تازہ ترین

حکومت گلگت بلتستان اور پختونخواہ اراضی کی حدبندی کے معاملے کو جلد حل کریں۔ سپریم کورٹ

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک)چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کی خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں حد بندی کے معاملے پر سماعت کی۔ دوران سماعت دیامر گلگت بلتستان اور بھاشا پختونخواہ حدبندی تنازع کے معاملے پر رپورٹ پیش کی گئی۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا میں بھی آپ کی حکومت ہے اس معاملے کو حل کریں، مجھے لگتا ہے کہ صرف تاریخ لینے کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے دیامر بھاشا ڈیم کی اراضی کی حدبندی کے معاملے پر فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 15 روز میں جواب طلب کرلیا۔
یاد رہے 4500 میگا واٹ کے دیامر بھاشا ڈیم منصوبے کی تکمیل کے لیے بالآخر 18ہزار 357 ایکڑ نجی زمین سے 14 ہزار 325 ایکڑ کا حصہ پاکستان واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے حوالے کردیا گیا۔دیامر کے محل وقوع کی بات کی جائے تو چلاس سے 40 کلو میٹر نیچے کی جانب گلگت بلتستان میں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر آف دیامر ہے، جہاں 32 دیہاتوں میں 4 ہزار 266 گھر ہیں، جن میں 30 ہزار 350 افراد مقیم ہیں۔
اس منصوبے کی تکمیل کے لیے 37 ہزار 419 ایکڑ زمین درکار تھی، جس میں کاشت کاری، بنجر اور دیگر استعمال کے لیے 19 ہزار 62 ایکڑ سرکاری اور 18 ہزار 357 نجی زمین شامل ہے، تاہم اس منصوبے سے حکومت، کمیونٹی اور کاروباری افراد کی بڑی تعداد متاثر ہوگی۔

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*