تازہ ترین

بلتستان کو سی پیک سے اس کا پورا حصہ دیا جائے۔ سیدعباس کاظمی سنئیر رہنما پاکستان تحریک انصاف

سکردو(نامہ نگار)بلتستان تحریک انصاف کے سینیر ممبر اور صوبایی ڈپٹی کنوینر سید محمد عباس کاظمی نے وفاقی حکومت پاکستان اور گلگت بلتستان کے چیف سیکریٹری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سی پیک کے تحت چین سے گلگت بلتستان کی ترقیاتی منصوبوں کے لئے ملنے والی بجٹ اور فنڈزسے بلتستان کو اس کا پورا حصہ دیا جائے ۔ ڈوگرہ تسلط سے اب تک یعنی ڈھائی سو سالوں سے بلتستان اور گلگت ایک سیاسی اور انتظامی اکایی میں جڑے ہوے ہیں ۔ان دونوں علاقوں کے بزرگوں نے مل کر ڈوگروں کے خلاف جدوجہد کی اپنی جان کی قربانیاںدیں اور مل کر پاکستان کے سایہ میں پناہ لی۔پچھلے ستر سالوں سے دونوں اچھے اور برے حالات میںایک ہی کشتی میں سوار ہیں۔لیکن جب سے سی پیک کا منصوبہ شروع ہوا ہے توگلگت میں موجودہ انتظامیہ نے سی پیک سے گلگت بلتستان کو ملنے والی اقتصادی امداد کو صرف گلگت ڈویژن اور دیامر ڈویژن کے لیے مخصوص کردیا ہے جبکہ بلتستان جو اس سیاسی اور انتظامی اکایی کا تیسرا ڈویژن ہے مکمل طور محروم رکھا ہے ۔ ساتھ ہی چینی اور وفاق پاکستان کے علاوہ گلگت بلتستان کے اعلامیوں اور کاغذات میں پورا گلگت بلتستان رکھا ہوا ہے جس سے چین اور وفاقی ریاست کی انتظامیہ اور عوام کو یہ تاثر ملتا ہے کہ سی پیک کے تمام فوائد سے بلتستان والے بھی مستفید ہورہے ہیں اور وہاں بھی سی پیک کے تحت کئی ترقیاتی منصوبے چل رہے ہونگے ۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ بلتستان ڈویژن کو سی پیک کے فوائد اور منصوبوں سے شروع دن سے اس طرح محروم رکھاہوا ہے جیسا کہ یہ علاقہ کسی دشمن کا ہو۔اس بارے میںعباس کاظمی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ یہ موجودہ ومسلم لیگی وزیر اعلیٰ حافظ حفیظ الرحمٰن کی بلتستان کو گلگت سے سے علٰحدہ کرنے کا ایک منصوبہ ہے ۔ جبکہ یہ اس کا خیال خام ہے ۔ بلتستان اور گلگت والے ہر حالت میں ایک ہیں اور ایک ساتھ رہیں گے ۔البتہ حافظ حفیظ الرحمٰن وزیر علیٰ کی اس بلتستان پالیسی سے کم از کم بلتستان میں مسلم لیگ کا وجود مکمل طورختم ہورہا ہے اور مسلم ن کا ایک ممبر بھی قانون ساز اسمبی میں نہیں آیے گاجس کا کریڈٹ حافظ صاحب کو ہی ملے گا۔عباس کاظمی نے کہا کہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اپنے مادر وطن بلتستان کے ساتھ اتنی بڑی زیادتی اور اقتصادی طور پر نقصان دیے جانے پر موجودہ اسمبلی میں موجود بلتستان کے ایک درجن کے قریب نمائندوں میں سے ایک نے بھی احتجاج نہیں کیا ۔مزید برآں یہ بات بھی سب کے سامنے ہے کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر بلتستان بھر کے مساجد اور عوامی اجتماعات میں گرجنے اور امریکہ و اسرائیل کو فتح کرنے والے علمائے کرام نے بھی اس اہم ترین قومی ایشو پر ایک لفظ نہیں کہا۔ عباس کاظمی نے وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان ‘ چیف سیکریٹری گلگت بلتستان اور چینی حکومت کے سی پیک کے بااختیار ذمہ داروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بات کی کھوج لگائیں کہ سی پیک کے تحت ملنے والی ترقیاتی امدادی رقومات میں سے بلتستان کو مکمل طور علٰحدہ کیوں رکھا گیا اور کس وجہ سے بلتستان دشمنی کا کام کیا گیا۔ساتھ ہی سی پیک کے ذمہ داران اس بات کو یقینی بنائیں کہ ابھی سے ہی سی پیک کے تحت گلگت بلتستان والوں کو دی جانے والی امدادی اور ترقیاتی رقوم میں سے بلتستان کو بھی اس کا پورا حصہ دیا جائے اور اسے سکردو شہر میں بجلی کی شدید بحران کو حل کرنے کے لئے سدپارہ ڈیم بجلی گھر کی جملہ خرابیوں کو در کرنے اور بلتستان یونیورسٹی پر خرچ کیا جائے اور ایک سیاسی پارٹی کے تسلط سے آزاد کرنے اور اس قومی اہمیت کے ادارے کی آزاد حیثیت کو مستحکم کرنے کیلئے سکردو حلقہ نمبر دو میں زمین حاصل کرکے اس کی عمارت تعمیر کی جائے اور اس محبوس بلتستان یونیورسٹی کو آزاد فضا میں منتقل کیا جائے ۔ بلتستان کے باشندے اپنا یہ حق محفوظ رکھتے ہیں کہ وہ سی پیک کے تحت ترقیاتی منصوبوں میں اپنے حصے کے لئے وفاق پاکستان اور چینی حکام اور پاکستان کی مجاز عدلیہ سے رجوع کریں اور اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

  •  
  • 7
  •  
  •  
  •  
  •  
    7
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*