تازہ ترین

بلتستا ن و گلگت کے عظیم حکمران علی شیر خان انچن سے گلگت بلتستان آرڈر 2018 تک۔۔

دو پہاڑی سلسلوں قراقرم اور ہمالیہ کے دامن میں 9968 مربع میل پر محیط خوبصورت سیاحتی خطہ بلتستان جسے آٹھویں صدی عیسوی تک پلولو کے نام سے جانا جاتا تھا ۔ تبت اور لداخ والے اس پورے علاقے کو بلتی اور یہاں کے باشندوں کو بلتی پا کے نام سے پُکارتے تھے۔ دوسری صدی عیسوی کے محقیقین نےاس علاقے کا بالتی کے نام سے ذکر کیا ہے۔ تاریخی حوالے سے بلتستان کے سترفیصد باشندے تبتی نژاد ہیں اور تبت والے زمانہ قدیم میں بلتستان کو نانگ گونگ کے نام سے پُکارتے تھے۔ کشمیری اس علاقے کو بوٹن اورسوری بوٹن یعنی بدھ مت والے کے نام سے پکارتے تھے ۔ زمانہ قدیم میں اس علاقے کے لوگوں کو پلولو کے نام سے پکارا جاتا تھا یہی سبب ہے کہ آج بھی گلگت کے بعض باشندے بلتستان والوں کو اسی نام سے پُکارتے ہیں۔ لیکن آج یہ علاقہ بلتستان کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلتستان پر مقبون،اماچہ اور یبگو خاندان نے عرصہ دراز تک حکمرانی کی ہے لیکن تاریخ بلتستان میں مقپون سلطنت کے علاوہ دیگر خاندانوں کے بارے میں اب تک کوئی معلومات نہیں۔ بلتستان میں موجود شاہی محلوں اور تاریخی عمارتوں سے البتہ متعدد حکمران خاندانوں کا پتہ چلتا ہے۔ سوایے مقپون کے دیگر دونوں خاندانوں کے عرصہ حکمرانی کا کوئی مستند اور مفصل احوال موجود نہیں۔ ان خاندانوں کے تعمیر کردہ محل، قلعے اور پُل البتہ موجود ہیں۔ مقپون پُل، میندوق کھر سکردو، نہر گنگوپی، خپلو، شگر اور کھرمنگ کے شاہی محلات یہ پتہ دیتے ہیں کہ بلتستان میں کئی خاندان برسر اقتدار رہے ہیں۔ کھرپوچو کا عسکری قلعہ بلتستان کی عظیم عسکری تاریخ کا منہ بُولتا ثبوت ہے۔ اپنے عروج کے زمانے میں بلتستان کے حکمرانوں نے لداخ سے ہنزہ تک حکمرانی کی، ہنزہ میں آج بھی ایک بلتت کھر یعنی(بلتی کا بنایا ہوا محل) موجود ہے۔ نویں صدی عیسوی میں یہ علاقہ تبت کے زیرِ تسلط آیا۔ تبتی دور حکومت میں بلتیوں اور تبتیوں نے مل کر چینی فوج کو یاسین سے پرے دریاءے آکسس کے مقام پر شکست دی۔ تبت کا ثقافت کا اثر آج بھی گلگت بلتستان پر واضح ہے، بلتی زبان تبتی زبان کی اٹھائیسوں شاخ ہے۔ تبتی سلطنت کے خاتمے کے بعد گلگت بلتستان مختلف حصوں میں بٹ گیا اور گلگت، چلاس میں دردستان، ہنزہ اور نگر میں بروشال جبکہ بلتستان میں شگر، خپلو اور سکردو کی ریاستیں وجود میں آئیں۔ اسی طرح سولہویں صدی عیسوی میں سکردو کے مقپون خاندان کے ایک چشم و چراغ راجہ علی شیر خان انچن (جنہیں مغل تاریخ دان علی رائے تبتی کے نام سے یاد کرتے ہیں)(حوالہ تاریخ ہندوستان) نے پورے گلگت بلتستان کو ایک بار پھر متحد کیا اور چترال سے لے کر لداخ تک حکومت قائم کی۔ اس حکومت کی شان و شوکت خپلو، شگر اور کھرمنگ میں موجود قلعوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہنزہ میں موجود بلتت اور التت قلعے بلتی بادشاہ نے اپنی شہزادی کے لیے بنائے تھے جس کی شادی ہنزہ کے ھکمران سے ہوئی تھی۔ دریایےگلگت اور دریایے سندھ کے سنگم کے قریب ایک پولو گراؤنڈ بھی ہے جسے مقپون پولو گراؤنڈ کہتے ہیں، اور مقپون داس بھی اسی دورکی یادگار ہیں۔ سکردو میں موجود قلعہ کھرپوچو، گنگوپی نہر، سدپارہ جھیل پر بنایا گیا بند اور چین کے ساتھ تجارتی شاہراہ براستہ مزتغ بھی اسی دور کی یادگاروں میں شامل ہیں۔تاریخ ہندوستان اور تاریخ فرشتہ میں ملا قاسم فرشتہ نےاس تاریخی واقعے کا ذکر کیا ہے جب مغل فوج کی لڑائی تبتی(بلتی) فوج کے ساتھ کشمیر کے شمالی پہاڑوں پر ہوئی۔ اس لڑائی میں مغل فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد میں مغل شہنشاہ اکبر نے بلتی بادشاہ علی رائے یعنی علی شیر خان انچن کے پاس اپنے سفیربھیجے اور سفارتی تعلقات قائم کرنے کی خواہش ظاہر کی، یوں مغل دربار میں علی رائے نے اکبر سے ملاقات کی اور ایک مغل شہزادی کی شادی بلتی شہزادے کے ساتھ ہوئی۔ مغل شہزادی کا نام گل خاتون تھا جس کا تاریخی ثبوت سکردو میں مغل شہزادی کے نام سے بنایا گیا مندوق گھر ہے (مندوق بلتی زبان میں پھول کو کہتے ہیں)۔ علی شیر خان انچن کا زمانہ مقپون سلطنت کے عروج کا دور تھا۔ لیکن تاریخ میں لکھا ہے کہ انچن کی وفات کے بعد اس کے بیٹوں کے درمیان خانہ جنگی نے مقپون خاندان کا شیرازہ بکھیر دیا۔ سنہ اٹھارہ سو میں علی شیر خان ثانی کی وفات کے بعد اُسکا بڑا بیٹا راجہ احمد شاہ مقپون سلطنت کا حکمران بنا۔ اُس وقت شگر کا راجہ اعظم خان فوت ہوچُکا تھا اور اُسکا بیٹا حیدر خان شگر کے راجہ تھے ۔راجہ احمد شاہ نے اپنے بھتیجے عبدال خان کی سرکردگی میں خپلو پر حملہ کیا کیونکہ کہا یہ جاتا ہے کہ کھپلو(موجودہ خپلو) والوں نے پرکوتہ(مہدی آباد )پر دست اندازی کی تھی۔تاریخ کے کتابوں میں یہ بات درج ہے کہ اُس وقت خپلو میں مہدی علی خان حاکم تھا جس نے بامداد راجہ لداخ اپنے دنوں بھائیوں دولت علی خان اور محمد شاہ کو ملک سے نکال کر نوابرہ(موجودہ نوبرہ لداخ) میں قید کیا تھا۔ مہدی علی خان نے عبدال خان کو شکست دیکر فوج اور سرداروں کو قید کرلیا اور عبدال خان کو نوابرہ بھیج دیا۔ احمد شاہ کو اس واقعے سے بڑا صدمہ ہوا اور اُس نے سفارت کے ذریعے اپنے قیدیوں کو آذاد کرانے کی کوشش کی اور اس حوالے سے کریس کے مُلا جابر کو ذمہ داریاں سونپ دی۔ احمد شاہ نے وعدہ کیاکہ اگر تمام قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہیں تو کبھی( پھونگ پڑی ) سے اوپر دست اندازی نہیں کرے گا،مگر مہدی علی خان نے قیدیوں کو چھوڑنے سے صاف انکار کردیا احمد شاہ نے قیدیوں کے رہائی کے عوض مساوی الوزن سونا دینےکا بھی آفر کیا لیکن مہدی علی خان کے اوپر اس کا اُلٹا اثر ہوا اور اُنہوں نے عبدال خان کے سر میں میخ ٹھونک کر قید خانے میں قتل کردیا۔عبدال خان کے قبر کا آثار آج بھی نوبرا لداخ میں ہونے کی اطلاع ہے۔ ان تمام معاملات نے احمد شاہ کو انتقام کی آگ میں دھکیل دیا اور اُنہوں بذات خود خپلو پر حملہ کیا اور مہدی علی خان کو شکست دیکر قید کرلیا۔اور خپلو کا سکردو کے ساتھ الحاق کرکے یول سترونگ کریم کو حاکم خپلو مقرر کردیا۔اُس وقت چونکہ بلتستان ایک طرح سے حالت جنگ میں تھا اور اس جنگی صورت حال کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ڈوگرہ سرکار نے بھی بلتستان میں حملہ کرنے کی ٹھان لی۔ ڈوگرہ سرکار کے جنرل زور آور سنگھ نے لداخ پر قبضے کے بعد 1840 عیسوی میں سکردو پر حملہ کیا اور بلتستان پر قبضہ کر لیا۔ وہ کشتواڑ کا ایک راجپوت تھا اور اس وقت مہاراجہ گلاب سنگھ فوج میں تھا۔ جب وہ تبتی فوج کے خلاف لڑنے میں بہت مصروف ۔12 دسمبر 1841ء کو زور آور سنگھ مارا گیا تو کھرمنگ اور خپلوراجاوں نےاقتدار کیلئےڈوگروں کا ساتھ دیا جبکہ راجہ احمد شاہ مقپون نے آزادی کا علم بلند کیا مگر آزادی کی یہ جدوجہد کامیاب نہ ہوسکی اور بلتستان 1842ء میں پھر ڈوگرہ حکومت کے قبضے میں چلا گیا۔یوں مقپون خاندان کے اس چشم چراغ کو اپنے خاندان کے ساتھ گرفتار کرکے سرینگر لے جاکرمیں کشتواڑ جیل میں ایک قید کے طور پر بند کر دیا۔ جہاں وہ کچھ عرصہ بعد وفات پاگیا۔ کشمیر میں مدفن راجہ احمد شاہ مقپون کے اولادوں کی تفضیل یوں ہے ۔استور والی رانی سے شاہ مراد اور محمد شاہ دو بیٹے تھے ۔ جبکہ شگر والی رانی دولت خاتون سے محمد علی خان ، لطف علی خان حسین علی خان ، امیر حیدر، وغیرہ تھے ۔ حسین علی خان محب لطف علی خان کا بیٹا تھا۔ڈوگروں نے دولت خاتون سے جتنے بیٹے تھے انہیں پہلے جموں میں نظر بند کردیا۔احمد شاہ کے انتقال پر دولت خاتون اور بیٹوں کو کشمیر کے ایک پہاڑی جگہ ترال میں کچھ زمین دے کر وہاں رکھا۔۱۹۴۷ تک ان پر وہ وہیں نظر بند تھے ان کی اولاد اب وہیں ہے چند ایک سرینگر میں ملازمت کرتے ہیں۔سکردو کے ڈوگرہ والی سرکار راجہ محمد شاہ کا بیٹا علی شاہ تھا ۔یہ کم سنی میں راجہ بنا اور طویل عمر پایا۔ اس کا بیٹا حسن خان تھا اور اُس کا بیٹا محمد علی شاہ بیدل تھا،اس کا بیٹا جعفر علی خان تھا، اس کا بیٹاذولفقار علی خان تھا اور اس کا بیٹا راجہ جلال حسین ہے ۔ جو موجودہ گونرگلگت بلتستان ہے۔ سری نگر میں قید رگیلفواحمد شاہ مقپون پریہ الزام لگایا گیا تھا کہ انہوں نےاپنے ولی عہد بیٹے محمد شاہ پر ظلم کیا ہے اور اپنی وراثت سے محروم کردیا ہے جبکہ محمد شاہ دوگرہ سرکا ر کے پاس پناہ گزین تھا جسے احمد شاہ نے لداخ اپنے آدمی بھیج کر اغوا کرکے ے گیا اور سکردو جیل میں ڈالا ۔
راجہ احمد شاہ مقپون کے بیٹوں میںراجہ احمد شاہ مقپون کے چار بیٹے تھے ان میں سے راجہ حسین علی خان مقپون المعرف محب1830-1949، جنہیں بلتی زبان اور بلتستان کے میر انیس کے نام سے جانا جاتا ہے۔اُنہوں نے دوران اسیری اپنے ساتھ ہونے والے مظالم کو مرثیہ نگار اور قصدے کی شکل میں بیان کیا جو بلتستان کی ایک زندہ تاریخ ہے۔ مقپون احمد شاہ کے خاندان کے کل 15 گھرانے آباد ہیں ہیں جو آج بھی 175 سال بعد بھی کشمیر میں رہتے ہوئے اب بھی اپنی مادری زبان بلتی بولتے ہیں آج بھی مقپوں احمد شاہ کے خاندان نے بلتی تاریخ اور شاعری اور بلتی ثقافت کو زندہ رکھا ہوا ہے ۔ اب ہم ذرا اُن راجاوں کی بات کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف راجہ احمد خان کا بغاوت اور گرفتاری اور ملک بدر دوسری طرف ڈوگروں سے عہد وفا کرکے بلتستان پر من مانی کی راجگیری تاریخ بلتستان کا ایک سیاہ باب ہے۔ راجگیری کے عوض ڈوگروں نے وفاداری نبھانے والے راجاوں نے جہاں بلتستان کے عوام پر ظلم اور ذیادتیوں کی بربریت کرکے تاریخ رقم کردیا وہیں ان راجاوں کو بلتی قوم کے اوپر مسلط کردیا جو ایک طرح لینڈ مافیا ہوا بن گیے تھے یہی وجہ ہے کہ آج بھی بلتستان کے بہت سارے علاقوں میں کاشت کار عوام ہیں لیکن سرکاری کاغذات پر زمینوں کی ملکیت راجاوں کے نام سے ہے۔ صرف یہ نہیں بلکہ اُس دور کے عوام کو سفید کپڑا تک پہنے کی اجازت نہیں تھی کسی مجال نہیں تھی کہ وہ راجہ کی مزاج سے ہٹ کر کسی محفل میں منہ کھولیں یعنی ایک طرح سے بلتستان کے راجاوں نے یہاں کے عوام کو غلام بنایا ہوا تھا۔یہاں تک کہا جاتا ہے کہ کسی مال مویشی اور کھیتی باڑی سے جو جنس کی صورت میں آمدنی ہوتی تھی اُسے سب سے پہلے راجاوں کیلئے الگ کرنا پڑتا تھا۔مقامی افراد کو بغیر کسی معاوضے کے راجگان شکار پر لے جاتے تھے عوام کو بغیر کسی معاوضے کے راجاوں کے گھر کا سارا کام کاج کرنا پڑتا تھا،دہشت کا یہ عالم تھا کہ بلتستان کی تاریخ میں راجگان کی خوف سے خودکشی کرنے کے واقعات کا اکثر علاقوںمیں آج بھی ذکر ہوتے ہیں۔ آج بلتستان میں خالصہ سرکار کے بعد سب سے ذیادہ زمینیں راجگان کے نام پر انتقال ہیں جبکہ ایک غریب آدمی آج بھی کئی داہائیوں زیر کاشت زمینوں کے مالک نہیں۔ لیکن خدا بھٹو کو غریق رحمت عطا فرمائے جنہوں نے بلتستان کے عوام کو مقامی راجگان کی غلامی سے آذادی دلایا ۔ یوں بلتستان کا اصل وطن پرست راجہ احمد شاہ مقپون آج بھی کشمیر میں مدفون ہیں اور اُنکے اولادیں وطن سے دور جلاوطنی کے عالم میں معمولی سرکاری نوکری کرتے ہیں لیکن بلتستان میں ڈوگروں کے وفادار راجائیں کل بھی عیاشی میں تھے اور آج بھی اقتدار اور مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ اللہ بلتستان کے حقیقی راجہ احمد شاہ مقپون کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔۔

تحریر : شیر علی انجم

  •  
  • 97
  •  
  •  
  •  
  •  
    97
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*