تازہ ترین

شگرکا سیاسی منظرنامہ۔۔

پاکستان کوآزادہوئے اکہترسال کاطویل عرصہ گزرچکاہے،گلگت اوربلتستان کوپاکستان کے ساتھ الحاق ہوئے ستربرس بیدگیاہے،مگرگلگت بلتستان کے عوام ڈوگروں سے آزادہونے کے باوجوداب تک آزادنہیں ہوئے،انہیں آئینی حدودسے دوررکھاگیاہے،عوامی مطالبات کے باجودگلگت بلتستان ریجن کواب تک نہ آئینی صوبہ بنایاگیاہے ناں کہ آزادکشمیرجیساسیٹ اپ دیاگیاہے،بجائے آئینی صوبہ بنانے کے ریاست جموں کشمیرکاحصہ قراردے کرحقوق سے یکسرمحروم رکھاگیاہے،جموں کشمیرکاکیس عالمی عدالت میں زیرسماعت ہے ،اورگلگت بلتستان کوکشمیرکاحصہ اس لیے قراردیاجارہے کہ اگرعالمی عدالت نے ریفرنڈم کرایاتوگلگت بلتستان کے لوگ پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے اورکشمیربھاری اکثریت سے پاکستان کا حصہ ہوں گے،اس تناظرمیں اب تک گلگت بلتستان کومتنازعہ قراردیاجارہاہے،تاریخ میں پہلی بارشہیدبے نظیربھٹونے اپنی دوسری دورحکومت میں گلگت بلتستان میںانتظامی ڈھانچے کوصوبائی طرزپرعوامی سیٹ دے دیاگیا،بعدازاں نوازشریف کی دورحکومت میںشمالی علاقوں کی کونسل کوقانون سازاسمبلی کادرجہ دیاگیا،اس وقت سے لے کراب تک یہ تسلسل برقرارہے،لیکن دلچسپ بات یہ ہے پیپلزپارٹی کی دورحکومت میں انہوںنے گلگت بلتستان کے عوام کوشناخت دینے کے بجائے ایک آرڈرمسلط کردیاگیا،ن لیگ کی حکومت نے بھی پیپلزپارٹی کی پیروی کرتے ہوئے ایک اورآرڈرمسلط کردیاگیا،اب گلگت بلتستان آرڈرپرچل رہے ہیں،لیکن عوام آرڈرزسے بیزارہے۔
گلگت بلتستان میںملک کے چاروں صوبوں کی الیکشن کے ٹھیک دوسال بعد الیکشن ہوتے ہیں ،اگراس الیکشن کورسمی الیکشن کہاجائے توقطعاََ غلط نہیں ہوگا،کیونکہ یہ بات روشن دن کی طرح عیاں ہوتے ہیں کہ اگلی حکومت کس کی ہوگی،پچھلے کئی سالوں سے گلگت بلتستان میں اسی پارٹی نے حکومت کرتی آئی ہے ،جس کی پنجے وفاق میں گاڑے ہوئے ہوں،آپ پچھلے دس پندرہ سالوں کی ڈیٹانکال کردیکھ لیں گلگت بلتستان میں وہی پارٹی براجماں نظرآئے گا جس کی وفاق میں حکومت ہو،2008ْمیں جب وفاق کی کمان پاکستان پیپلزپارٹی نے سنبھالی توگلگت بلتستان میں بھی تیرنشانے پرلگ گیا،2013میں پاکستان مسلم لیگ ن نے وفاق پرقبضہ جمایاتوگلگت بلتستان میں بھی شیرغرغرانے لگے،اب جبکہ وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے توگلگت بلتستان میں بھی ہرطرف بلابلاہونے کاقوی امکان ہے،کیونکہ گلگت بلتستان کے لوگ بھی بڑے سیانے ہے، دفاق کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں،میرے خیال میں یہی بہترطریقہ کارہے،لیکن شگرکی سیاست پچھلے کئی سالوں سے نہایت ہی دلچسپ رہاہے،دلچسپ اس لیے کہ شگروالے وفاق کی سمیت میں چلنے کی بجائے ریورس میں جانابہت پسندکرتے ہیں،جس کی وجہ سے عوامی نمائندے بھی واویلاکرتے ہیں کہ قانون سازاسمبلی میں میراکچھ نہیں سناجاتا،آپ کااس وقت مانے گاجب اقتدارکی کمان آپ کے پارٹی کے پاس ہوگی، پچھلے کئی سالوں پرنظرڈورائیں آپ پرسب کچھ عیاں ہوجائیگا،جب دفاق میں پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت آئی توشگرکے عوام نے پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوارعمران ندیم کوکامیاب کرانے کے بجائے ایم کیوایم کے امیدوارراجہ محمداعظم خان کوکامیاب کرایا،2013میں وفاق کی بھاگ ڈورمسلم لیگ ن نے سنبھالی توشگرکے عوام نے ن لیگ کے متفقہ امیدوارراجہ محمداعظم خان کوکامیاب کرانے کے بجائے پیپلزپارٹی کے امیدوارعمران ندیم کوکامیاب کرایا،اب دیکھنایہ ہوگا وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے توشگرکے عوام تحریک انصاف کے امیدوارکی حمایت کرے گایااپنی روش برقراررکھے گا،یہ تووقت ہی بتائے گا۔
شگرکی سیاسی میدان کی دلچسپی کی ایک اہم وجہ انجینئرعدیل شگری کی میدان سیاست میں انٹری ہے،ان کی انٹری نے باقی تمام نمائندوں کوسوچنے پرمجبورکیاہے،کیونکہ وہ پاکستان تحریک انصاف کی پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصے لینے کے لئے بے تاب ہے،ادھرراجہ اعظم خان (جوکہ عدیل شگری کاسسربھی ہے) کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبرنے عدیل شگری کیلئے خطرے کی گھنٹی بجائی ہے،کیونکہ راجہ اعظم خان گورنرگلگت بلتستان راجہ جلال کے نہایت قریب بھی ہے اورمنجھے ہوئے تجربہ کارشخصیت بھی،اگرانہوں نے تحریک انصاف میں قدم رکھاتوعدیل شگری کاکیابنے گا،کیاتحریک انصاف تجرنہ کارشخصیت کوچھوڑکرناتجربہ کارشخصیت پراعتمادکااظہارکرے گایہ ایک اہم سوال بن کرابھررہاہے،اوراگرراجہ اعظم خان نے ن لیگ میں ہی پناہ لینامناسب سمجھاتوطاہرشگری کاکیابنے گا،کیاوہ اس باربھی الیکشن میں حصہ لیے بغیربیٹھے کوراضی ہوگا،اوراگرانہوںنے مسلم لیگ کوالوداع کہہ کرایم ڈیبلوایم کے خیمے میں جانے کوغنیمت جانا توایم ڈیبلوایم کے گزشتہ امیدوارفداعلی شگری کاکیابنے گا،کیاوہ طاہرشگری کے حق میں بیٹھنے کوتیارہوگا،جوکہ تقریباناممکن لگ رہاہے،ذرائع کے مطابق اس باروفاق میں ڈوبتی پیپلزپارٹی کے امیدوارعمران ندیم(جنہیں بلتستان کی دوسری بہترین ساستدان سمجھاجاتاہے) بھی تیوربدلنے کیلئے ادھراُدھرجھانک رہے ہیں،اگروہ کھلاڑی بن گیاتوعدیل شگری کی سیاست کے درودیوارہلناشروع ہونگے۔اس تمام خدشات کی وجہ سے شگرکی سیاسی میدان نہایت ہی دلچسپی کاباعث بن رہاہے،لیکن شگرکے عوام کواس باراپنی روایات بدلنے ہونگے چاہے پاکستان تحریک انصاف کاامیدارجوبھی ہواس کوکامیاب کرکے دم لیناہونگا،دوسرے حلقوں کے لوگوں کی طرح شگرکے لوگوں کوبھی اپنی تبدیلی کیلئے ووٹ دیناپڑے گا،اگرآپ لوگ واقعی میں شگرکی تبدیلی چاہتے ہیں تودفاق کے ساتھ چلنے کی عادت ڈالنی چاہیے،اگرآپ وفاق کے ساتھ چل کراسی جماعت کے امیدارکوکامیاب کرائیں گے تویقین کریںآپ کے لیڈرپرنہ ووٹ بیچنے کاالزام لے گا،اورنہ وہ باتیں نہ سننے کی شکایت کرسکیں گے،اورامیدواروں کوبھی یہ بات پلے باندھناچاہیے کہ اس کاتعلق جس جماعت سے بھی ہوصرف اورصرف شگرکی ترقی کومدنظررکھ کراسی کیلئے جدوجہدکریں،یہی شگرکی ترقی کاواحدحل ہے اورلوگوں کی آخری امیدبھی۔

تحریر : ممتاز عباس شگری

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*