تازہ ترین

دادی جواری کی سرزمین۔۔۔

گلگت بلتستان کی سرزمین یوں تو برسوں تک جنگ وجدل کا مرکز رہا۔سازشوں کے بھید چڑھنے والے حکمرانوں کے پُشت پر احباب کا بھی ہاتھ تھا اور دشمن کا بھی۔اکثر اوقات اپنوں نے ہی پیٹھ میں جنجر گھونپے تھے۔اس پراشوب دوُر کے بیچوں بیچ دادی جواری گلگت بلتستان کی تاریخ کی اُفق پر نمودار ہوئی۔درد قبائل نے دل سے دادی جواری کی حکومت کو تسلیم کر لیا۔یہ ان لوگوں کی فراخ دلی بڑا پن اور بلند کردار کی عکاس ہے کہ انہوں نے قبائلی نظام میں رہتے ہوئے ایک عورت کی اطاعت کو قبول کی۔دیامر کے درد قبائل کے دلوں میں دادی جواری کے لئے بہت احترام تھا۔اور تحفے تحائف ساتھ لے کے اپنے مسائل بیان کرنے جواری خاتون کے دربار میں اتے جاتے رہتے تھے۔دادی جواری کیسے برسراقتدار ائی یہ لمبی داستان ہے ۔مختصرا ہوا یوں کہ یاسن میں شیر علی اور اسکا وزیر شاہ خوشوقت کے ہاتھوں ١٧ویں صدی عسوی میں قتل ہوئے ۔اُن دنوں تراخان حکومت شیر علی چلا رہے تھے۔ایک دن یاسن سے خیر سگالی کا پیغام لے کر ایک بندہ حاضر ہوا ،آدمی نے اپنے انے کی وجہ بیان کی ،اور کہا کہ یاسن کے حکمران شاہ خوشوقت نے اپنی بیٹی شیر علی کو بیاہ میں دینے کا وعدہ کیا ہے ۔خیر سگالی اور رشتہ داری کی اس خبر نے شیر علی کی راتوں کی نیند اڑا دی۔غرض اُس دُور کے رسم و رواج کے مطابق شادی کی تاریخ مقرر ہو گئی۔بارات مقررہ تاریخ کو یاسن میں پہنچ گئی۔شیر علی اور اسکا وزیر عقل سے خالی تھے۔اُدھر یاسن میں انکو لڑکی بیاہ دینے کے بجائے دونوں کو قتل کئے گئے۔اس بارات کے ساتھ ایک دوسرا شخص وزیر ریشو بھی موجود تھا۔وزیر ریشو سو ملک کے اولاد میں سے تھا اور یہ نسل سے رونو تھا ۔اس کو قتل کرنے کے بجائے خوشوقت نے اس کے ساتھ درپردہ ایک شازش کی تیاری کی ۔خوشوقت نے وزیر ریشو کے ساتھ یہ عہد کیا کہ اپ گلگت پر قبضے میں میرا ساتھ دے ،میں اپکو گلگت میں اپنا وزیر رکھوں گا۔لیکن وزیر ریشو بڑا شاطر انسان تھا ،اُس نے خوشوقت کو یہ کہتے ہوئے گلگت پر فوراً حملے سے رکھ لیا،کہ گلگت کے درد قبائل شیر علی کی ہلاکت کا بدلہ اپ سے خوب لینگے۔اور یہ گلگت پر فوج کشی کا ٹھیک وقت ہر گز نہیں ہے۔کہا کہ میں گلگت جا کر حالات کا بغور جائزہ لے کر اپکو ٹھیک وقت پر اگاہ کروں گا۔وزیر ریشو گلگت پہنچ کر اپنے اصل حلیے میں ا گئے۔اور حکومت کے نظم و نسق اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔اور ایک دن خوشوقت کو گلگت انے کا سندیش دے دیا۔اور بظاہر خود بھی لاو لشکر سمت اس کے استقبال کے لئے غذر کی طرف روانہ ہو گئے ۔لیکن راستے میں یاسن والوں کو حقیقت کا علم ہوا اور وہ واپس یاسن کی طرف پسپا ہوئے ۔لیکن ریشو کے لشکر نے ان پر خوب ہاتھ صاف کی۔ریشو وزیر نے گلگت پر سالہ سال حکومت کی۔اور یہی وزیر ریشو تھے جس نے راجہ سکردو مراد خان کی بیٹی کو گلگت بولا کر اس کی شادی راجہ نگر کمال خان کے بیٹے فردوس خان سے کرایا۔اور جواری کے ہاں ایک بیٹا حبیب خان پیدا ہوا۔حبیب خان اور جواری خاتون کے گلگت میں قیام کے دوران ریشو نے ان سے اپنے لئے خطرہ محسوس کیا،ماں اور بیٹے کو سنگر قلعہ بگروٹ میں نظربند کئے گئے۔لیکن جواری خاتون نے کم عرصے میں اپنے لوگوں کے زریعے وزیر ریشو کو ملک عدم میں پہنچایا ۔اور گلگت کی حکمرانی اپنے ہاتھ میں لے لی۔حبیب خان صرف نام کا حکمران تھا ،ریاست کی تمام نظم و نسق جواری کے ہاتھوں میں تھی ۔حبیب خان گلگت میں ایک فساد میں قتل ہوئے ۔جواری کو اس قتل کا اتنا صدمہ ہوا کہ رو رو کر اپنی بینائی بھی ضائع کی۔دادی جواری نے گلگت پر بڑے انصاف کے ساتھ حکومت کی۔کارگاہ سے کوہل نکال کر گلگت کی زمینیں آباد کی۔تجارت کو فروغ دی۔درد قبائل میں دادی جواری کا نام آج بھی احترام سے لیا جاتا ہے۔گلگت بلتستان کے لوگ دنیا کے وہ مہذب اور ترقی یافتہ قوم ہے جنہوں نے صدیوں پہلے ایک عورت کی حکمرانی کو دل سے تسلیم کئے تھے۔حالانکہ خاندان غلاما کی راضہ سلطانہ بھی دربار میں مردانہ لباس پہن کر جاتی تھی۔ہم صدیوں سے مہذب قوم تھے۔یہ الگ بات ہے کہ ہم زمانے کے حوادث کا شکار ہوئیں۔آج ملکی میڈیا دنیا کو ہمارا غلط چہرہ دیکھا رہا ہے۔ہمیں علم دشمن اور عورت دشمن بنا کر دیکھایا جا رہا ہے۔جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

تحریر: ظفر اقبال

  •  
  • 144
  •  
  •  
  •  
  •  
    144
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*