تازہ ترین

راجہ جلال کا مخمصہ۔۔

پی ٹی آئی گلگت بلتستان کے صدر راجہ جلال مقپون اس وقت مخمصے کا شکار ہیں. عجیب مخمصے میں نہیں بلکہ لطیف مخمصے میں مبتلا ہیں. صوبے کی گورنری ٹوکری میں ڈلے ان کے پاس پڑی ہے. مگر ذرا ڈیڈھ دو سال صبر کے میٹھے پھل پہ اکتفا کریں تو وزارت اعلی کا سیج بھی تیار نظر آتا ہے. گویا کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسہ مرے آگے۔
دو روز پیشتر سہہ پہر کو راقم الحروف کی ان سے بات ہوئی. سیدھا سیدھا سوال کیا کہ گورنری یا یا اگلا الیکشن؟ فورا جواب آیا “اگلا الیکشن انشاءاللہ.” شام کو بھی فون پہ مختصر بات ہوئی. ان 2 سے 3 گھنٹوں میں راجہ ساب سوچوں اور خیالات, ممکنات و امکانات کے گہرے سمندر میں غوطہ زن ہو چکے تھے. ممکنہ طور پر مختلف مشوروں اور نصیحتوں کے کے “تیروں” سے چور چور ہو چکے تھے. انہی مشاورتی تیروں اور نشتروں کے زخم کا اثر ہے کہ راجہ جلال گورنری کی بے کیف مسند پر جلوہ افروز ہونے کا فیصلہ کر چکے ہیں. (خبروں کے مطابق, آج میری بات نہیں ہوئی)
میں اکثر کہتا اور لکھتا ہوں کہ سیاست ایک صبر آزما کھیل ہے. تھکا دینے والا پیشہ ہے. اور سب سے اہم بات یہ کہ ٹھیک وقت پر مناسب فیصلے ہی سیاست دان کو کامران و سرفراز بناتے ہیں. ایک طرف گلگت بلتستان کے عوام ابھی سے ہی ذہنوں میں ایک متوازی حکومت بنا چکے ہیں. اگلی انصافی حکومت کے خدوخال, وضعیات بھی ترتیب دے چکے ہیں تو دوسری جانب تحریک انصاف کے صدر جس کو اس حکومت کی زمام سنبھالنی ہے خود کو دوڑ سے ہی باہر کرنے پر تُل گئے ہیں. یہ تو اٹل ہے کہ ملک میں کوئی بہت بڑی سیاسی انہونی نہ ہوئی (بظاہر ہوتی بھی نظر نہیں آتی) تو حسب روایت وفاقی حکومتی پارٹی یہاں فاتح ٹھہرائی جائے گی. تحریک انصاف کے دونوں دھڑوں میں فی الوقت 3 بڑے ہیں. کمزور دھڑے کی آمنہ انصاری اور جعفر شاہ کو پہلے پہل اپنے حلقوں کو سر کرنے کا پہاڑ جیسا چیلنج درپیش ہے. اور پھر عمران خان, جہانگیر ترین کی گڈ بک میں بھی راجہ جلال سر فہرست ہیں. یوں اکتوبر 2020 کے انتخابات کے بطن سے راجہ جلال ہی بطور وزیر اعلی برآمد ہو سکتے تھے. لیکن کون سمجھائے مقپون خاندان کے آرام پسند چشم و چراغ کو کہ گورنر بن کر آپ ایک محل کے قیدی نما مکین ہو کر رہ جائیں گے. اقتدار کا ہما وزیر اعلی ہاؤس میں چہکتا ہے. تحریک انصاف کا المیہ یہ ہے کہ وفاق سے لیکر صوبوں تک اس کے پاس مناسب مشیر دستیاب نہیں. راجہ جلال کے ساتھ بھی کچھ یہی ہوا ہے. گلگت اور دیامر کے جونیئر انصافی رہنما وزارت اعلی کا تخت اپنی طرف کھینچنے کے لئے راجہ جلال کو گورنر ہاؤس میں دھکیل رہے ہیں. سکردو شہر میں راجہ کے سوا پی ٹی آئی کا کوئی بڑا نہیں رہتا. مگر چند غیر معروف “رہنما” حلقہ نمبر ایک کے ٹکٹ کا آس لگائے بیٹھے ہیں. ممکنہ وزیر اعلی کو ریس سے باہر کرنے ہر تلے ہیں. وزارت اعلی کی گاڑی کو بلتستان سے بھگانے میں مصروف ہیں.
راجہ صاحب! اپنے لیڈر عمران خان سے ہی کچھ سیکھیں. سپورٹس مین اسپرٹ کے ساتھ کھیلیں. عمران خان نے وزارت عظمی کے لئے 22 سال انتظار کیا تھا. آپ وزارت اعلی کے لئے 2 سال انتظار کریں.
اسی مفت مشورے کے ساتھ آپ کا نیک اندیش

تحریر : سکندر علی زرین

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*