تازہ ترین

کھرمنگ سے کرگل کا بارڈر کو کھولا جائے

گلگت بلتستان کا دلکش ضلع کھرمنگ بلتستان کی صدرمقام سکردو سے سو کلوميٹر ہندوستان کی زیر انتظام جموں وکشمیر کی ضلع کرگل کی جانب واقع ہے.7909 کلوميٹر پر پھیلا ہوا وسیع خطے کا کل آبادی حالیہ مردم شماری کی مطابق 55000 ہزار پر مشتمل ہے.جبکہ ایک ہزاروں افراد اپنے بال بچوں سمیت روزگار کے سلسلے میں سکردو اور ملک کے دیگر شہروں میں ہجرت کر لیا ہیں اور کھرمنگ کے لوگ ملک کے ہر شہر کے علاوہ دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں کرگل بھارت کے ریاست جموں و کشمیر کے خطہء لداخ میں ایک ضلع ہے۔ کارگل ضلع 1979 میں لداخ سے الگ ہو کر ایک نیا ضلع بنا۔ بھارت کے آزادی سے پہلے لداخ-بلتستان ریاست جموں وکشمیر کا حصہ تھا۔ کرگل مغرب میں گلگت بلتستان، جنوب میں کشمیر اور مشرق میں ضلع لیہ سے گھرا ہوا ہے۔ 1947 میں بھارت کے آزاد ہونے کے بعد بھارت پاکستان کے درمیان مسلہ کشمیر پر 1948 میں جنگ چھیڑ گئی اور خطہ لداخ کے کچھ حصے پر پاکستان کا قبضہ ہوا۔ 1971 میں بھی بھارت پاکستان کی جنگ کرگل میں لڑی گئی۔ اور کھرمنگ کے چار گاوں پر بھارت نے قبضہ کرلیا تھا اور 1999 میں دونوں ملکوں کے پاس جوہری ہتھیار موجود تھے، پھر سے کرگل میں جنگ لڑی گئی۔ 2011 کی رائے شماری کے حساب سے کرگل بھارت کے سب سے کم آبادی والا ضلع ہے بھارت اور پاکستان کے مابین کشیدگی کی وجہ سے یہ دو خوبصورت خطہ ایک دوسرے سے الگ ہوا تھا جس سے نہ صرف اپس کے رشتہ دار خاندان ایک دوسرے سے الگ ہوے بلکہ مکمل زمینی روابط ختم ہونے کی ساتھ ساتھ علاقائی تجارت آمد رفت بند کر دیئے بلتستان میں مقیم مہاجرین کرگل لداخ ستر سالوں سے اپنے عزیز و اقارب سے مل نہیں پا رہے ہیں جس سے ان کی دلوں میں شدید غم و غصہ پاے جاتے ہیں .ضلع کھرمنگ کے شاہراہ ماضی بعید میں تجارت کیلے کھلا تھا جس سے خپلو شگر سکردو سمیت تمام جگہوں سے لوگ تجارت کی غرض سے کرگل جاتے تھے جس کا واضح ثبوت آج بھی کرگل بازار میں بلتستان انے والے تجارتی قافلوں کے یادگار موجود ہیں شاہراہ کھرمنگ ایک زمانے میں تجارتی لوگوں سے سرشار تھے آج سنسان پڑی ہے یہاں نہ صرف ملکی بلکہ غیر ملکی سیاحوں کو ان خوبصورت علاقوں کے سیر و تفریح کیلے انے کیلے بھی پابندی عاید کی ہوئی ہیں جو کہ اس خطے سے سراسر نا انصافی ہے کھرمنگ کرگل وار ایریا قرار دے کر اس خطے کو باقی علاقوں سے پیچھے رکھنے کی کھلی سازش ہو رہی ہیں حکومت پاکستان مظفر آباد واہگہ بارڈر کھول سکتے ہیں تو اس علاقے سے کارگل سکردو روڈ کھولنے میں کوی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے .دونوں جانب آباد عوام اس دن کا انتظار میں ہیں کہ کب یہ بارڈر کھولا جاے گا اور خاندان ایک دوسرے سے مل سکے گے.عوام حکومت پاکستان اور حکومت ہندوستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس روڈ کو جلد کھولا جائے تاکہ تجارت و دیگر سرگرمیاں پھر سے شروع کر سکے.ہر سال کھرمنگ سے سینکڑوں افراد اپنی ملکیتی زمینوں کو سب کچھ چھوڑ کر گلگت بلتستان کے دوسرے جگہوں پر جانے پر مجبور ہیں تجارت کا فقدان ہے غیر ملکی سیاح کو اس علاقے میں انے کا اجازت نہیں دیتا ممنوعہ علاقہ قرار دیکر کھرمنگ کی سیاحتی مقامات کو سیاحوں سے دور رکھا کر ظلم کیا جارہا ہے جب امن کا زمانہ ہے تو یہ ظلم اخر کیوں اور اس وجہ سے اس علاقے کی معشیت تباہ ہوکر ہر شعبے میں پیچھے ہیں موجودہ حکومت گلگت بلتستان سمیت علاقے کے منتخب ممبر صوبائی اسمبلی کے ممبر و صوبائی وزیر اقبال حسن کو چاہیے کہ اس اہم ایشو پر حکومت پاکستان سے مل کر اس اہم شاہراہ کو جلد کھولا جاے. تاکہ خارجہ پالیسی کو فروغ دینے کیلئے اقدامات کیا جائے اور کھرمنگ کو ممنوعہ علاقہ قرار دیکر جو ظلم کیا جارہا ہے اس کو بھی ختم کرکے سیاحوں کو انے کی اجازت بھی دلانے کیلئے اقدامات کرنا ہوگا

  •  
  • 114
  •  
  •  
  •  
  •  
    114
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*