تازہ ترین

سپریم کورٹ میں حقوق گلگت بلتستان کے حوالے سے سماعت کل ہوگی،سنئیر وکلاء اسلام آباد پونچ گئے۔

اسلام آباد(تحریر نیوزنیٹ ورک)سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کے آئینی مقدمات بتاریخ 9 اکتوبر 2018 میں گلگت بلتستان بار کونسل کی نمائندگی کرنے کے لئے وائس چیئرمین جاوید احمد ایڈووکیٹ اور سینئر ممبر بار کونسل جاوید اقبال ایڈووکیٹ سمیت دیگر وکلاء اسلام آباد پونچ گئے۔ اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے وکلاء اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے اُنکا استقبال کیا۔
تحریر نیوزنیٹ ورک سے خصوصی بات کرتے ہوئے اُنہوں نے راولپنڈی اسلام میں گلگت بلتستان کے طلباء اور سول سوسائٹی کے لوگوں سے اُن سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے سپریم کورٹ پونچنے اور اس تاریخی سماعت کے حوالے اہم فیصلے پر مثبت پیش رفت کیلئے گلگت بلتستان کی قوم سے دعا کی اپیل ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں مسلہ کشمیر سے منسلک گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کا مقدمہ زیر سماعت ہے۔ یہ آئینی پٹیشن آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3 ) کے تحت دائر کی گئی ہے ۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1999 میں وفاق پاکستان کوحکم دیا تھا کہ آئین سمیت تمام قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو تمام جمہوری حقوق دیے جائیں۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان میں سلیف گورننس آرڈر کے ذریعے ایک نظام دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی ہے ۔ بنیادی طور پر یہ دو آئینی پٹیشنیں تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے ضم کر کے سماعت کیا اور ایک ساتھ نمٹا دیا ۔ان میں سے ایک پٹیشن 94/17گلگت بلتستان کونسل کی سابق ممبر فوزیہ سلیم عباس نے دائر کی تھی جبکہ دوسری 94/11الجہاد ٹرسٹ کے حبیب وہاب الخیری نے دائر کی تھی۔ ان دونوں پٹیشنوں کو سننے کے لئے سُپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے متفقہ طور پر فیصلہ جاری کیا تھا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان اپنی تاریخی فیصلہ28 اپریل1999ء میں صفحہ نمبر 42 پر حکم صادر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے ا نڈیا ، چین تبت ، روس کے درمیان ایک انتہائی حساس خطہ ہے ، یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت د ینی چائیے کیونکہ اس بات کی آئین پاکستان اجازت نہیں دیتی،اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں در اصل یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگراں رائے شماری ہونا ہے۔آگے یہ بھی حکم کرتا ہے کہ ناردرن ایریاز ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ ہے، حکومت پاکستان 6 مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق،سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں ، اس طرح کے اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی موقف پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہئے۔
گلگت بلتستان کے عوام کا بھی ہمیشہ سے یہی مطالبہ رہا ہے کہ یا تو اس خطے کو تمام مسلے مسائل کو ایک طرف رکھ کا پاکستان میں قانونی طور پر شامل کریں ۔ایسا ممکن نہ ہونے کی صورت میں مسلہ کشمیر کے تناظر میں اس خطے کی متنازعہ حیثیت کو مکمل طور پر بحال کرتے ہوئے گلگت بلتستان کیلئے بھی آذاد کشمیر طرز پر استصواب رائے تک کیلئے ایسا نظام دیں جس میں اس خطے کی شناخت کا تعین ہو۔ اس وقت گلگت بلتستان کے نئی نسل میں اس مسلے کو لیکر سخت تشویش پایا جاتا ہے کیونکہ ایک طرف متنازعہ حیثیت ختم نہیں ہورہا دوسری طرف متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق حاصل نہیں ۔سپریم کورٹ آف پاکستان سے یہاں کے عوام امید لگائے بیٹھے ہیں کہ عدالت عالیہ وہاب الخیر ی کیس پر عمل درآمد کرکے گلگت بلتستان کے عوام کی اکہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں۔

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*