تازہ ترین

چندے سے ڈیم بن پائے گا یا نہیں؟ سروے میں حیران کن فیصلہ ۔

اسلام آباد(ویب ڈیسک) نجی ٹی وی کی جانب سے کروائے گئے سروے میں 80 فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ چندے سےڈیم کی تعمیر ممکن ہے جبکہ محض 20 فیصد لوگ اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔تفصیلات کےمطابق پاکستان میں پانی کا بحران شدید ہونے کا خدشہ ہے۔حالیہ صورتحال میں پاکستان میں پانی کی کمی کا بحران تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے۔جہاں ایک طرف موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پاکستان بے حد متاثر ہوا ہے، وہیں دوسری جانب بھارت نے نئے ڈیم بنا کر پاکستان کے دریاوں کا پانی روک لیا ہے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان میں بننے والی کوئی بھی حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ تاہم اس حوالے سے گزشتہ کچھ عرصہ قبل سوشل میڈیا پر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے ایک طاقتور مہم شروع کی گئی ۔اس مہم کے بعد کالاباغ ڈیم کا معاملہ عدالت بھی جا پہنچا اور اس حوالے سے خاصے فکر انگیز مباحثے قومی چینلز پر انعقاد پذیر ہو رہے ہیں جس میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر ،ممکنہ تنازعہ اور اسکے حل کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے۔کچھ عرصہ پہلے سپریم کورٹ آف پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر سے متعلق کیس سنا دیا گیا جس کے مطابق مہمند اور دیامر بھاشا ڈیم کی فوری تعمیر کا حکم دیا اور اسکے ساتھ ہی ڈیموں کی تعمیر کے عطیات اکٹھے کرنے کے لیے بینک اکاونٹس بھی بنادئیے گئے جس میں اب تک خطیر رقم جمع کی جا چکی ہے ،،پاکستان کی تمام مخیر ہستیاں اس معاملے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی فکر میں ہیں۔اب تک چیف جسٹس کے حکم پر بنائے گئے اکاونٹ میں 1ارب روپے 97 کروڑ کی رقم جمع ہو چکی ہے۔
دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے عطیات جمع کئیے جارہے ہیں ،اگر اسکی لاگت کو دیکھا جائے تو اس ڈیم کی تعمیر کے لیے اور 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والے ڈیم کے منصوبے کے آغاز پر اس کا تخمینہ 12 ارب ڈالر لگایا گیا تھا لیکن مختلف ماہرین کے مطابق اس ڈیم کی کل لاگت 18 سے 20 ارب ڈالرتک جا سکتی ہے۔اس حوالے سے مزید تفصیلات جو بی بی سی اردو کے آرٹیکل میں شامل ہیں ان کے مطابق اس سال مارچ میں وفاقی حکومت نے اصولی طور پر اس ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم مختص کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں سے 370 ارب روپے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ واپڈا تقریباً 116 ارب روپے اپنے ذرائع سے جمع کرے گا۔بقیہ 163 ارب روپے بینکوں سے قرضوں کی مد میں لیے جائیں گے۔ حکومتی اعلان کے مطابق پہلےمرحلے میں دیامیر بھاشا ڈیم کے صرف پانی ذخیرہ کرنے کی سہولت پر کام ہوگا جبکہ بجلی بنانے والے سیکشن کی تعمیر میں مزید 744 ارب روپے درکار ہوں گے اور کل منصوبے کی تعمیر پر 1.4 کھرب روپے کی لاگت آسکتی ہے۔ ڈیم کی تعمیر کے لیے زمین حاصل کرنے اور آبادکاری کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے اور اس مقصد کے لیے اب تک حکومت 58 ارب روپے خرچ کر چکی ہے جبکہ مزید 138 ارب روپے اسی سلسلے میں مختص کیے گئے ہیں۔دوسری جانب مہمند ڈیم جو اب تک پی سی ون تک مکمل ہوچکا ہے اس پر اب تک 93 کروڑ کی لاگت آچکی ہے۔تاہم نجی ٹی وی کی جانب سے کروائے گئے سروے میں عوام نے بھی اپنا فیصلہ سنا دیا۔نجی ٹی وی کی جانب سے کروائے گئے سروے میں 80 فیصد شرکاء کا خیال ہے کہ چندے سے ڈیم بنانا ممکن ہے جبکہ صرف 20 فیصد اس حوالے سے ناامید ہیں کہ چندے سے ڈیم بنانا ممکن نہیں ہے۔لہذا عطیات کی مہم کتنی حقیقی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی طے کرے گا۔

  •  
  • 6
  •  
  •  
  •  
  •  
    6
    Shares

About TNN-Gilgit

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*