تازہ ترین

جی بی بار کونسل کے وکیل نے سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کے مقدمے کو مشکوک بنادیا۔

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک) چیف جسٹس آف پاکستان کے حکم پر گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت اور دیگر اہم مسائل کی حل کے حوالے سے سپریم کورٹ آج لارجر بنج کے تحت ہونے والے سماعت نےجہاں گلگت بلتستان کے عوام کو عدالت عالیہ سے ایک اُمید پیدا ہوگیا ہے وہیں گلگت بلتستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکرم راجہ کا سپریم کورٹ میں گلگت بلتستان کی قانونی حیثیت کے حوالے سےخطے کی معروضی حقائق، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سب سے بڑھ کر مسلہ کشمیر پرریاست پاکستان کے موقف کے منافی اور عوامی امنگوں کے بر خلاف دلائل دے کر گلگت بلتستان کی متنازعہ اور تاریخی حیثیت کو مزید کنفیوز کر کے عوام کے ذہنوں میں اس مقدمے کے حوالے سے شبہات پیدا کردیا۔
تفصیلات کے مطابق مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ مختلف اداروں کی مختلف درخواستیں ہیں، اس لیے سب سے پہلے قانونی نکات جاننا عدالت کے لیے لازم ہے۔ جس پر گلگت بلتستان بارکونسل کے وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے سابقہ حکومت نے سرتاج عزیز کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی تھی۔ کمیٹی کا 29 اکتوبر 2015 کو باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہوا۔ کمیٹی کی سفارشات کے بعد گلگت بلتستان کی عوام کو پاکستانی شہریوں کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ گلگت بلتستان اب مکمل طور پر پاکستان کے کنٹرول میں ہے۔ اس میں خودمختاری کا اب کوئی ایشو نہیں ہے۔
جسٹس گلزار احمد نے وکیل سلمان اکرام راجا سے استفسار کیا کہ گلگت بلتستان ایکٹ کا اب جموں کشمیر سے کیا تعلق ہے؟ جس پر وکیل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہمارا موقف ہے کہ گلگت بلتستان کا جموں کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔
سوشل میڈیا پر سلمان اکرم راجا کے اس بیان کو لیکر خوب چرچا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ سلمان اکرام راجہ کو یا تو گلگت بلتستان کے کچھ وکلاء کی طرف سے غلط بریفنگ دی گئی ہے یا وہ گلگت بلتستان کی تاریخ سے نابلد ہیں ورنہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کسی بھی قسم کے کمیٹی کی سفارش کے باوجود گلگت بلتستان مسلہ کشمیر سے منسلک ایک متنازعہ خطہ ہے اور مسلہ کشمیر کی حل تک یہ علاقہ متنازعہ ہی رہے گا، اور وہاب الخیری کیس 1999 میں بھی سپریم کورٹ کی طرف سے واضح اور شفاف انداز میں لکھا ہے کہ گلگت بلتستان کسی ملک کا حصہ نہیں بلکہ ایک متنازعہ خطہ ہے لیکن اس خطے کو قانون کے مطابق حقوق ملنا چاہئے۔ اسی طرح کچھ افراد کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ میں جو مقدمہ لڑا جارہا ہے اُس میں گلگت بلتستان کے وکلاء کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اُن سے کسی بھی قسم کی مشاورت نہیں لیا جاتا۔ سپریم کورٹ میں اس کیس کے دوران شریک گلگت بلتستان کے ایک وکیل نے ہمارے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں افسوس اس بات پر ہے کہ مقدمہ ہمارا ہے اور پوچھا کسی اور سے جارہا ہے۔
اس حوالے سے گلگت بلتستان کے سنئیر وکیل سابق صدر بار کونسل احسان علی ایدوکیٹ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کو اتنا بھی علم نہیں کہ گلگت بلتستان پہ پاکستان کا گزشتہ 71 سالوں سے سراسر غیر آئینی اور غیر قانونی کنٹرول ہے اور من پسند یکطرفہ انتظامی احکامات کے ذریعے اس خطے پہ ایک بدترین کالونیل نظام مسلط کیا ہواہے۔
اُنکا کہنا تھا مقام حیرت یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان کو تنازعہ کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں کا بھی علم نہیں۔اُنکا مزید کہنا تھا کہ ستم ظریفی یہ بھیہے کہ خود درخواست دہندگان کے معزز سینئر وکلاء بھی نامعلوم وجوہ کی بنا پہ سپریم کورٹ کو جی بی کے اصل مسلے کے بارے میں تاریخی حقائق اور اقوام متحدہ میں وفاق پاکستان کی طرف سے دئے گئے اقرار ناموں سے لا علم رکھ رہے ہیں جو کہ باعث تشویش ہے۔

  •  
  • 78
  •  
  •  
  •  
  •  
    78
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*