تازہ ترین

حکومت عراق ایران زیارتوں پر جانے والے زائرین کیلئے ہنگامی طور پر متبادل روٹ کا انتظام کریں۔ رہنما تحریک انصاف

سکردو(تحریر نیوز نیٹ ورک)تحریک انصاف گلگت بلتستان کے سنیئر ممبر اور صوبایی ڈپٹی کنوینرسید محمد عباس کاظمی نے بیان دیا ہے کہ ایک طویل عرصہ سے پاکستان سے ایران اور عراق کے مقامات مقدسہ جانے والے ہزاروں زواروںکو بلوچستان میں بد ترین ظلم اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس وقت بھی سینکڑوں زایرین ایران کی سرحد پر پاکستانی حدود کے اندر پھنسے بد ترین دن گذار رہے ہیں اور ان کا کویی پرسان حال نہیں۔اس کے ذمہ دار بلوچستان کی صوبای حکومت ہے ۔اس کی ایک وجہ ایران و عراق زیارات مقامات مقدسہ کے لئے لے جانے والی ٹورایجنسیاں اور کاروانوں کے ذمہ دار افراد ہیں جو صرف اپنی آمدن کے لیے ہر سال ہزاروں زواروں کو لے جاکر پاکستان اور ایران کی سرحد پر پھینک کر مختلف قانونی مسائل اور بلیک میلنگ کی وجہ سے ان زواروں کو کئی کیٗ دن یا ہفتوں بے آب و گیا ہ ویرانوں میں دہشت گردوںاوربدترین قسم کے ہوٹل والوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خود یا تو غائب ہوجاتے ہیں یا بہانے تراشتے ہیں اور سارا الزام حکومت پاکستان پر ڈالتے ہیں۔یہاں کے ہوٹل اتنے گھٹیا ہوتے ہیں کہ خواتین کے لیے بھی بیت الخلاء دستیاب نہیں ہوتے ۔پاکستان اور ایران کے اس بارڈر پر زواروں کے ساتھ جتنا بدترین سلوک ہوتا ہے اتنا کسی بھی ملک سے ایران و عراق جانے والوں کے ساتھ نہیں ہوتا۔ ان زواروں کو بلوچستان صوبے میں کوئٹہ تا ایران بارڈر تک کے درمیان ہونے والی تکالیف خصوصا دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل عام کی ذمہ داری بلوچستان کے صوبای حکومت پر پڑتی ہے جنہیں بلوچستان کی ہر حکومت نے نظر انداز کیا ۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان زواروں کی ذلت و رسوایی میں لائسنس ہولڈر ٹور آپر یٹرز اور غیر لائسنس یافتہ کمپنیاں جنہیں عرف عام میں کاروان کا نام دیا جاتا ہے کا حصہ زیادہ ہے ۔ لیکن یہ لٹیرے کمپنیاں اپنے پیشواووںکے ساتھ اندھی عقیدت میں ان کے ہاتھوں برباد ہوجاتے ہیں۔ بظاہر یہ کمپیناں ان مقامات مقدسہ سے اپنی بھی عقیدت کے ساتھ ان زواروں کے سفری انتظامات میں سہولت پہنچانے اور مدد کرنے کا نام لیتے ہیں لیکن در حقیقت یہ ان زواروں کو لوٹنے کا ایک بہانہ ہے ۔کوئٹہ تا ایرانی سرحد تک کا راستہ ملک میں عالمی دہشت گردی اور شیعوں کے مخالف لوگوں کی وجہ سے بے انتہا خطرناک ہوچکا ہے ۔ اب تک سینکڑوں زوار اس راستے میں ان دہشت گردوں اور شیعہ مخالف عناصر کے ہاتھوں صحراووں میں مارے جاچکے ہیں وہاں ان کمپنیوں نے نے انہیں لوٹنے اور ان زواروں کو پاکستان اور ایران کے درمیان سمگلنگ کے لئے بھی خوب استعمال کرنے میں کویی کمی نہیں چھوڑی ہے۔ زواروں کو لے جانے والی قانونی اور غیر قانونی کمپنیوں کو اچھی طرح معلوم ہے کہ بلوچستان میں کیسے حالات ہیں۔ وہ اپنے زواروں کو دوسرے راستوں سے بھی ایران عراق لے جاسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اسی راستے سے ان کو لے جاتے ہیں کیونکہ اس روٹ پر اول تو بچت بہت ہونے کے ساتھ ان ہوٹل والوں سے ان کمپنیوں کے نمائندوں کی ملی بھگت بھی ہیاس کے علاوہ یہاں سمگلنگ کے مواقع بھی بہت ہیں۔عباس کاظمی نے امور داخلہ کے وزیر مملکت جناب شہریار آفریدی صاحب اور وزارت سیاحت اگر کہیں موجود ہو تو ان سے مطالبہ کیا ہے کہ اول تو ایران زیارات پر جانے والی تمام قافلوں کے لئے بلوچستان کا روٹ بالکل بند کردیا جائے۔ اور جو آسودہ حال ہیں وہ بزریعہ ہوایی جہازا یران آنا جانا کریں اور جو یہ ہوایی سفر کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے ان کے لئے کراچی سے بذریعہ بحری جہاز ایران کے چاہ بہار یا بندرعباس کا روٹ منظور کریں۔نیزان زواروں کے قافلوں کو ایران لے جانے والی ان رہزن کمپنیوں کے لائسنس اور رپوٹیشن چیک کرکے نیے سرے سے انہیں لائسنس دیں۔امید ہے کہ وزیر مملکت جناب شہریار آفریدی صاحب اس معاملہ کو اہمیت دیں گے۔

  •  
  • 2
  •  
  •  
  •  
  •  
    2
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*