تازہ ترین

کھرمنگ کے اقبال حسن کے نام دوسرا خط۔

اقبال حسن صاحب! یہ بات اپنے دل و دماغ کی گرہ سے باندھ لیجئے کہ جن ٹھیکیداروں نے ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے خلاف قرارداد گزاری ہے ان کی کثیر اکثریت اگلے الیکشن تک آپ کو چھوڑ چکی ہو گی. یہ سارے ابن الوقت, چڑھتے سورج کے پجاری, فصلی بٹیر ایک ایک کر کے مخالف کیمپ جوائن کر چکے ہوں گے. کیونکہ اس دفعہ “باری” آپ کی نہیں. دست شفقت بھی آپ کے سر پہ نہیں ہو گا. صوبے کی سب سے طاقت ور وزارت (پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ) کا قلمدان آپ کے پاس ہے. مگر ہنوز کھرمنگ میں کوئی ایسا بڑا پروجیکٹ نہیں لگا جو آپ کا طرہ امتیاز ٹھہرے. آپ کی کارکردگی اور “خدمت” کا استعارہ بن سکے. آپ کی جھولی میں ایک ہی کریڈٹ ہے, وہ ہے ایجوکیشن سسٹم کو ڈگر پہ لگانا. اس کو بھی آپ اپنے ہاتھوں سے ملیامیٹ کرنا چاہتے ہیں تو بسم اللہ! دو قدم مزید آگے بڑھ کے کر لیجئے. مگر ایک اور بات بھی یاد رکھیں! آپ پرفارمنس کے ذریعے ہی کھرمنگ میں اپنی سیاست کو دوام بخش سکتے ہیں. نہ جانے آپ کو یاد ہو کہ نہ ہو مگر ہمیں سب ہے یاد ذرا ذرا کہ 2009 میں آپ “محاذ ایریا” کے نعرہ مستانہ کے ساتھ سائیکل سے اتر کر شیر پر سوار ہو کر آئے تھے. اس “محاذ ایریا” میں عقل مندوں کے لئے نشانیاں پنہاں ہیں. بات ذرا باریک ہے. سو فیصد مذہبی, مسلکی و ثقافتی ہم آہنگی رکھنے والے حلقے میں لسانی تفریق کی بات کرنا بھی زیبا نہیں. مگر آپ کو اور کھرمنگ کے عوام کو بھی تصویر واضح انداز میں دکھانا بھی نا گزیر ہے. سو بات کو مختصراً سمیٹ کر کر لوں تو یہ کہ “محاذ ایریا” کا ووٹ بنک 15 فیصد ہے. مادھوپور, گوہری, ہلال آباد, کمنگو, طولتی, پاری, میوردو, یونین کونسل کھرمنگ, باغیچہ سمیت حلقے کے بڑے بڑے موضعات میں آپ کا ذاتی ووٹ بنک نہیں, نظریاتی ووٹر نہیں, سیاسی گروپ نہیں. اس کے باوجود مذکورہ موضعات میں لوگ آپ کو پسند کرنے لگے تھے. آپ میں علم دوست لیڈر کی جھلک دیکھنے لگے تھے. آپ کی “تعلیم دوست پالیسی” (بقول شخصے) کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگے تھے. مگر لگتا ہے آپ زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھنے والوں میں سے نہیں. آپ ٹھیکیداروں میں پھنس چکے ہیں. آپ کی قوت فیصلہ معدوم ہو چکی ہے. سیاسی بصیرت پر “ٹھیکیداری بصارت” غالب آ چکی ہے. آپ کی پارٹی کے مطابق آپ کی رضا مندی سے آپ کا وزیر اعلی ڈی ڈی ایجوکیشن کو تبدیل کرنے جا رہے ہیں. مسلم لیگ کھرمنگ کے ٹھیکیدار مافیا کے آگے آپ سرنڈر کر چکے ہیں. سرکاری افسران کے تبادلے معمول کا حصہ ہیں. بظاہر ایک افسر کی پوسٹنگ کوئی ایشو بھی نہیں. لیکن آپ جو پوسٹنگ کرانے جا رہے ہیں وہ سنگین مسلے کی صورت اختیار کر چکی ہے. ن لیگ کھرمنگ کے ٹھیکیداروں کو ڈی ڈی ایجوکیشن سے کیا خار ہے یہ آپ بہتر طور پر جانتے ہیں. پارٹی بیٹھکوں میں بھی آپ کے ساتھی دلی بڑاس نکالتے رہے ہیں. عوام بھی کوئی بے خبر نہیں. کھرمنگ کے دو گروہی سیاسی نظام میں بظاہر دراڑ ڈالنے والے اقبال حسن صاحب! آپ کے سیاسی تدبر کا امتحان اب شروع ہوا چاہتا ہے. سیاست میں گاہے بگاہے ایسے موڑ آجاتے ہیں جو بروقت اور درست فیصلے مانگتے ہیں. شاید آپ اس سیاسی موڑ پہ آ چکے ہیں. اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ ٹھیکیداری سیاست ہی کرنی ہے یا پبلک پالیٹیکس کا نقیب بننا ہے. اگر آپ چاہتے ہیں کہ کھرمنگ کے لیڈر بنیں, حقیقی عوامی نمائندے بنیں تو آگاہ رہیں یہ فیصلے کی گھڑی ہے. اپنے مستقبل کی سیاسی سمت طے کرنے کے سمے ہیں. سو ذرا تدبر کا مظاہرہ کیجئے. عوام کی نبض پر ہاتھ رکھیئے. تحمل مزاجی کے ساتھ ٹھنڈے سانس لیکر چند لمحوں کے لئے سوچیں. اور ہاں! قوم, ملت, علاقے کے لئے بھی نہیں. اپنی ذات کے لئے ہی سوچیں. علم دوستی, علاقائی مفاد جیسے بھاشن ذرا پرے رکھیں. سیدھا سیدھا ذاتی مفاد کا حساب کتاب کھولیں. آیا آپ کو ٹھیکیداری سیاست کرنی ہے یا عوامی سیاست. فیصلہ آپ کا.سکندر علی زرین۔

تحریر: سکندر علی زرین

  •  
  • 5
  •  
  •  
  •  
  •  
    5
    Shares

About TNN-ISB

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*