تازہ ترین

دیامیربھاشا۔ایک نیا تماشہ۔۔۔

پاکستان میں آج کل دیامیربھاشا ڈیم جسے صرف بھاشا ڈیم بھی کہا جاتا ہے پر تبصرے، تجزیئے اور سوشل میڈیا مباحثے بام عروج پر ہیں جبکہ چیف جسٹس فنڈ اور عمران خان چندہ مہم پر بھی مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، قومیت نوعیت کے اس بڑے ٹاکرے میں شائد کوئی سمجھنے کی کوشش بھی نہیں کر رہا کہ دیامیربھاشا ڈیم دراصل ہے کیا اور اسکے فائدے نقصانات کیا ہو سکتے ہیں، یہ بنے گا کتنے عرصے میں، کتنی لاگت آئے گی اور پاکستان اور پاکستانیوں کو حاصل کیا ہوگا؟، یہ سوال ہمارے ذہن میں بھی آئے اور پر ہم نے خوب ورق گردانی کے بعد جو بھیانک منظر دیکھا وہ آپ کے سامنے پیش خدمت ہے۔
دیامیر بھاشا ڈیم گلگت بلتستان کے علاقہ دیامیر اور خیبرپختونخواہ کے علاقہ بھاشا کے مقام پر دریائے سندھ پر بنایا جائے گا۔ خیبرپختونخواہ کے علاقہ چلاس سے چالیس کلومیٹر نیچے اور گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر نیچے اور تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر اوپر واقع دیامیر اور بھاشا کے علاقے دریائے سندھ پر جس مقام پر آپس میں ملتے ہیں وہاں شاہراہ قراقرم کے بالکل قریب اس ڈیم کیلئے جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مشرف دور حکومت 2006 میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان اگلے دس سے بارہ سال کی مدت میں پانچ بڑے ڈیم تعمیر کرے گی، ان پانچ ڈیمز میں سے ایک ڈیم بھاشا ڈیم بھی تھا جس کے اعلان کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں عوام نے احتجاج کیا کہ ڈیم تو گلگت میں بننا ہے پھر نام بھاشا کا کیوں دیا گیا جس پر دونوں علاقوں کے نام شامل کر کے ڈیم کو دیامیربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا۔ منصوبے کا تخمینہ لاگت 12.6 ارب ڈالر لگایا گیا اور فزیبلٹی رپورٹ تیار کی گئی جس کے مطابق ڈیم سے 4500 میگا واٹ بجلی اور 81 لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کیا جا سکے گا۔ ڈیم کی ڈرائنگ اور دیگر اہم معاملات معاوضہ جات، لاگت، ڈیزائن سمیت جملہ لوازمات پر پیپر ورک مکمل کر لیا گیا تاہم منصوبہ شروع ہوتے ہی کٹھائی میں پڑ گیا اور 2012 تک منصوبے پر کام شروع نہ ہو سکا، اسکی وجہ یہ تھی کہ ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک دونوں نے منصوبہ متنازعہ علاقہ میں ہونے کی وجہ سے سرمایہ کاری سے انکار کر دیا تھااور منصوبے پر سرمایہ کاری کیلئے انڈیا سے این او سی لینے کی شرط رکھ دی۔ 2013 میں سابق وزیر خزانہ پاکستان اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ورلڈ بنک اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو سرمایہ کاری کے لئے قائل کر لیا ہے جبکہ آغا خان فاؤنڈیشن، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام نے کلیدی سرمایہ کار بننے پر رضاء مندی ظاہر کر دی۔ اسحاق ڈار نے دیامیربھاشا ڈیم اور داسو ڈیم دونوں پر ایک ساتھ کام شروع کرنے کی نوید سنائی اور ساتھ بتایا بھی کہ دیامیربھاشا ڈیم کی تکمیل دس سے بارہ سال کی مدت میں ہو گی۔نومبر 2013 میں واپڈا نے 5.5 ارب روپے کے معاوضے ادا کر کے 17 ہزار ایکڑ زمین ڈیم کیلئے حاصل کی۔ `14 نومبر 2017 کو پاکستان نے سی پیک (پاک چین اقتصادی راہداری ) منصوبہ میں اس ڈیم کو بھی پیش کیا اور چین سے اس ڈیم پر سرمایہ کاری کی خواہش ظاہر کی جس پر چین نے سخت شرائط رکھتے ہوئے ڈیم کا تخمینہ لاگت 14 ارب ڈالر لگایا اور پاکستان کا کوئی ایک بڑا ڈیم سرمائے کی گارنٹی کے طور پر چین کے پاس گروی رکھنے کی شرط رکھ دی۔ شائد حکومت پاکستان اس شرط پر بھی ڈیم بنوا لیتی مگر ڈیم کیلئے تمام تر جدوجہد کرنے والے اسحاق ڈار کو ملک سے بھاگنا پڑ گیا اور اب وہ لندن میں سڑک پر واک کرتے پائے جاتے ہیں اور ڈیم ادھر ہی پڑا ہے جہاں وہ چھوڑ کر گئے تھے۔
یہ تھی اس ڈیم کی مختصر سی کہانی تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی رہے کہ بھاشا ڈیم دراصل کس بلا کا نام ہے، اب ہم آتے ہی اصل کہانی کی طرف، اس ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے 4500 میگاواٹ بجلی مل سکتی ہے جو بلاشبہ پاکستان جیسے توانائی کے بحران سے لڑتے ملک کیلئے قارون کے خزانے سے کم نہیں ہے جبکہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پاکستان کے دیگر تمام ڈیموں سے کہیں زیادہ ہے ۔ اس پانی کو سٹور کرنے کے بعد کیا کیا جائے گا؟ ۔ ہر پاکستانی یہی سمجھتا ہے کہ پانی سٹور ہو جائے گا تو ہمارے بھاگ کھل جائیں گے، خود بخود گھروں کی ٹوٹیوں سے تازہ منرل واٹر امڈ کر باہر آ جائے گا، پنجاب، خیبرپختونخواہ اور سندھ کی زمینیں اس قدر سیراب ہو جائیں گی کہ تھر کے ریگستانوں پر بھی سبزا نظر آنے لگے گا، ہر طرف پانی ہی پانی ہو گا اور اس پانی پر کشتی چلاتے ہوئے رات کی تاریکی میں ڈل جھیل کی مانند ہم رومانوی داستانیں لکھا کریں گے۔ مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہونے جا رہا، پانی ذخیرہ کرنے سے پاکستان کو دریائے سندھ میں آنے والے سیلابوں پر کسی حد تک کنٹرول حاصل ہو جائے گامگر جہاں ملک میں پانی ایک سنگین مسٗلہ بن چکا ہے وہاں سیلاب کی خواہش رکھنا بھی دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے۔
دیامیربھاشا ڈیم میں سے کوئی نہر نہیں نکالی جا سکتی جس سے زمینیں سیراب ہوں اور ذراعت اور زیر زمین پانی کی کمی پر قابو پایا جا سکے۔ یہ ڈیم ایسی جگہ بنے گا جہاں پانی سٹور کرنے کے بعد دریائے سندھ میں ہی چھوڑا جائے گا جو سیدھا ٹیڑھا چلتے ہوئے تربیلہ ڈیم میں پہنچے گا اور وہاں سے نہرے سلسلے سے جڑکر پاکستانی کی آبی ضروریات کو پورا کرے گا، یہاں ایک اور سوال ہے کہ اگر دیامیر میں سٹور کرنے کے بعد بھی پانی تربیلا سے ہی حاصل کرنا ہے تو تربیلا براہ راست ہی آنے دیا جاتا راستے میں روک کر تربیلا خشک کرنے کی کیا حاجت پیش آ گئی تو اسکا جواب ہے ۔۔۔بجلی۔۔۔
اب چونکہ روشن پاکستان والی حکومت نہیں ہے اور اسکی جگہ چندہ پاکستان اور پانی پانی پاکستان کی حکومت ہے تو آج کا مسئلہ پانی ہے ۔ پاکستان کے معروف انجینئر انور خورشید نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ بھاشا ڈیم کالاباغ کا متبادل ہو ہی نہیں سکتا۔ بھاشا ڈیم سے نہریں نہیں نکالی جا سکتیں۔ دریائے سندھ پر بننے والے کسی بھی ڈیم سے نہریں نہیں نکالی جا سکتیں سوائے کالاباغ ڈیم کے‘‘۔ کالاباغ ڈیم پاکستان کا بنیادی مسئلہ ہے اور اگر تماشا دیکھنے میں مصروف قوم کو کچھ یاد ہو تو انتخابات سے قبل کالاباغ ڈیم بنانے کیلئے بھی ایک مہم زور و شور سے چلی تھی جو پھر بھاشا ڈیم میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق کالاباغ ڈیم بھاشا ڈیم سے کہیں کم لاگت میں بن سکتا ہے، کالاباغ ڈیم پر سرمایہ کاری کیلئے دنیا کی لاتعداد کمپنیاں اور چین سمیت کئی ممالک دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔ کالاباغ ڈیم6 سال کی کم مدت میں مکمل ہو سکتا ہے اور اسکا تخمینہ لاگت بھی بھاشا ڈیم سے کم لگایا گیا ہے جس کے لئے سرمایہ کاری جلد ملنے کا امکان ہے۔ کالاباغ سے 3600 میگاواٹ بجلی اور 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا۔ 915فٹ اونچا یہ ڈیم اپنی کل لاگت محض چند سالوں میں پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ اس پر بننے والا نہری نظام پاکستان میں ذراعت اور آبی بحرانوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس ڈیم کی تکمیل سے پاکستان کو سیلاب کو روکنے اور اسکے استعمال میں لانے کے لئے بھرپور مدد مل سکتی ہے۔عمران خان اب وزیراعظم پاکستان بن چکے ہیں تو انہیں چاہئے کہ روایتی طریقہ سے چندہ مانگنے کی بجائے ملک میں محض ایک ریفرنڈم کروا دیں اور کالاباغ ڈیم پر قوم کا اعتماد حاصل کرنے کے فوری بعد اس ڈیم کی تعمیر شروع کروائیں اور جلد از جلد اسکی تکمیل یقینی بنائیں کیونکہ دیامیربھاشا ڈیم جیسے دس مزید ڈیم بھی بنا لیں پاکستان سے آبی بحران کا خاتمہ کالاباغ سے ہی ممکن ہے یقیناًاسکے لئے آپکو چندہ مانگنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔نہ ہی دنیا کو یہ باور کرانے کی ضرورت پیش آئے گی کہ ہم لٹ گئے برباد ہو گئے، اب چندے مانگ کر ملک چلائیں گے۔
تحریر: عتیق احمد سدوزئی

  •  
  • 3
  •  
  •  
  •  
  •  
    3
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*