تازہ ترین

کربلا میں خانوادہ رسالت (ص) کو شہید کرنے والے کون تھے۔؟

محرم الحرام کا مہینہ شروع ہوتے ہیں جہاں نواسہ رسول کا بقاء اسلام کیلئے لازوال قربانیوں اور اہلبیت ع کے قربانیوں کا ذکر ہوتے ہیں ۔وہیں ایک مخصوص طبقہ معرکہ کربلا کو بھی فرقہ واریت سے جوڑ کر
اہل تشیع پر الزام لگاتے ہیں کہ امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے والے خود شیعہ تھے. امام کو خط لکھنے والے کوفہ کے شیعہ تھے. انہوں نے امام کی بیعت کا وعدہ کیا اور بعد میں ان کے ساتھ بے وفائی کی. اسی لئے شیعہ ماتم کرتے ہیں.یہ بات بلکل حقیقت کے منافی ہے.پہلی بات تو یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام کوفیوں کے خطوط آنے سے پہلے ہی مدینہ کو ترک کرنے کا فیصلہ کرچکے تهے. آپ مکہ پہنچے اور مکہ میں چار ماہ سے زیادہ عرصہ رہے. اسی دوران جب کوفہ والوں کو امام کے سفر عراق کی خبر ملی تو انکی طرف سے بیعت کے خطوط پہنچے. امام علیہ السلام کو ان پر بھروسہ نہیں تھا اس لئے اپنے سفیر مسلم ابن عقیل کو کوفہ بیجا اور کہا کہ اگر مسلم کی طرف سے کوفہ آنے کے بارے میں خط آیا تو میں ضرور آوں گا.اور امام حسین علیہ السلام کو لکھے گئے خطوط کے بارے میں مختلف روایات ہیں. 12000، 18000 اور 24000 بھی روایت کی گئی ہے.کوفے کے خطوط لکھنے والوں کو ہم مختلف گروہ میں تقسیم کر سکتے ہیں.ایک وہ گروہ تھا جو بنی امیہ کے حکومتی کارکردگی سے مطمئن نہیں تھا. اور کوفہ کے حاکموں کی تبدیلی سے تنگ آگئے تھے. یہ گروہ ایک قسم کی تبدیلی اور نئی حکومت چاہتے تھے. اس لئے انہوں نے امام ع کو دعوت دی اور بیعت کا وعدہ کیا.دوسرا وہ گروہ تھا جو حکومتی چیلے تھے. یہ لوگ امام ع کو مدینہ سے خروج کے وقت روک نہ سکے اور مکہ میں بھی امام کو قتل کرنے میں ناکام رہے کیونکہ امام حج کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کرکے عازم سفر ہوگئے تھے. اب اس گروہ کے پاس یہی موقع تھا کہ امام کو کوفہ بلا کر شہید کیا جائے. اسی غرض سے ان لوگوں نے امام ع کو کوفہ آنے کی دعوت دی.تیسرا وہ گروہ تھا جس میں حبیب ابن مظاہر، سلیمان صرد خزائی اور کچھ امام کے چاہنے والے شامل تھے. انہوں نے امام حسین کو اس وقت کوفہ کے حالات سے آگاہ لیکن امام کو باقاعدہ آنے کی دعوت نہیں دی. گویا انہوں نے فیصلہ امام وقت پر چھوڑ دیا. اب 18000 خطوط میں ان شیعوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہیں. اور حبیب ابن مظاہر ، سلیمان صرد خزائی اور مختار ثقفی وغیرہ واقعہ کربلا کے بعد شہدائے کربلا کے خون کا قصاص لیتے ہوئے شہید ہوگئے..ایک وہ بھی گروہ تھا جس کو امام حسین علیہ السلام کی معرفت نہیں تھی. ایسے بے معرفت لوگ آج بھی ہمارے درمیان ہیں جوت مختلف طریقوں سے ذکر حسین کے نام پر امام ع اور دین محمدی کی بدنامی کا موجب بن رہے ہیں. ایسے لوگوں کا حقیقی شیعوں سے کوئی تعلق نہیں.امام حسین علیہ السلام کو شہید کرنے والے ابو سفیانی شیعوں سے روز عاشور امام حسین علیہ السلام نے بلند آواز میں فرمایا:اے آل ابو سفیان کے شیعہ اگر تمہارے لیے کوئی دین نہیں ھے،اور تم لوگ قیامت کے دن سے نہیں ڈرتے ھو، تو تم اپنی اس دنیا میں تو آزاد بنو. پلٹ آو اپنے حسب ونسب کی طرف اگر تم لوگ اپنے آپ کو عرب گمان کرتے ھو۔اس کے علاوہ حکومت وقت کے فوج نے کوفہ کے شیعوں میں مختلف پروپگنڈوں سے جدائی ڈالی اور ان کے آپس میں رابطے منقطع ہوگئے. ان تمام حالات میں سفیر حسین مسلم ابن عقیل تنہا رہ گئے اور آخرکار بے دردی سے شہید ہوگئے..اب فیصلہ کیجیئے کہ کون تهے امام حسین ع کو شہید کرنے والے…؟؟رسول خدا کی حدیث کے مطابق حسین ع کے قتل کی حرارت ہمیشہ مومنوں کے دلوں میں رہے گی. یہ عزاداری دراصل ظلم کے خلاف اور مظلوم کے حق میں ایک احتجاج ہے.زیارت وارثہ کے مطابق کربلا میں قتل کرنے والے ، ظلم کرنے والے اور اس واقعہ کو سن کر خاموش رہنے والے سب کے سب لعنت کے مستحق ہیں۔

تحریر : سید امجد علی کاظمی

  •  
  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*