تازہ ترین

ستاروں کے دیس سے تارے زمین پر۔۔

ماضی کی یادیں اور انسان کا دکھ کھبی بھلایا نہیں جا سکتا۔ایک حال میں خوشیوں کا قاتل بن جاتا ہے تو دوسری یادیوں کے دریچے کھول کر مجھ جیسے کمزور انسان کو نوید سحر بن کر طلوع زندگی کے حسین خوشبو عنایت کر دیتا ہے۔ایک حسین خواب ،خوشگوار ماضی مجھ جیسے نامراد شخص کی زندگی کو سہارا دینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔ورنہ ہم جیسے لوگ زندگی کی موڑ کاٹنے سے بھی قاصر رہ جاینگے۔ اگر کوئی مجھ سے یہ پوچھے کہ تیری ماضی کی عنایت کیا ہے تو میں بلا ججھک اس شخص کے سامنے اپنے ماضی کی حسین یادوں کو نایاب مثال کے طور پر پیش کرنے کو فخر سمجھوں گا۔اگر میں اپنے ماضی کے لمحات کو سرمایہ کہوں اور اس سرمایہ کے آماجگاہ کے لئے اپنے گاوں کا انتخاب نہ کریں تو بہت بڑی ذیادتی ہو گی۔کیونکہ میرے گاوں کے ہر صبح و شام کی ہوائیں میری یادیوں کے دیس کا مسکن رہا ہے۔وہ کون کون سی میری یادیں نہ ہو گی جس کی میرے گاٶں نگہبان نہ رہا ہو۔اگر میں یوں کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ میری یادیوں کے چمن کا باغباں اگر کوئی ہے تو وہ میری گاوں کے صبح و شام کا ہر وہ دلفریب منظر ہے جس کی چاہ میں عرش سے فرشتے زمین پر اترنے کا من لئے رہتے ہیں۔کچھ یادیں ایسی ہے جنہیں صرف یاد ہی کر کے گزارہ کیا جا سکتا ہے لیکن کچھ یادوں کےکیلئے ہمسفر آج بھی ساتھ نبہھانے کی طاقت رکھتے ہیں۔میرے کہنے کا مقصد کچھ یادوں کو نشر مکرر کر سکتے ہیں۔انہی یادوں کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر شام ہوتے ہی ہم نے بچپن کی طرح چھت پر سونے کا فیصلہ کیا۔فرق صرف اتنا تھا کہ بچپن میں موسم صاف ہوتے ہی چھت پر سونے جاتا تھا مگر آج کا فیصلہ موسم ابرآلود ہونے کی بنإ پر بھی کیا تھا۔خیر ہماری تو خواہیش بھی تھی لیکن احتمال یہ بھی تھا کہ بارش برس کر میرے والدین کی محنت ضائع نہ ہو جائے۔اس لیے چھت پر سونا خواہیش کی تکمیل اور سامان کی حفاظت دونوں کی خاطر بن گئی تھی۔میں نے شاید اوپر لکھا ہے موسم ابرآلود تھا اس لئے آج مجھے آج آسمان پر ستارے نظر نہیں آرہے تھے کیونکہ بچپن میں جب بھی چھت پر جاتا تھا تو ستاروں کی گنتی کرنا معمول کا کام تھا لیکن شاید آج ہم سے ستارے خفا تھے یا بادل کا ذور آسمان پر غالب تھا تاروں کے شہر ویران پڑا ہوا تھا۔ہم نے ہمت نہیں ہاری اور تاروں کے تعاقب میں رہا بڑی تگ و دو کے بعد ایک تارہ مسکراتا ہوا نمودار ہوا تو ہم نے بھی ادھر اُدھر دیکھے بنإ سوال داغ دیا اے چمکتا ستارہ اس بادل کے بیج تم یک و تنہا کیسے نمودار ہوا تو تارے نے بھی بغیر خوف و خطر مجھ سے کہا کہ بادل سے مقابلہ کر کے دیدار آدم کے لئےحاضر ہوا ہوں کیونکہ آپ تو جانتے ہیں کہ میرا کام چمکنا ہے اور بھلا میں چمکنا کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔میں نے پوچھا پیارے تارے میں جانتا ہوں تیرا کام چمکنا ہی ہیں لیکن اکیلا؟ تو فوراً بغیر ججھک تارے نے کہا کہ سب ستارے جو میرے ہمنوا تھے وہ بادل کے ذور کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے ہیں ۔انہوں نے بادل سے مقابل آنے کے بجائے یہ تاویل پیش کیا کہ اب ابن آدم نے مضنوعی چمک دریافت کر لی اب ان کو ہماری ضرورت نہیں رہی لیکن یہ سب تاویلیں بادل کے زور کے مقابل آنے سے بچنے کےلئےپیش کیا جارہا ہے۔لیکن میں حقیقت جانتا ہوں کہ اب ستاروں میں وہ طاقت نہیں رہی جو پہلے زمانے میں بادل کے مقابل ہوا کرتی تھی۔اسی کے ساتھ عجلت میں تارے نے مجھ سے یہ کہہ کر اجازت چاہی کہ مجھے اب کسی اور شہر جا کر چمکنا ہے کیونکہ ستارے اب گردش کرنے سے بھی کتراتے ہیں۔میں اس قصے کو بھی ماضی بنا کر پیش کرنے کی کوشش میں لگا ہی تھا آسمان سے تارے نے کہا اف اے ابن آدم تم مستقبل کی کہانی کو سمجھ نہیں سکا۔مجھے تارے کی بات پربڑی حیرت ہوئی ماضی بنے والی روداد مستقبل کیسی تو بڑی سوچ و بچار کے بعد عبدالستار ایدھی جیسی شخصیات ناقص عقل کے گرد گھومتے نظر آیا اور خود سے ہمکلامی کرتے ہوئے ماضی کے محسن انسانیت کو مستقبل کا ہیرو کے روپ میں دیکھنے لگا۔سچ ہے اس ستارے کی بات جو دنیا میں روشنی پھیلاتے ہیں وہ زندگی بھی امر ہو جاتے ہیں اور ماضی بنے کے بجائے مستقبل کا روپ دھار لیتے ہیں۔اس کے برعکس جو زمانے کے طوفانوں کے مقابل آنے سے ڈرتے ہیں وہ ختم ہو جاتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے حق اور سچ کے راستے پر چلنے والے اور سماج کی خدمت کرنے والے لوگ ہمیشہ زندہ و پائندہ رہا ہے۔اسی لئے پوری دنیا چودہ سو سالوں سے حسینیت زندہ باد اور یزدیت مردہ باد کے نعرے بلند کر رہا ہیں۔

تحریر: ذوالفقار علی کھرمنگی

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*