تازہ ترین

متاثرین دیامر بھاشا ڈیم گروہوں میں تقسیم، ایک گروہ نے دوسرے گروہ کو ملک دشمن قرار دے دیا۔

چلاس(بیورورپورٹ)معاہدہ 2010 ایک مخصوص قبیلے کے ساتھ کیا گیا ہے ،جس کا ڈیم کے 95 فیصد حقیقی متاثرین کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ،بدنام زمانہ معاہدہ 2010پر دیامر کے تمام متاثرین ڈیم کو شدید تحفظات ہیں اور اس نام نام نہاد معاہدے کو کسی صورت ماننے کیلئے تیار نہیں ہیں ،معاہدہ 2010 ایک مخصوص گروہ کے ایما پر طے پایا جس میں باقی متاثرین کے حقوق کو غصب کیئے گئے ہیں ۔گزشتہ روز گلگت میں خود ساختہ نام نہاد گروہ نے ڈیم کمیٹی کے نام پر پریس کانفرنس کرکے خود کو متاثرین ڈیم کی نمائندہ کمیٹی ظاہر کرنے کی کوشیش کی ہے ،جو کہ بلکل غلط ہے ،دیامر میں متاثرین ڈیم کی کوئی کمیٹی نہیں ہے ،ہر قبیلہ اور علاقے کے لوگوں کی الگ الگ کمیٹیاں ہیں جو اپنے علاقے کے حقوق کے تحفظ اور دفاع کیلئے جدو جہد کررہی ہیں ۔2012 کے دہائی میں چلاس کے اندر سرکاری املاک جلانے والے اور پاکستانی پرچم نذر آتش کرنے والے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں عبرت ناک سزا دی جائے۔جی ایم واپڈاال اینڈ آر شعیب تقی اور جی ایم واپڈا دیامر ڈیم عامر بشیر چوہدری انتہائی مخلص اور دیانتدار آفسران ہیں جو متاثرین کی آبادکاری میں سنجیدہ ہیں ،چند ڈیم مخالف لوگ ذاتی مفادات کیلئے دیانت دار آفسران پر کیچڑ اُچھال رہے ہیں ۔چلاس میں پرہجوم پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے متاثرین دیامر بھاشہ ڈیم اور تھک نیاٹ یوتھ قومی مومنٹ کے رہنماوں ضیاء اللہ تھکوی،حاجی عبدالوحید،نمبردار زبیر،حاجی نجم خان،حاجی لا خان،عبدالمیحط،مصطفی قریشی،برا خا،نوشیر،غلام غفورو دیگر نے کہا کہ متاثرین دیامر ڈیم کی آباد کاریکے حوالے سے فردا فردا تمام متاثرین کی رائے لی جائے اور متاثرین کی خواہشات کے مطابق سٹل کیا جائے ،متاثرین کی آباد کاری کے حوالے سے دیامر کی انتظامیہ اور واپڈا حکام نے جو پالیسی بنائی ہے جس سے تمام متاثرین مطمئن ہیں ،اس پالیسی پر تیزی سے کام جاری رکھا جائے۔چند نام نہاد گروہ نے متاثرین کے نام پر جو پریس کانفرنس کی ہے ،یہ ذاتی مفاد کیلئے کی گئی ہے ،جو کہ ہمارے علم میں ہے ،یہ ڈیم مخالف لوگ واپڈا حکام کو بلیک میل کرکے ماضی کی طرح ایک بار پھر متاثرین کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی ناکام کوشیشیں کررہے ہیں ،لیکن اب متاثرین باشعور ہوچکے ہیں اور اپنے مفادات اور حقوق کا تحفظ کرنا جانتے ہیں ،چلاس کے چند نام نہاد اور خود ساختہ کمیٹی ڈیم کی تعمیر میں رخنہ ڈالنے کی کوشیش کررہے ہیں ،ریاستی اداروں سے مطالبہ ہے کہ اس نام نہاد جعلی کمیٹی کے ایما پر 2012کے ندر چلاس میں پاکستانی پرچم نذر آتش کیا گیا ہے اور سرکاری املاک کو جلایا گیا ہے ،ان ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور وہ کیسس دوبارہ کھولا جائے تاکہ حقیقی متاثرین ڈیم کی حوصلہ آفزائی ہو اور آئندہ کوئی اس طرح کی تخریب کاری کی کوشیش نہ کرے۔انہوں نے کہا کہ متاثرین ڈیم نے نام نہاد معاہدہ 2010کو ماضی میں بھی اور اب بھی مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں ،اگر معاہدہ 2010مکمل تھا تو پھر 2015 میں دوسری کمیٹی کیوں بنی اور دوسرا معاہدہ کیوں کیا گیا ؟ہم متاثرین دیامر ڈیم حکومت اور واپڈا حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ازسر نو تمام متاثرین کو اعتماد میں لیکر دوبارہ معاہدہ کریں اور تمام متاثرین کے تحفظات کو دور کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ تمام قبائل اور نالہ جات سے تعلق رکھنے والے حقیقی متاثرین سے درخواست ہے کہ وہ آئیں اور مل کر اجتماعی سطح پر حقیقی معنوں میں ایک متفقہ جامع کمیٹی تشکیل دیں اور تمام ڈیم متاثرین کے بنیادی مسائل پر سنجیدگی کے ساتھ حکومت اور واپڈا کے ساتھ بیٹھ کربامقصد مذکرات کرتے ہوئے متاثرین کے جائز مسائل اور مطالبات کا حل نکالیں ،اور متاثرین کے خواہشات کے مطابق متاثرین کی آباد کاری کا مسلہ بھی حل کروائیں ،تاکہ ڈیم کی تعمیر جلد ممکن ہوسکے اور ملک دشمن عناصر کی سازشیں بھی ناکام ہوسکے۔

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*