تازہ ترین

بادشاہی مسجد لاہور سے نعلین مبارک چوری ہوگیا، سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا۔

لاہور (ویب ڈیسک)سپریم کورٹ نے لاہور کی بادشاہی مسجد سے نعلین مبارک چوری ہونے کے معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بنانے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں بادشاہی مسجد سے نعلین پاک چوری ہونے کے معاملے پر کیس کی سماعت کی، اس دوران سیکریٹری محکمہ اوقاف، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، وکلا اور دیگر حکام پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر محکمہ اوقاف کے نمائندے نے نعلین مبارک کی چوری سے متعلق رپورٹ پیش کی، جسے چیف جسٹس نے مسترد کردیا۔چیف جسٹس نے سیکریٹری اوقاف پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ رپورٹ سے مطمئن نہیں یہ صرف اپنے آپ کو بچانے کی ایک کوشش ہے، اس سے بڑی دولت کیا ہے جس کی آپ حفاظت نہیں کر سکے، شرم کی بات ہے کہ ہم اتنی مقدس چیز کی حفاظت نہیں کر سکے۔اس پر وکیل محکمہ اوقاف نے بتایا کہ اس معاملے پر اب تک 10مرتبہ تحقیقات ہوچکی ہیں لیکن کچھ سامنے نہیں ا?یا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معمول کی تحقیقات تھی۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محکمہ اوقاف نے معاملے پر بادشاہی مسجد کے 7 ملازمین کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی، جن میں سے 2 کو چھوڑ دیا گیا جبکہ 5 کو برطرف اور جبری ریٹائرڈ کیا گیا۔اس دوران ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل امتیاز کیفی نے بتایا کہ بادشاہی مسجد سے نعلین پاک کو 2001 میں برونائی میں ایک نمائش کے لیے بھیجا گیا اور اعلیٰ حکام اور محکمہ اوقاف کے نمائندے ساتھ گئے۔انہوں نے بتایا کہ 5 ستمبر 2001 کو نعلین مبارک کو واپس وطن لایا گیا اور اسے دوبارہ بادشاہی مسجد میں رکھ دیا گیا، تاہم 30 اگست 2002 کو یہ مقدس چیز بادشاہی مسجد سے چوری ہوگئی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ نعلین مبارک کی چوری کے بارے میں بادشاہی مسجد میں موجود زائرین نے بتایا۔بعد ازاں چیف جسٹس نے معاملے کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دیا اور کہا کہ اس میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)، انٹیلی جنس بیور (آئی بی) اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) پولیس کی سطح کے افسر شامل ہوں گے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی اپنی تحقیقات کر کے جامع رپورٹ پیش کرے، ہم اس معاملے کو اسلام ا?باد منتقل کرتے ہیں، جہاں بینچ اسے مسلسل بنیاد پر سنے گا۔

  •  
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*