تازہ ترین

گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ میں خفیہ دستاویز کا معمہ۔

گذشتہ دنوں سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے گلگت بلتستان بار کونسل اور گلگت بلتستان کے دیگر رہنماوں کی دائر درخواست پر کیس کی سماعت چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دوران سماعت چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو بتایا کہ میرے پاس کچھ دستاویزات ہیں، وہ دستاویزات اوپن کورٹ میں نہیں رکھ سکتا، اس لئے اگر اجازت دیں تو چیمبر میں وہ دستاویزات آپکو دکھا سکتا ہوں۔ اخباری خبروں کے مطابق اس حوالے سے چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری کوشش ہے گلگت بلتستان کے لوگوں کو وہی حقوق دیں جو یہاں کے لوگوں کو دستیاب ہیں۔ خبروں کے مطابق چیف جسٹس نے یہاں تک بھی کہا کہ اس کیس کیلئے اگر دوسرے کیسز ملتوی بھی کرنے پڑے تو کر لیں گے۔ یوں عدالت عالیہ نے گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیوں اور اس حوالے سے سپریم کورٹ آف پاکستان کا وہاب الخیری کیس کے معاملے کو اٹارنی جنرل اور وکلاء کی درخواست پر کیس کی سماعت 9 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ قارئین کو گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے حوالے سے الجہاد ٹرسٹ کے وہاب الخیری کیس کے بارے میں شائد ہی کسی کو معلوم ہو لہٰذا قارئین کی معلومات کیلئے گلگت بلتستان کے حوالے سے وہاب الخیری کیس پر 28 اپریل 1999ء سپریم کورٹ کے فیصلہ دیا ہوا تھا وہ کچھ یوں ہے۔ یہ آئینی پٹیشن آئین پاکستان کے آرٹیکل 184(3 ) کے تحت دائر کی گئی تھی۔

الجہاد ٹرسٹ کیس کے فیصلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1999ء میں وفاق پاکستان کو حکم دیا تھا کہ آئین سمیت تمام قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے لوگوں کو تمام جمہوری حقوق دیے جائیں۔ لیکن اس کے برعکس حکومت نے 2009 میں گلگت بلتستان میں سلیف گورننس آرڈر کے ذریعے ایک نظام دیا ہے جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے منافی تھے ۔ بنیادی طور پر یہ دو آئینی پٹیشنیں تھیں جنہیں سپریم کورٹ نے ضم کر کے سماعت کیا اور ایک ساتھ نمٹا دیا ۔ان میں سے ایک پٹیشن 94/17گلگت بلتستان کونسل کی سابق ممبر فوزیہ سلیم عباس نے دائر کی تھی جبکہ دوسری 94/11الجہاد ٹرسٹ کے حبیب وہاب الخیری نے دائر کی تھی۔ ان دونوں پٹیشنوں کو سننے کے لئے سُپریم کورٹ کے اُس وقت کے چیف جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں پانچ رُکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس نے متفقہ طور پر فیصلہ جاری کیا تھا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان اپنی تاریخی فیصلہ 28 اپریل 1999ء میں صفحہ نمبر 42 پر حکم صادر کرتا ہے کہ گلگت بلتستان جغرافیائی لحاظ سے انڈیا، چین تبت، روس کے درمیان ایک انتہائی حساس خطہ ہے، یہ عدالت فیصلہ نہیں کر سکتی کہ گلگت بلتستان کو کس طرح کی حکومت دینی چاہیئے کیونکہ اس بات کی آئین پاکستان اجازت نہیں دیتی، اور نہ ہی ہم ہدایت دے سکتے ہیں کہ گلگت بلتستان کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی جائے کیونکہ یہ ملک کے عظیم تر مفاد میں نہیں دراصل یہاں اقوام متحدہ کے زیر نگراں رائے شماری ہونا ہے۔ آگے یہ بھی حکم کرتا ہے کہ ناردرن ایریاز ریاست جموں و کشمیر کا آئینی حصہ ہے، حکومت پاکستان 6 مہینوں کے اندر یہاں بنیادی حقوق، سیاسی اور انتظامی اداروں کی فراہمی کو یقینی بنائیں، اس طرح کے اقدام سے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی موقف پر کوئی فرق نہیں پڑنا چاہیئے۔

گذشتہ ہفتے اس کیس کی سماعت کے پہلے دن گلگت بلتستان میں عوامی ایکشن کمیٹی نے پرہجوم آل پارٹیز کانفرنس کی، جس میں متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان اسمبلی، صدر چیف کورٹ بار گلگت، انجمن تاجران، گلگت بلتستان سپریم کونسل، قراقرم نیشنل موومنٹ سمیت عوامی ایکشن کمیٹی میں موجود سیاسی و مذہبی جماعتیں شریک ہوئیں۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے حصول کیلئے مختلف پلیٹ فارم پر جدوجہد کرنے والے افراد اور جماعتوں کے کردار کو سراہتے ہوئے مکمل تعاون کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی 25 ستمبر کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں اس مسئلے کی سماعت کے حوالے سے کیس کی پیروی کرنے والے تمام افراد کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان 1999 وہاب الخیری کیس کے فیصلے پر فوری طور پر عملدرآمد کراتے ہوئے گلگت بلتستان سے تمام تر وقتی آرڈرز کا خاتمہ کرے۔ یوں یہ بات طے ہوگیا کہ گلگت بلتستان کے عوام بھی مسئلہ کشمیر کو خراب کرنا نہیں چاہتے ہیں ورنہ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ گلگت بلتستان کے کچھ مذہبی جماعت پانچواں آئینی صوبے کی مطالبے سے دستبردار ہونے کیلئے تیار نہیں تھے لیکن اب وقت بدل گیا ہے، یہاں تک کہ پاکستان پیپلزپارٹی کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ گلگت بلتستان کو مسئلہ کشمیر کے تناظر میں متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق دیکر اکہتر سالہ محرومیوں کا ازالہ کریں۔

مسلم لیگ نون جب اقتدار میں نہیں تھے تو اُس وقت اُنکا بھی یہی موقف تھا کہ گلگت بلتستان کو متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق ملنا چاہیئے لیکن اقتدار حاصل ہونے کے بعد اُنہوں نے حقوق کی بات کرنے والوں پر ظلم اور جبر کے جو پہاڑ گرائے وہ بھی تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ چیف جسٹس کے سوال پر اٹارنی جنرل گلگت بلتستان کے حوالے سے کچھ دستاویزات کا ذکر اور اُن دستاویزات اوپن کورٹ میں نہیں رکھنے کے معاملے پر گلگت بلتستان میں ایک نیا بحث چھیڑ گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر گزشتہ کئی دنوں سے خوب گرما گرمی ہے عوام سوال اُٹھا رہے ہیں کہ آخری ایسی کونسی دستاویز ہے جسے چھپایا جا رہا ہے۔ گلگت بلتستان سینئیر وکیل سوشل رہنما، سابق صدر گلگت بلتستان بار کونسل اور موجودہ صدر سپریم اپلیٹ بار اور سابق چیرمین عوامی ایکشن کمیٹی احسان علی ایڈوکیٹ لکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سی خفیہ دستاویزات ہیں جو وفاق پاکستان ملک کی سب سے بڑی عدالت میں بھی دکھانا نہیں چاہتا پہلی بات تو یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے بارے میں تاریخی حقائق سے متعلق تمام دستاویزات، گلگت بلتستان اور ریاست جموں کشمیر کے دوسرے تاریخی حصوں کے بابت سکیورٹی کونسل اور UNCIP کی قراردادیں بھی ریکارڈ پہ موجود ہیں۔ نیز شملہ معاہدہ، پاک چین سرحدی معاہدہ جس کے تحت جی بی کا 2000 مربع میل وسیع ایریا چین کو دی گئی ہے اور نام نہاد معاہدہ کراچی یہ سب بھی ریکارڈ کا حصہ ہیں ان میں سے کوئی بھی دستاویز خفیہ نہیں ان کے علاوہ حکومت پاکستان کے پاس کوئی دستاویز ایسی نہیں جسے خفیہ رکھا جا سکے۔

دراصل پاکستان کی مختلف حکومتوں کی طرف سے گذشتہ 71 سالوں میں جی بی کے عوام کے ساتھ کی گئی وہ نو آبادیاتی سلوک ہے، نیز تنازعہ کشمیر سے متعلق UNCIP کی گلگت بلتستان میں لوکل اتھارٹی قائم کرکے اس خطے سے پاکستان کی فوج و دیگر سویلین افراد کے انحلا کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو مکمل اندرونی خودمختاری دینے سے متعلق 13 اگست 1948ء کی قراداد کی صریحا خلاف ورزی اور اس خطے میں من پسند ایگزیکٹیو آرڈرز کے ذریعے اس خطے کے تمام سیاہ و سفید کے مالک اسلام آباد کے حکمرانوں کو بنانے اور یہاں کی عوامی اراضیات کو ہتھیا کر من پسند افراد میں بندربانٹ کرنے اور یہاں کی قدرتی و معدنی وسائل دولت بڑے سرمایہ داروں اور ملٹی نیشنلز کو اونے پونے داموں دینے کیلئے اسٹیٹ سبجیکٹ رولز کی مسلسل خلاف ورزی کرنے اور اپنے غیر آئینی و غیر قانونی اقدامات پہ پردہ ڈالنے کیلئے نام نہاد ایگزیکٹیو آرڈرز کے ذریعے من پسند قوانین جی بی کے عوام پہ مسلط کرنے جیسے غیر آئینی اقدامات پہ وفاق پاکستان اوپن عدالت میں بحث نہیں کرانا چاہتا نیز وفاق پاکستان جی بی میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں کے ذریعے جی بی جیسے متنازعہ مگر پرامن خطے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ کی آڑ میں عوام کے بنیاد انسانی جمہوری سیاسی اور اظہار رائے کی آزادیوں کے خاتمے اور ہزاروں سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنوں پہ بنائے گئے جھوٹے مقدمات بھی عدالت میں زیر بحث نہیں لانا چاہتا کہ کہیں اسکے نتیجے میں اقوام عالم کو جی بی میں پاکستانی حکمرانوں کے گھناؤنے کردار کے بارے میں پتہ نہ چل سکے یہ ہیں وہ ناقابل بیان جرائم (جنہیں حکومت خفیہ دستاویزات کہتی ہے) جن پہ پاکستانی سرمایہ دار حکمران کھلی عدالت میں بحث نہیں کرانا چاہتے اور المیہ یہ ہے کہ جی بی کے درخواست دہندگان کے وکلاء جن کا تعلق بھی ملک کے بالائی مراعات یافتہ طبقہ سے ہے وہ بھی جی بی کے عوام کی اس اہم ایشو پہ دلائل دیکر حکمرانوں کے اصل کردار کو سامنے لانے کیلئے تیار نظر نہیں آتے۔

محترم قارئین اس کے علاوہ بھی گلگت بلتستان میں اس مسئلے کو لیکر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، سوشل میڈیا پر اٹارنی جنرل کے بیان کو لیکر طوفان برپا ہے لوگ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام جنکا پاکستان کی دفاع کیلئے قربانیاں پاکستان کے آئینی صوبوں سے کہیں بڑھ کر ہے لیکن جب کبھی گلگت بلتستان کے حوالے سے کچھ فیصلے ہونے کے آثار نظر آنا شروع ہو جائیں تو ایک نئی بحث چھڑ جاتی ہے جس سے اصل مسئلہ دب کر رہ جاتا ہے جو کہ یہاں کے عوام کے اوپر ظلم ہے۔ لہٰذا دستاویز کوئی بھی ہو یہ بات ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام خود کو پاکستان سے الگ نہیں سمجھتے یہاں کے عوام پاکستان میں شامل ہونے کیلئے مسئلہ کشمیر کی بھی پرواہ نہیں کرتے لیکن اقوام متحدہ کے چارٹرڈ اور مسئلہ کشمیر چونکہ مملکت پاکستان کیلئے ایک اہم مسئلہ ہے لہٰذا اس مسئلے کو خراب کرنا بھی نہیں چاہیئے۔ لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ گلگت بلتستان کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد کریں اور اس خطے کی اکہتر سالہ محرمیوں کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔

یہاں ایک اور ہم بات یہ بھی ہے کہ اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے فیکٹ فاینڈینگ کمیٹی عنقریب گلگت بلتستان کا دورہ کرنے والے ہیں اور بدقسمی سے گلگت بلتستان میں جب کبھی اس قسم کے ادارے دورہ کرتے ہیں، اُنہیں عوام اور عوامی مسائل سے منسلک افراد سے دور رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا اگر اقوام متحدہ کا کوئی ممبر گلگت بلتستان آئیں تو اُنہیں چاہیئے کہ بند کمروں میں بریفنگ سُننے کے بجائے پبلک مقامات پر عوام میں جا کر عوامی مسائل سُنیں کیونکہ گلگت بلتستان میں اس وقت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ایک بڑا لمیہ ہے۔ المیہ کی بات ہے کہ مہذب دنیا میں جب قومیں اپنے بنیادی قانونی حقوق کیلئے مطالبہ کرتے ہیں تو اُنکی بات سنی جاتی ہے احتجاج کی بنیاد پر فیصلے تبدیل ہوتے ہیں یہاں تک کہ پاکستان میں بھی ہم آئے روز دیکھتے ہیں کہ چند سو افراد کا احتجاج حکومت کو کئی اہم فیصلوں سے یوٹرن پر مجبور کرتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان میں پُرامن احتجاج کا مطلب اپنے لئے مسائل پیدا کرنا ہے جس کے نتیجہ مختلف قسم کے الزامات فورتھ شیڈول وغیرہ وغیرہ ہے۔ لہٰذا اس وقت گلگت بلتستان عوام کی نگاہیں سپریم کورٹ کی طرف ہے اور یہاں کے عوام عدالت عالیہ سے انصاف اور شناخت کے منتظر ہیں۔

 

تحریر: شیرعلی انجم

  •  
  • 53
  •  
  •  
  •  
  •  
    53
    Shares

About TNN-GB

One comment

  1. the author assertion that the dispute should be resolved as per UN resolution is infact against the spirit of the azadi movement and sacrifises of our forefathers who faught for freedom and acceded With Pakistan without my condition!

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*