تازہ ترین

سانحہ کربلا اور ہم۔۔۔۔

ہنسی سے وقت کے حیدر نے مارا اجگر کو
تمام کردیا حرمل کا کام اصغر علیہ اسلام نے
واقعہ کربلا 10 محرم 61ھ بمطابق 9 یا 10 اکتوبر، 680کو موجودہ عراق میں کربلا کے مقام پر پیش آیا۔ جہاں مشہور عام تاریخ کے مطابق اموی خلیفہ یزید اول کی بھیجی گئی فوج نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی اور ان کے اہل خانہ کو شہید کیا۔ حسین ابن علی کے ساتھ 72 ساتھی، کچھ غلام، 22 اہل بیت کے جوان اور خاندان نبوی کی کچھ خواتین و بچے شامل تھے صدیاں بید گئے مگر اس اعظیم سانحے کو آج بھی ایک منفرد مقام حاصل ہے دنیا بھر میں حسینی لشکر امام عالی مقام کے اسلام کی بقا کیلے جو قربانی راہ خدا میں پیش کی اس کی مسال نہیں ملتی دنیا بھر کی طرح بلتستان میں بھی سانحہ کربلا انتہائی جوش وخروش سے مناتے ہیں جگہ جگہ مجالس منعقد کرتے ہوئے واقعہ کربلا پر درس دیتے ہیں امام حسین (ع) نے ایک عظیم مقصد اور ایک عظیم ترین نصب العین کیلئے شہادت کو گلے سے لگایا، آبائی وطن چھوڑ کر تین دن بهوک و پیاس برداشت کی، خود اپنی اور اپنے رفقاء کی قربانی دی، یہاں تک کہ اہل حرم کی اسیری برداشت کرنے کیلئے آمادہ ہوگئے۔ انکے پیش نظر صرف خوشنودی خدا، بقاء دین، حفاظت شریعتِ اور تحفظ انسانیت تهی۔ بظاہر آپکی شمع حیات بجھ گئی، لیکن کربلا والوں کے مقدس لہو نے جہان بشریت کو عرفان کی منزل کا پتہ بتایا، تہذیبی اور اخلاقی اقدار کو بچا لیا، شرافت کو موت کے گهاٹ اترنے سے بچا لیا، ظلم و ستم کے سامنے قیام کرنیکی ہمت دی، حق اور باطل کے سامنے حد فاصل قائم کی۔واقعہ کربلا تاریخ بشریت کا وہ منفرد واقعہ ہے جس میں جتنا غور کریں، اتنا ہی انسان کی حیرت اور تعجب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، ہر سال اس واقعے کا تذکرہ کرتا ہے لیکن انسان کو نہ اس سے تهکن کا احساس ہوتا ہے اور نہ ہی اس سے پرانے پن کی بو آتی ہے، بلکہ ہر سال کائنات کی جگہ جگہ اسے سننے اور سنانے کے اہتمام میں شدت اور جدت ہی دکھائی دیتی ہے، ہر سال محرم کی آمد سے قبل ہی لوگ واقعہ کربلا سننے کے لئے بے تاب نظر آتے ہیں، اس لئے کہ واقعہ کربلا حق اور باطل کی جنگ کا نام ہے، اس واقعے سے انسان کو انسانیت سازی اور خود سازی کے دروس حاصل ہوتے ہیں، اس سے انسان کو استقامت، مقاومت، صبر، شجاعت، غیرت، عزت، صداقت، امانت، شرافت، وفاداری اور فداکاری کے اعلٰی نمونے مل جاتے ہیں۔ تاریخ انسانیت میں جتنی جاودانگی واقعہ کربلا کو حاصل ہوئی، کسی اور واقعے کو اتنی جاودانی نہیں ملی۔ سن 61 ھ میں پیش آنے والا یہ واقعہ آج بهی تاریخ کے دل میں زندہ حقیقت بن کر بشر کے دلوں کو گرما رہا ہے۔ چونکہ اس واقعے کا تعلق ایک ایسی عظیم ہستی سے ہے، جو کائنات کی ممتاز ترین شخصیت رحمت اللعالمین کے نواسے، شیر خدا کے بیٹے اور جگر گوشہ بتول ہیں۔آنحضرت (ص) نے جن کے بارے میں فرمایا: میں حسین (ع) سے ہوں اور حسین (ع) مجھ سے ہیں، اللہ اس سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرے، نیز آپ (ص) کا یہ ارشاد گرامی بهی ہے کہ شہادت حسین ابن علی (ع) سے مومنین کے دلوں میں ایسی حرارت پیدا ہوگی، جو کبھی سرد نہیں پڑے گی۔ حسین ابن علی (ع) کی شہادت نے دین اسلام کو حیات جاودانگی سے ہمکنار کیا، اسلام کا صرف نام باقی تها۔ بنی امیہ نے اسلام کے انسانی فطرت کے موافق زرین اصول اور پاکیزہ قوانين کو امت اسلامیہ کے ذہنوں سے محو کر دیا تها، دین محمدی کے اصولوں اور فروعات میں تعریف کر ڈالی تهی، عقل اور فطرت انسانی کے خلاف خود ساختہ، بناوٹی اور بے بنیاد باتوں کو اسلام ناب محمدی کی تعلیمات کا حصہ قرار دے دیا تها، بنو امیہ اور ان کے دسترخوان پر حرام غذا سے پیٹ بهرنے والے نادانوں نے ظلم و ستم کا بازار گرم کرکے امت محمدی کا جینا حرام کر رکها تها، اسلامی معاشرے سے امنیت اور سکون کی نعمت چھین کر مسلمانوں کو وحشت ناک خوف اور ظلم و بربریت کی تاریک فضا کی گہرائی میں حیوانی زندگی گزارنے پر مجبور کر رکها تها، مسلم معاشرے میں حق اور دینی حقائق دفن ہوچکے تهے، اسلام کا چہرہ مسخ ہوچکا تها، اس حالت میں سیدالشہداء نے قیام فرمایا، جس کے نتیجے میں واقعہ کربلا معرضِ وجود میں آیا۔امام حسین (ع) نے کربلا میں اپنے عزیزوں کی جان سمیت اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے حق کا بول بالا اور باطل کو سرنگون کر دیا۔ امام عالی مقام نے اپنا مقدس لہو دے کر اقدار اسلامی کو جامعہ اسلامی میں زندہ کیا، لوگوں کو حق اور باطل کا چہرہ دکهایا، عزت اور ذلت کے راستوں کی نشاندہی کرائی، بشریت کو جینے اور مرنے کا سلیقہ سکهایا، رہتی دنیا تک کے انسانوں کے لئے نجات اور گمراہی کے رموز و اسرار سے واقف کرایا، قیامت تک آنے والی نسلوں کو یہ منطقی اپنے عمل کے ذریعے سکها کر گئے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے، باطل کی کثریت سے خوف زدہ اور مرعوب ہونے کے بجائے اس کے ساتھ پوری جوان مردی سے مقابلہ کرنے میں انسان کی عافیت پوشیدہ ہے، کامیابی حق کا مقتدر بنتی ہے اور باطل خواہ افرادی قوت زیادہ ہی کیوں نہ رکهتا ہو، بالآخر فنا اور نابود ہو جانا ہے، حسین ابن علی (ع) نے اپنے پیروکاروں کو مقاومت اور استقامت کا سبق پڑها کر گئے ہیں۔امام حسین (ع) نے ایک عظیم مقصد اور ایک عظیم ترین نصب العین کے لئے شہادت کو گلے سے لگایا، اب یہ حسین (ع) کے ماننے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حسینی استغاثہ پر لبیک کہیں .نوجوانوں کو چاہئے کہ پہلے اسلام کے بنیادی اصولوں کو پورا کرے پھر مجالس ماتم داری و شب داری بجا لاے بہت ہی کم لوگ ایسے ہیں جو نماز سمیت بنیادی اصولوں کو بجا لاتے ہیں.معاشرہ سود منافرت منافقت ظلم ستم کی انتہاء کو پہنچنا ہے.اولاد نافرمان ہوے ناموس سر عام بازاروں میں گھومتی نظر اتے ہیں نماز روزہ ماتم داری کو ایک رسم بنایا ہے.معاشرہ تباہی کی داہنے پر پہنچی ہے واقعہ کربلا کو حقیقی معنوں میں سمجھتے ہوئے اس اعظیم سانحے سے سبق حاصل کرنا چاہئے لوگوں میں امن محبت بھای چارگی پیدا کرے اپنی اندر صبر برداشت کا مادہ پیدا کرے غریبوں محتاجوں کی مدد کرے.معاشرے سے بے حیاء ظلم ستم کو روکیے نماز قائم کرے.تب ہی نجات ممکن ہے. خدا ہمیں حقیقی معنوں میں وقعہ کربلا کو سمجھتے ہوئے اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرما..تمام مومنین و عزاداروں سید شہدا کو اس اعظیم سانحے کی حوالے سے تعزیت عرض ہے

تحریر: مظاہر ہلال آبادی

  •  
  • 35
  •  
  •  
  •  
  •  
    35
    Shares

About TNN-GB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*