تازہ ترین

تین دشمن ۔۔۔

یاسین کوہ ہندوکش کے سنگم پر واقع ھے۔۔درکوت دریائے اوکزس سے دو دن کی مسافت پر واقع ھے۔قدیم زمانے میں سال کے دو مہنے یہ راستہ مکمل طور پر بند ھوتا تھا۔میجر بڈلف کے مطابق گھوڈوں سمت قافلے چار مہنے اس راستے سے ار پار ھوتے تھے۔شمبرگ نے یہ بھی انکشاف کیا ھے کہ وسطی ایشا کے حجاج کرام حج کے لئے درکوت والے روڈ استعمال کرتے تھے۔۔گویا یہ شاہراہ بین الااقوامی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا تھا۔یاسن ہندوکش کے سنگم پر واقع ھونے کی وجہ سے ہمیشہ مشکلات و مصائب کا شکار رہا۔قبائل جب پرامن زندگی گزار رھے تھے۔ان پر مختلف اوقات میں بیرانی حملہ آور قوتوں نے ان پر متوتر حملے کئے۔یہاں تک کہ کہیں دفعہ ان کی نسل کشی بھی کی گئی۔حملہ آور قوتوں کی شر سے بچے ہوئیں قبائل کی زندگیوں کو ہندوکش کی سردیوں نے اجیرن کر کے رکھ دیا۔دسمبر جنوری کی یخ بستہ ہوائیں دشمنی میں کسی سے کم نہیں ۔یاسن ان دو مہنوں میں شديد سردی کی لپیٹ میں ھوتی ھے۔سائبریا سے ٹھنڈی ھوائیں ان وادیوں میں داخل ھوتیں ہیں۔جو کہ یہاں کے باسیوں کے لئے کوئی نیک شگون نہیں ھوتی۔گویا یہ ھوائیں ان علاقوں پر قہر بن کر ٹوٹ پڑھتی ہیں ۔نومبر کو یاسن میں اداسی کا مہنہ کہا جاتا ھے۔کیونکہ پتے جب ٹہنی کو الوداع کہہ کر ھوا میں اڑ جاتیں ہیں، تو منظر دیکھ کر مسکراتے چہرے بھی اداسی کی سمندر میں اتر جاتیں ہیں ۔کیونکہ یہ ذرد مائل پتے موسم سرما کی امد کی سندیش دیتے ھے۔سائے لمبے ھو جاتیں ہیں۔عمر رسیدہ افراد دھوپ کی تلاش میں دیواروں کے پاس بیٹھ رھے ھوتے ہیں ۔ دھوپ میں بیٹھنے کا رواج یورپ میں بھی ١٤ویں صدی میں عام تھا۔ نومبر اور مارچ یاسن میں دو مہنے ہیں جس میں لوگ دھوپ کی تلاش میں ھوتے ہیں جب سردیاں اپنی جوبن پے پہنچتی ہیں تو شکواہ دھوپ سے بھی کرتے ہیں۔لمبی راتیں اور اوپر سے سسکتی سردی گویا قیامت کا ایک منظر ۔ ان سردیوں نے بستیوں کے بستایا اجاڈ دیئے۔بات یہاں ختم نہیں ھوئی ابھی وبائی امراض کا زگر باقی ھے ۔حملہ اوروں کی قتل وغارت گری سے بچے کچے قبائل کو ان امراض نے صفہ ہستی سے مٹا دیا۔ان امراض میں چچک قابل ذکر ھے۔سن ١٨٦٥ میں یاسن اور پوری گلگت بلستان میں چچک کی بیماری پھیل گئی۔اور یاسن میں ٣٠فیصد لوگ لقمہ اجل بن گئے ۔بعض جگہوں میں خاندان کے تمام افراد اور ہر گھر سے لاشیں اٹھے تھے۔یورپ میں 15ویں صدی میں چچک سے ٥٠فیصد لوگ مر چکے تھے جس کو بلیک ڈیتھ کہا جاتا ھے۔یاسن میں بھی صورت حال اس سے کچھ مختلف نہیں رہی۔لاشوں کو دفنانے کے لئے افرادی قوت بھی نہیں بچے تھے۔بے گوروکفن لاشوں کو اجتماعی قبروں میں دفنایا گیا۔زکر چچک کی ھو رہی تو چچک سے وابستہ ایک واقعہ گوش گزار کروں گا۔میر غزن خان اف ہنزہ نے اپنے والد کو قتل کرنے کے لئے چچک کا سہارا لیا تھا۔روایت ھے کہ میر غضنفر کو اس کی بیٹی نے ایک چوغہ پہنے کو دی جو ایک چچک ذدہ شخص کی زیر استعمال رہی تھی۔بیٹی اپنی بھائی غزن خان سے ملی ھوئی تھی۔چوغلہ پہنے سے میر غضنفر جلد ہی چچک کی مرض میں مبتلا ھو کر انتقال کر گئے۔چچک سے اموات کا سلسلہ یسن میں یہاں پے رکا نہیں بلکہ نومبر ١٩٦٩کو یاسن ایک بار پھر چچک کی بیماری کی ذد میں ا گیا۔بیماری جلد ہی پوری یاسن کی طول وعرض میں پھیل گئ۔اس دفعہ ہلاکتوں کی شرح قدرے کم تھی۔لوگ مر گئے اور جو بچ بھی گئے تھے چہرے کے خدوخال بدل چکے تھے۔پا کستان کو وجود میں ائے ھوئے بائیس سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔لیکن اس بدنصیب خطے کے باسی چچک سے بدستور مر رہے تھےکوئی پرسان حال نہیں تھا۔ہلاکتوں کا یہ سلسہ 1972 کو کئی جا کر رکھ گئی۔اس دور کی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر چچک کے ٹیکے لگوائے۔اور یہ بھی علان کیا کہ جو شخص چچک میں مبتلا شخص کی اطلاع دیگا اسے ١٠٠روپے کا انعام رکھا گیا۔تقاضے بدل چکے ہیں لیکن یاسن کے باسی اج بھی علاج جیسے نعمت سے کوسوں دور ہیں۔خطہ ندنصب یا عوام فیصلہ اپ پے چھوڑتا ھوں
تحریر :ظفراقبا ل

  •  
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*