تازہ ترین

کربلا ہمیں کیا درس دیتی ہے؟

«اِنّى ما خَرَجتُ اَشراً و لا بَطراً و لا مُفسداً و لا ظالماً، اِنّما خرجتُ لِطلَبِ الاِصلاح فى اُمَّهِ جدّى، اُريدُ اَن آمُرَ بالمعروفِ و اَنهى عن المنكر و اُسير بسيرهِ جدّى و اَبى علىّ بن اَبيطالب‏»؛میں سرکشی اور مقام طلبی کی خاطر یا ظلم و فساد پھیلانے کی خاطر نہیں چلا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف نانا کی امت کی اصلاح کرنا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور بابا کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہے۔
کربلا ہمیں کیا درس دیتی ہے؟
کربلا ایک ایسی عظیم درسگاہ ہے جس نے بشریت کو زندگی کے ہر گوشہ میں درس انسانیت دیا ہے اور ہر صاحب فکر کو اپنی عظمت کے سامنے جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔ روز عاشورکی تعلیمات ہر انسان کے لیے ابدی زندگی کا سرمایا ہیں کہ جن میں سے چند ایک کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:
۱: حریت اور آزادی
تحریک کربلاکا سب سے اہم درس آزادی، حریت اور ظلم و استبداد کے آگے نہ جھکنا ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: موت فی عز خیر من حیاۃ فی ذل۔ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہتر ہے۔ اور ظالم کی بیعت قبول نہ کرتے ہوئے فرمایا: لا و اللہ ، لا اعطیھم یدی اعطاہ الذلیل و لا اقر اقرار العبید۔خدا کی قسم، اپنا ہاتھ ذلت کے ہاتھوں میں نہیں دوں گا اور غلاموں کی طرح تمہارے آگے نہیں جھکوں گا۔
اسی طرح کربلا میں جب آپ(ع) کو جنگ اور بیعت کے درمیان محصورکر دیا تو آپ نے فرمایا: الا و انّ الدعی بن الدعی قد رکزنی بین اثنین ،بین السلۃ و الذ لۃ، ھیھات منا الذلۃ۔۔۔ ناپاک کے بیٹے ناپاک نے مجھے دوچیزوں کے درمیان ،شمشیر اور ذلت کے درمیان مجبورکر دیا ہے تو یاد رکھنا ذلت ہم سے کوسوں دور ہے۔
نہضت عاشورا نے تمام مظلومان عالم کو مقاومت اور ظالموں کا مقابلہ کرنے والوں کو ثابت قدمی کا درس دیا ہے
۲: امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
تاریخ عاشورا میں یزید کی حکومت سب سے بڑا منکر اور برائی ہے اور حق و صداقت کو حاکم بنانے کے لیے اور ظلم کی بیخ کنی کرنے کے لیے جنگ کرنا سب سے بڑا معروف اور نیکی ہے۔ لہٰذا امر بالمعروف اور نہی عن المنکر واقعہ کربلا کا سب سے اہم فلسفہ ہے۔ حضرت سید الشہداء (ع) اپنے وصیت نامہ میں جو اپنے بھائی محمد حنفیہ کو لکھتے ہیں یہ بیان کرتے ہیں: «اِنّى ما خَرَجتُ اَشراً و لا بَطراً و لا مُفسداً و لا ظالماً، اِنّما خرجتُ لِطلَبِ الاِصلاح فى اُمَّهِ جدّى، اُريدُ اَن آمُرَ بالمعروفِ و اَنهى عن المنكر و اُسير بسيرهِ جدّى و اَبى علىّ بن اَبيطالب‏»؛میں سرکشی اور مقام طلبی کی خاطر یا ظلم و فساد پھیلانے کی خاطر نہیں چلا ہوں بلکہ میرا مقصد صرف نانا کی امت کی اصلاح کرنا، اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا اور بابا کی سیرت پر عمل پیرا ہونا ہے۔
امام(ع) کے یہ کلمات امام(ع) کی تحریک میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کےضروری ہونے کو روز روشن کی طرح واضح کرتے ہیں۔ امام کے زیارت نامہ میں بھی یہ موضوع بیان ہوا ہے: اشھد انک قد اقمت الصلاۃ و آتیت الزکاۃ و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر و جاھدت فی سبیل اللہ حتی اتاک الیقین۔
زیارت کے یہ کلمات اس فریضہ الہی کی گہرائی کو میدان جہاد میں جلوہ نما کرتے ہیں ۔ امام حسین (ع) نے عصر عاشور اس فریضہ الہی پر عمل کر کے یہ پیغام دیا ہے کہ انسانی سماج قائم کرنے کے لیے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکرنا ،واجبات کی تلقین اور محرمات سے روکنا، حتی عدل و انصاف کی خاطر قیام کرنا اور ظلم و استبداد کو سرنگوں کرنا کرہ ارض کے ہر خطہ میں بسنے والے ہر انسان پر ضروری ہے ۔سید الشہداء امام حسین علیہ السلام نے یزید کی بیعت کا انکار کر کے ولید اور مروان کو منہ توڑ جواب دے دیا اور اس کے بعد نانا رسول خدا(ص) کی قبر پر تشریف لے گئے۔ نانا سے مناجات کرنا شروع کیا۔ اور اپنی مناجات میں معرو ف اور نیکی سے محبت کا اظہار کیا۔ اور خدا سے اس سلسلے میں طلب خیر کرتے ہوئے فرمایا: خدایا میں نیکیوں کو دوست رکھتا ہوں اور منکرات سے متنفر ہوں اے خداۓ عز و جل میں تجھے اس قبر اور صاحب قبر کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرے لیے اس راستہ کا انتخاب کر جس میں تیری رضا ہو۔
۳: وفاداری
وفاۓ عہد، ایمان کی نشانی ہے۔ روایت میں ہے: من دلائل الایمان، الوفاء بالعھد۔ ایمان کی ایک نشانی وعدہ کا وفا کرنا ہے۔
جب ہم واقعہ عاشورا کی طرف دیکھتے ہیں تو ایک طرف وفاداری کے مجسم پیکر نظر آتے ہیں اوردوسری طرف بے وفائی اور عہد شکنی کے بت۔
کوفیوں کا ایک اہم نکتہ ضعف یہی بے وفائی تھی۔چاہے وہ مسلم بن عقیل کے ساتھ بیعت میں بے وفائی ہو چاہے وہ امام حسین (ع) کی طرف خط لکھنے اور دعدہ نصرت کرنے کے بعد بے وفائی ہو۔ اور انہوں نے نہ صرف بے وفائی کا ثبوت دیتے ہوئے امام کی مدد نہیں کی بلکہ برعکس دشمنوں کی صفوں میں آکر امام کے ساتھ معرکہ آرا ہو گئے۔ امام نے جو جناب حر کے ساتھ گفتگو کی اس میں بیان کیا: اگر تم نے میرے ساتھ وعدہ کو وفا نہیں کیا اور عہد شکنی کی، یہ کوئی حیرت انگیز بات نہیں ہے اس لیے کہ تم لوگوں نے میرے باپ علی (ع)، میرے بھائی حسن(ع) اور میرے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیل کے ساتھ بھی یہی کیا ہے۔
ایک طرف بے وفائی کی انتہاء تھی اور دوسری طرف امام حسین (ع) وفاداری کا مکمل نمونہ ہیں اور نہ صرف امام حسین (ع) بلکہ ان کے بہتر(۷۲) جانثار بھی وفاداری کی آخری منزل پر فائز ہیں۔ جب شب عاشور امام حسین (ع) انہیں ان کے قتل ہو جانے کی خبر دے رہے ہیں تونہ صرف انہوں نے سر نہیں جھکائے اور ان پر خوف نہیں طاری ہوا بلکہ حیرت کن الفاظ میں امام کے قدموں میں اپنی جانیں قربان کرنے کی آمادگی کا اظہار کیا حالا نکہ امام (ع) نے اپنی بیعت کو ان کے کاندھوں سے اٹھا لیا تھا۔ آخر کار امام کو یہ کہنا پڑا: میں اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار اصحاب کو نہیں جانتا۔
حضرت ابوالفضل العباس(ع) اور ان کے بھائیوں کو دشمن نے امان دی لیکن انہوں نے اس کی امان کو قبول نہیں کیا اور ایسا کردار پیش کیا کہ وفاداری کی مثال بن گئے۔ تاریخ بشریت میں عباس جیسا باوفا انسان نظر نہیں آ سکتا۔ وہ عباس(ع) جس کا دوسرا نام ہی وفا ہو گیا ۔ جناب عباس(ع) کے زیارت نامہ میں وارد ہوا ہے: «أشهدُ لکَ بِالتسليمِ و التّصديقِ و الوفاءِ و النَّصيحهِ لِخَلَفِ النّبيِّ»؛ یہ گواہی ہے عباس کی بھائی کے سامنے اطاعت ،تسلیم، تصدیق اور وفاداری پر۔
عاشورا کے پیغامات میں سے ایک پیغام ، پیغام وفا ہے جو کبھی بھی دنیا کے وفا دار اور وفا دوست افراد کے ذہنوں سے محو نہیں ہو سکتا۔

عاشورا، ظلم، ظالم، باطل اور یزیدیت کے خلاف انقلاب کا آغاز تھا۔ امام حسین ع نے یزید سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا، یعنی جب بھی یزیدیت سر اٹھائے گی تو حسینیت اس کے مقابلے میں ڈٹ جائے گی، جب بھی یزیدیت اسلام کو چیلنج کرے گی تو حسینیت اسلام کو سربلند رکھے گی اور یزیدیت کو نابود کرے گی، یہی وجہ ہے کہ عاشورا کے بعد مختلف ظالم حکمرانوں کے خلاف متعدد انقلاب رونما ہوئے اور کامیابی سے بھی ہمکنار ہوئے، لیکن قائم وہی رہے، جن کی اساس اسلام و درس کربلا و حسینیت تھا۔
کربلا کا پیغام سب کا ہے۔۔۔۔۔یہ وہ جشمہ ہے کہ جس سے ہر کوئی سیراب ہو سکتا ہے، کسی کو حق نہیں کہ کسی کو بھی ہدایت کے اس سرچشمے سے دور کرے۔۔۔۔۔وہ جو دور ہیں، اگر نجات چاہتے ہیں تو قریب آجائیں، وہ جو قریب ہیں، انکی ذمہ داری ہے کو بھٹکے ہووں کو راستہ دکھائیں۔
کیا کربلا کسی مسلک کی تھی، کیا حسین کسی ایک خاص فرقہ کا ہے؟ نہیں! امام حسین اور رسول ص کے خانوادے کا صرف اسلام پر نہیں پوری کائنات پر حشر تک کے لئے احسان ہے، ورنہ غریب زندہ نہ رہتا اور ملوکیت ہر عہد میں اپنا خراج وصول کرتی رہتی۔
10 محرم 61 ھجری کو کربلا ختم نہیں بلکہ شروع ہوئی تھی اور آج بھی ہر وقت کے یزید کو شکست دینے کے لئے حوصلہ ہمیں کربلا سے ہی ملتا ہے، کربلا جس نے قلت و کثرت کے معنی بدل دیئے، جس نے حق و باطل کا معیار طے کر دیا اور جس نے بے زبان کو زبان دی اور کربلا پر جو جان دیتا ہے کربلا اس کو تاابد زندہ جاوید رکھتی ہے۔

حسین آو کہ اب شہادت کا لفظ معنی بدل رہا ہے
حسین آو کہ وقت انساں کو اپنے ہاتھوں مسل رہا ہے
حسین آو کہ اب تو آنکھوں کی بینائی پانی میں ڈھل گئی ہے
حسین آو کہ آج کے آدمی کی ہیئت بدل گئی ہے
حسین میرے نحیف سانسوں کو پھر ضرورت ہے انبیاء کی
قسم خدا کی حسین آو کہ آج دنیا کو پھر ضرورت ہے کربلا کی

تحریر: بشیر احمد حسرت

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*