزحقوق دینے کی بجائے کشمیرکاحصہ قراردے کرمتنازعہ قراردیاجارہاہے،کشمیرکاکیس پچھلے ستربرسوں میں عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے،نہ جانے اورکتناعرصہ یہ کیس اسی طرح لٹکتارہے گا،گلگت بلتستان کوان کے جائزحقوق سے دوررکھناوہاںکے عوام کے ساتھ کھلامذاق ہے،تاریخ گواہ ہے،دنیاکاکوئی خطہ اپنے آپ کودوسرے ملک کے ساتھ الحاق کرانے کیلئے جدوجہدنہیں کرتا،گلگت بلتستان وہ واحدخطہ ہے جوپاکستان کاحصہ بنناچاہتاہے،مگرحکومت پاکستان ماننے کوتیارنہیں،گلگت بلتستان کے باسی سترسالوں سے آئینی حقوق کے منتظرہے،یہاں کاایک طبقہ کاش کاش کرتے ہوئے آئینی حقوق کی خواب دیکھتے ہوئے اس دنیاکوخیربادکہہ چکے ہیں،جبکہ ایک طبقہ ابھی بھی حقوق کی خواب آنکھوں میںلیے پھررہاہے،نہ جانے یہ خواب کب شرمندہ تعبیرہوگا۔
پچھلے کئی دہائیوں سے پاکستان کے حکمران وہاں کے عوام کوحقوق دلانے کے بجائے دلاسہ دے رہاہے،آئینی حدودمیں شامل کرنے کے بجائے عوام پرآرڈرزمسلط کرتارہاہے،2009کاکالاآرڈرہویا2018کاظالمانہ آرڈر،عوام ان دونوں سے بیزارہے،پاکستان کے پچھلے حکمرانوں کووہاں کے باسیوں کوان کے جائزحقوق دلانے کی توفیق نہیں ہوئی،اب گلگت بلتستان کے غیورعوام نے وزیراعظم عمران خان پرنظریں مرکوزکررکھی ہے،ان کوامیدہے عمران خان ہی اس خطے کی اہمیت کے پیش نظران کوحقوق دلوائیں گے،کیونکہ انہوںنے کئی بارگلگت بلتستان کے چپے چپے کادورہ کرچکے ہیں،اوروہ شایداس وادی کی اہمیت کوجان چکے ہیں۔
میں دل سے مانتاہوں عمران خان واقعی میں پاکستان کی خاطرنکلے ہیں اورپاکستانی عوام کی ترقی کیلئے جدوجہدکیلئے کوشاں ہے،اورمجھے لگتاہے،گلگت بلتستان کے عوام بھی آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کوانتخاب کرنے میںکوئی غلطی نہیں کریں گے،کیونکہ پاکستان تحریک انصاف ہی گلگت بلتستان کی آخری آس ہے،سابقہ حکمران طبقے نے عوام کوآرڈرتک ہی محدورکردیا،اگرپاکستان تحریک انصاف کی حکومت بھی اپنی پانچ سالہ دورمیں گلگت بلتستان کے باسیوں کی تمناء لاحاصل کوحاصل کروانے میں معاونت نہیں کریں گے تووہاں کے عوام حکمرانوں سے بدلہ لینابھی خوب جانتے ہیں،مجھے لگتاہے پاکستان مسلم لیگ ن نے کالاقانون نافذکرکے وہاں کے عوام کی جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی ہے،اوریہ آرڈران کیلئے آئندہ الیکشن میں شکست کی گھنٹی ہے،گلگت بلتستان میںپاکستان پیپلزپارٹی کی سابقہ الیکشن میں جوحالت ہوئی تھی اس کوزیادہ عرصہ نہیں گزرا، اگرعمران خان بھی پچھلے حکمرانوں کی نقش قدم پرچل کر غلطی کربیٹھاتوآئندہ آنے والے وقتوںمیں پی ٹی آئی کاحشر پاکستان پیپلزپارٹی سے بھی بدترہوگا۔

تحریر: اخترحسن مہک

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*