تازہ ترین

سپریم کورٹ میں زیر سماعت گلگت بلتستان کے مقدمے پر گرینڈ ڈبیٹ کا انعقاد ،اہم شخصیات کا بڑا مطالبہ۔

اسلام آباد(تحریر نیوز نیٹ ورک) سپریم کورٹ آف پاکستان میںگلگت بلتستان کی ستر سالہ محرمیوں کی خاتمے کے حوالے سے زیر سماعت کیس کے پر تحریر نیوزنیٹ ورک پر گلگت بلتستان کے سنئیر کالم نگار شیر علی انجم کی میزبانی میں تین گھنٹے پر محیط ایک لائیو ڈبیٹکا انعقاد کیا گیا۔ڈبیٹ کا عنوان تھا ( سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے حوالے سے زیر سماعت مقدمہ ،متوقع نتائج اور گلگت بلتستان کے عوام کی ذہنوں میں ابھرتے ہوئے سوالات)۔ اس گرینڈ ڈبیٹ میں عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان کے چیرمین مولانا سلطان رئیس، سنئیر صحافی اور تجزیہ نگار عبدلجبار ناصر، جی بی ایورنس فورم کے ترجمان انجنئیرشبیرحسین، سنئیر وکیل محمد علی یار ایڈوکیٹ ،سمیع احمد ایڈوکیٹ، سابق ممبر گلگت بلتستان کونسل رہنما پاکستان پیپلزپارٹی وزیر عبادت علی ایڈوکیٹ اور امریکہ میں مقیم ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد حسین شریک ہوئے۔
گرنیڈ ڈبیٹ میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری مقدمے پر گرما گرم بحث ہوئی اور خاص طور پر گلگت بلتستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا گلگت بلتستان کا جموں کشمیر سے تعلق سے انکار ا ور برسٹر اعتزا ز احسن کا گلگت بلتستان کو مکمل طور پر حقوق دینے سے مسلہ کشمیر پر منفی اثر پڑنے کے بیان پر شرکاء کے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔
ایڈوکیٹ علی یار اور ایڈوکیٹ سمیع احمد کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان کے حوالے سے سرتاج عزیز کمیٹی سفارشات کی روشنی میں گلگت بلتستان کو ایمپاور کرنے کے حوالے سے مثبت نتیجے کا اُمید کیا جبکہ اُنکا کہنا تھا کہ اس سفارش کی بنیاد پر گلگت بلتستان پاکستان کا عبوری صوبہ کہلائے گا اور گلگت بلتستان کو پاکستان کے تمام اداروں اور قومی اسمبلی اور سینٹ میں ضلع کے حساب سے بطور مبصر نمائندگی ملے گی۔ اُنکا کہنا تھا کہ اس کمیٹی کی سفارشات کے مطابق گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت بھی برقرار رہے گا لیکن قانون باشندہ ریاست(سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی کا کوئی امکان نہیں)۔ لائیو شو میں شریک گلگت بلتستان کے لوگوں نے اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا اور اس قسم کے حربے صرف عوام کو بیوقف بنانے کی حکمت عملی قرار دیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی چیرمین مولانا سلطان رئیس کا کہنا تھا کہ عجیب المیہ ہے کہ ایک طرف کہاجارہا ہے کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کو نہیں چھیڑا جائے گا دوسری طرف متنازعہ حیثیت کا اہم اور بنیادی جزو سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزیوں کو بھی نہیں روکا جائے گا یہ اقدام گلگت بلتستان کے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوگا۔اُنکا کہنا تھا کہ کوئی بھی پیکج جس میں سٹیٹ سبجیکٹ شامل نہ ہو ہمیں قبول نہیں لہذا بطور ایک اہم سٹیک ہولڈر کے ہمارا موقف روز اول سے یہی ہے کہ اگر گلگت بلتستان کو مکمل طور پر آئین میں شامل نہیں کرسکتے تو وہاب الخیری کمیشن پر من عن عمل درآمد کریں یا گلگت بلتستان کو ایکٹ آف پارلمینٹ کے ذریعے حقوق دیں جس میں ہماری پہچان اور گلگت بلتستان کے مسائل کا حل ہو۔ اُنکا کہنا تھا کہ چند افراد کے اسمبلی میں بطور مبصر اسمبلی میں جانے سے گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ نہیں ہوگا۔اُنہوں نے گلگت بلتستان کونسل کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ بار کونسل کے ساتھ ہم نے کئی بار نشت کی تھی اور یہ فیصلہ ہوا تھا کہ عوامی ایکشن کمیٹی گراونڈ میں اور بار کونسل عدلیہ کے پلیٹ فارم پر گلگت بلتستان کا مقدمہ خطے کی معروضی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے کیس لڑیں گے لیکن اُنکا بغیر کسی مشاورت کے عبوری صوبے کا مطالبہ سمجھ سے بلاتر ہے۔
گلگت بلتستان ایورنس فورم ترجمان انجینئر شبیر حسین کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت آن پونچا ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ کسی اور کی زبان بولنے کے بجائے اپنی بات کریں اور اپنے مسائل کی حل کیلئے آگے بڑھیں کیونکہ یہ موقع شائد ہی پھر سے کبھی آئے لہذا ہمیں ضد کی سیاست سے نکل کر اس وقت جو کچھ مل رہا ہے اُسے من عن تسلیم کرکے باقی ماندہ حقوق کی حصول کیلئے کوشش کرتے رہنا چاہئے ورنہ گلگت بلتستان ایک طرح سے فلسطین بن سکتا ہے،اُنہوں نے سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی سماعت کے حوالے سے کچھ کشمیری قوم پرستوں کے بوکھلاہٹ پر شدید انداز میں مذمت کی اور اس بات زور دیا کہ گلگت بلتستان کو حقوق کسی کی مرضی سے نہیں بلکہ ہماری حیثیت کے مطابق ملنا چاہئے ۔
سنئیر صحافی عبد الجبار ناصر نے سلمان اکرم راجہ کے بیان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کا ریاست جموں کشمیر سے تعلق ختم کرنے یا نہ ہونے کی باتوں سے مسلہ کشمیر پر گہرا ضرب لگ سکتا ہے لہذا جنہوں نے بھی اُنکو اس حوالے سے غلط بریفنگ کی ہے وہ قابل مذمت ہے،(اس حوالے سے ایڈوکیٹ علی یار اور ایڈوکیٹ سمیع احمد کا کہنا تھا کہ اُن کے بیان کو غلط طریقے سے پیش کیا اُنہوں ایسا کچھ نہیں کہا) عبدالجبار ناصر کا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان ریاست جموں کشمیر کا جزو لاینفک ہے اور گلگت بلتستان صوبہ بنانے کی باتیں سوائے وقت کی ضیاع کے کچھ نہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو جو بھی حقوق ملے گا اس خطے کی متنازعہ حیثیت اور ریاست جموں کشمیر کی ایک اکائی کے طور پر ہی ملے گا ،گلگت بلتستان آئینی صوبہ کا نعرہ لگانے والے احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ اُنکا کہنا تھا کہ جو لوگ آج کہہ رہے ہیں گلگت بلتستان کا کشمیر کا تعلق نہیں اُنہیں تاریخ کا علم نہیں ،اُنہوں نے انکشاف کیا انقلاب گلگت کے بانی کرنل مزار حسن خان نے انقلاب گلگت کی ناکامی کے بعد پاکستان میں نوکری کرنے سے انکار کیا تھا اور وہ آذاد کشمیر میں سیکرٹیری زراعت کے طور پر کام کرتے رہے ہیں اور اُنہوں نے اپنی پوری زندگی کشمیری لیڈران کے ساتھ ملکر کشمیر سیاسی جماعت کے پلیٹ فارم سیاسی جدوجہد کرتے رہے اور بلتستان سے تعلق رکھنے والے اسحاق بلتی آذاد کشمیر اسمبلی کا باقاعدہ ممبر بھی رہے ہیں۔۔اُنکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ سے یہاں کے عوام کو بڑی توقعات ہیں لہذا سپریم کورٹ کو چاہئے کہ مسلہ کشمیر کوکسی بھی قسم کی آنچ آئے بغیر گلگت بلتستان کی محرومیوں کا ازالہ کریں جس میں سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون شامل ہو۔اُنہوں نے گلگت بلتستان بار کونسل پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں کس نے اختیار دیا ہے کہ گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام کی مستقبل کا فیصلہ اپنی منشاء کے مطابق کریں۔
نیویارک میں مقیم ماہر تعلیم ڈاکٹر محمد حسین نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کا مسلہ اس وقت ایک انسانی حقوق کا مسلہ ہے لہذا قوام متحدہ کے قرادوں کا بہانہ بنا کر اس خطے کو مزید سیاسی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا ہے لہذا سپریم کورٹ کو چاہئے کہ اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کا احسن طریقے سے نبھاتے ہوئے گلگت بلتستان کی اکہتر سالہ محرومیوں کے خاتمے کے حوالےسے کردار ادا کریں اُنکا کہنا تھا کہ اگر گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنانے میں مسلہ کشمیر رکاوٹ ہے تو گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز پر اُن سے بااختیار سیٹ اب دیکر گلگت بلتستان کی محرومیوں کاازالہ کریں۔اُنہوں نے نئی نسل کو مشورہ دیا کہ سوشل میڈیا کے اس تیز ترین دور میں اپنے مسائل کی حل کے حوالے سے اخلاقیات اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے جدوجہد کریں ،سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے وقت اس بات کا خاص طور خیال رکھیں کہ کسی کی عزت نفس مجروح نہ ہو اور ہمارے کسی عمل سے ریاست کو مسائل پیدا نہ ہو جو ہمارے لئے بھی مسائل کا سبب بنے۔
آخر میں پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما اور سابق ممبر گلگت بلتستان کونسل وزیر عبادت علی نے مطالبہ کیا کہ گلگت بلتستان کو جو بھی نظام ملے اُسے قانونی پروٹیکشن ہونا چاہئے عبوری صوبہ بناتے ہیں تو سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی ضروری ہے کیونکہ متنازعہ حیثیت کو برقرار رکھنے کا مطلب سٹیٹ سبجیکٹ کی بحالی ہے اُس کے بغیر سرتاج عزیز کمیٹی کے سفارشات کا بھی گلگت بلتستان کے عوام کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔

  •  
  • 31
  •  
  •  
  •  
  •  
    31
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*