تازہ ترین

گلگت بلتستان میں ٹیلی کمیونیکیشن کی تاریخ اور کارکردگی پر تحریر نیوز کی تحقیقاتی رپورٹ

سکردو(تحریر نیوز تحقیقاتی رپورٹ) گلگت بلتستان میں ٹی این ٹی نے ٹیلی مواصلات کا نظام سنبھال کر عوام کو ٹیلی مواصلات کی سہولیات فراہم کررہا تھا اور ٹی این ٹی اپ گلگت بلتستان میں سپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن بن گیا مگر افسوس اس محکمے میں جو  بھی افسر اتا ہے ان کو دور جدید کے ٹیکنالوجی سے دور دور تک واسطہ نہیں ہوتا ہے اور انکم گلگت بلتستان سے حاصل کرتے ہوئے پاکستان کے دیگر شہروں سے لوگوں کو نوکریاں دے کر گلگت بلتستان میں لایا جارہا ہیں گلگت بلتستان کے عوامی نمائندے بھی ان کے سامنے لاچار اور بے بس ہیں ان کے خلاف بولنا گناہ تصور کرتے ہیں اور غداری کے زمرے میں انے کے ڈر سے خاموش تماشائی کا رول ادا کررہا ہے اور انکم گلگت بلتستان سے حاصل کرکے روزگار غیر مقامی لوگوں کو نواز جارہا ہیں کیونکہ گلگت بلتستان میں بے روزگاری ُنہیں ہے نہ اس وجہ سے غیر مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہیں اپ چند سالوں سے اس محکمے کے حکام کو پتہ چلا کہ ہم جس خطے میں کام کررہا ہے وہ تو دنیا کا پسماندہ ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے بے روزگاری کی شرح پوری پاکستان میں سب سے زیادہ ہیں یہاں پر کوئی انڈسٹری وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہیں اور اپ گلگت بلتستان کے بڑی مشکل سے دو سے تین فیصد لوگوں کو روزگار دے کر یہاں کے عوام کو خاموش کردیا ہیں عوام کو بے وقوف بنانے کی فارمولے پر کام کرتے ہوئے چند لوگوں کو روزگار دیا ہے اور اگر محکمے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے صفر ہے ان کا دعویٰ ہے ان کا محکمہ دنیا کے پسماندہ علاقے میں کام سر انجام دے رہا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا ہے اور اس محکمے کارکردگی اس بات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کی کسی صارف کا ٹیلی فون کنکشن میں فنی خرابی پیدا جائے تو ہفتوں مہینوں تک ٹھیک کرنے کیلئے ان کا سٹاف حاضر نہیں ہوتا ہے اور اور ایس کام موبائل سروس کا بات کریں تو ان کے ٹاورز پر جو مشینری لگا ہوا 1971 کی دہائی کا ہے اور ایک ٹاورز کے حدود میں 60 ایس کام صارفین بات کریں تو 61 والا صارف کو کال ڈائل کرنا ناممکن ہے 71 ماڈل کے مشینری لیکر دور جدید کا مقابلہ کرنے کیلئے میدان میں انے والے محکمے کا کارکردگی مثالی اور عوام دھوکہ دینے کیلئے دو سال پہلے فورجی سونگ بھی پورا گلگت بلتستان کے کونے کونے جاکے ریکارڈ کیا اور فور جی اپ تک برائے نام چل رہا ہے جو ٹو جی کے مقابلے میں نہیں ہے اور اور سب سے بڑا جھوٹ بول رہا ٹیکس فری نیٹ ورک ہے اور اپ پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی سے چوری چھپے تھری جی اور فور جی سروس چلا رہا ہے اور تھری جی فور جی انٹرنیٹ پیکیج پر ٹیکس لاگو کیا گیا اور دنیا کے پسماندہ ترین علاقے میں دنیا کا سب سے مہنگا ترین انٹرنیٹ پیکیج دیا جارہا کیونکہ دوسرے موبائل فونز کمپنیوں کو گلگت بلتستان میں تھری جی اور فور جی سروس چلانے کیلئے فائبر کیبل کا لنک دینے کیلئے پہلے تو تیار نہیں ہے اگر دیا جائے تو کروڑوں ڈالر ماہانہ فیس لینے کی چکر میں تنگ کرکے انے نہیں دیا جارہا ہے سوال یہ بنتا ہے اگر ایس کام تھری جی فور جی سروس چلا سکتا ہے تو اخر دوسرے موبائل فونز کمپنیوں کو کیا مشکلات ہوسکتا وجہ یہی ہے کہ ایس سی او دوسرے کمپنیوں کو تھری جی فور جی انٹرنیٹ سروس اس لئے چلانے نہیں دیتا کی وہ خود اکیلا بے تاج بادشاہ بن کر عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ مار کرتے رہے جبکہ یہاں پر دوسرے موبائل فونز کمپنیاں یہاں پر تھری جی فور جی سروس چلانے کیلئے جب اقدامات کرنے لگتا ہے تو سیکورٹی رسک قرار دے کر ان کو اجازت بھی نہیں دیا جارہا ہے ایس سی او گلگت بلتستان کیلئے لئے وبال جان بنا ہوا ہے اپ بات کرتے ہیں ایس سی او کا ڈی ایس ایل انٹرنیٹ سروس تو کمال کا ہے مہینے میں ایک ہفتہ فائبر آپٹک کیبل بریک ہونے کا شوشہ چھوڑ کر یہاں کے عوام کا دنیا سے رابطہ منقطع کیا جاتا ہے اور اور ہفتے کیلئے سروس بند رکھا کر بھی پورے مہینے کا فیس وصول کیا جاتا ہے اور چوبیس گھنٹوں میں بھی دس منٹ بیس منٹ چالیس منٹ بند رہے کر تین سے چار گھنٹہ بند رہتا ہے فائبر بریک ہونا روز کا معمول بنا ہوا ہے

(نوٹ)
جاری ہے
رپورٹ مکمل نہیں ہوا ہے

  •  
  • 9
  •  
  •  
  •  
  •  
    9
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*