تازہ ترین

ضلع نگر کے عوام نے سرکاری ملازمین کے بچوں کا نجی سکولوں میں داخلےپابندی لگانے کا مطالبہ کردیا۔

نگر ( بیورو رپورٹ) سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم کو قائم کرنے کے لئے پرائیویٹ سکولوں میں سرکاری ملازمین کے بچوں کو داخل کرنا غیر قانونی قرار دیا جائے۔ عوامی مطالبہ ، ضلع نگرمیں عوامی حلقوں نے سرکاری سکولوں میں گرتی ہوئے معیار بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری سکولوں کے اساتذہ سمیت تمام دیگر اداروں کے ملازمین کو پرائیویٹ سکولوں میں داخلے کو غیر قانونی قرار دے کر داخلہ نہیں دلایا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں سکول اساتذہ سمیت دیگر سرکاری اداروں کے ملازمین ان سکولوں میں ہی زیر تعلیم رہیں جن میں ایک عام غریب آدمی کا بچہ تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ جب سرکاری سکولوں میں مساوی ماحول ہوگا تو سکول کے اساتذہ اور دیگر اداروں کے ملازمیں جائز و ناجائز طریقوں سے کمانے کے طریقے ختم ہو جائیں ۔ سرکاری اداروں کے ملازمیں پرائیویٹ سکولوں کا بے حد قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جن کو ماہانہ یا کئی مہینوں کی بھاری نفیس ادا کرنے کی فکر لاحق نہیں ہوتی ہے جبکہ جس ادارے میں ان کے بچے زیر تعلیم ہوتے ہیں ان پر ان ملازمین کا خاص نظر کرم بھی ہوتا ہے ۔ ان سرکاری مراعات یافتہ ملازمین کے بچوں کا پرائیویٹ سکولوں میں داخلہ غیر قانونی قرار دیا جائے گا تو وہ مجبوراً سرکاری سکولوں کی طرف آنے اور ان کی بہتری کے لئے منصوبے اور پالیسیاں بنانے پر مجبور ہونگے ۔جبکہ سرکاری ملازمین کے بچے پرائیویٹ اسکولوں میں جانا بند ہو اجائیں گے تو پرائیویٹ سکولوں کی آمدنی اور دادا گیری سمیت سرکاری ملازمین کے مقابلے میں سب کچھ فروخت یا دائو پر لگا کر پرائیویٹ سکولوں کو پیسے دینے پر مجبور ہونگے ۔ ایک عام غیر ملازم اور غریب آدمی کی حیثیت کے مطابق سرکاری سکولوں میں داخلے ہونگے ،سب کومساوی اور یکساں ماحول ملے گا جبکہ دوسری جانب پرائیویٹ سکولوں کی اجارہ داری اور بھاری فیسیں وصولنے والی فیس گردی سے غریب عوام کے بچوں کو معیار تعلیم حاصل کرنے کی بہترین سہولت سرکاری سکولوں میں قائم ہوگی۔ عوامی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پرائیویٹ سکول سرکاری ملازمیں کی وجہ سے فیسیں بڑھاتے ہیں اور سالانہ غریب عوام کو مہنگا ترین نظام تعلیم فراہم کرنے پر مجبور کر دئے جاتے ہیں ۔

  •  
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*