تازہ ترین

پاکستانی معاشرے میں پستی کا بڑھتا ہوا رجحان… ذمہ دار کون ہے ؟

کسی بھی معاشرے کے عروج و زوال میں افراد کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے- یہ حقیقت مسلم ہے کہ معاشرے کی تعمیر وتخریب کا سبب اس میں رہنے والے افراد ہی ہوتے ہیں، اگر افراد معاشرہ تعلیم وتربیت یافتہ اور باشعور ہوں تو اس سے معاشرے کو عروج ملتا ہے اور اس میں پستی کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں لیکن اس کا برعکس ناداں، تربیت سے تہی بے شعور افراد سے محرومی، پستی اور زوال معاشرے کے حصے میں آتا ہے واضح ہے ایسے معاشرے میں پستی کے نت نئے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں-
اس حقیقت کی عینک سے جب ہم پاکستانی معاشرے کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں وطن عزیز کے اندر معاشرے کی ترقی وپیشرفت کے واقعات سے کہیں زیادہ اس کے زوال اور پستی کے واقعات و حالات سننے اور دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ملک کے باسیوں کی اکثریت تعلیم وتربیت سے بیگانہ ہوکر فہم وشعور کی دولت سے محروم ہونا ہے، جب لوگ تعلیم اور تربیت سے بیگانہ ہوتے ہیں تو ان میں انسانیت کی بو تک نہیں رہ جاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ معمولی اور بے ارزش چھوٹی چھوٹی چیزوں کو پہاڑ بناکر لڑنے جگڑنے کے لئے ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں جس کی حالیہ مثال اس ویڈیو کلپ میں دیکھی جا سکتی ہے جو میڈیا پر وائرل ہوچکی ہے، جس میں تنومند مرد کی شکل کے کچھ نامرد لاٹھی سے دو غریب عورتوں کو زد وکوب کرکے اپنی درندگی کا مظاہرہ کررہے ہیں وجہ دوتین جوڑے کپڑے چوری کرنے کا الزام تھا، جب یہ ویڈیو میں نے دیکھی تو حیرت کی انتہا نہ رہی کہ ناموس پر برسرعام اتنا بہیمانہ تشدد لا حول ولا قوۃ- خير اس ویڈیو کلپ کو دیکھ کر مجھے بہت دکھ ہوا، ان غریب لاچار تشدد کا نشانہ بننے والی عورتوں پر بڑا ترس آیا، ان پر ہونے والے ظلم سے بہت افسوس ہوا، لیکن ویڈیو کلپ سے یہ پتہ نہیں چلا کہ یہ دلسوز واقعہ پاکستان کے کس مقام پر پیش آیا ہے، تشدد کرنے والے غنڈوں کا تعلق کس جگہ سے تھا- چنانچہ اسے معلوم کرنے کے لیے میں نے اخبارات کی طرف رخ کیا تو سیاسی اور سماجی موضوعات پر مسلسل لکھنے والے قلمکار طاہر یاسین طاہر صاحب کا کی تحریر نظر سے گزری، انہوں نے اپنا پورا کالم انتہائی حسین انداز میں اسی موضوع پر لکھا تھا، چنانچہ پوری توجہ مرکوز کرکے میں نے ان کی تحریر پڑھی تو پتہ چلا یہ دلسوز واقعہ لاہور میں پیش آیا تھا –
طاہر يس طاہر کے کالم کے مطابق لاہور کے، حلقہ این اے 128، یونین کونسل 182 ڈوگرئے کلاں، جلو موڑ کے مین بازار میں کپڑے والی دوکان پر دو عورتوں کو مبینہ طور پر چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھ پکڑا گیا، پہلے دکاندار اور اس کے سیلز مینوں نے اور بعد ازاں لاہور کبڈی فیڈریشن سے تعلق رکھنے والے چوہدری اعجاز مناواں اور اسکے ساتھیوں نے مبینہ چور خواتین پر تشدد کیا۔یہ سب ویڈیو میں دیکھا بھی جا سکتا ہے دکانداروں نے خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد پولیس کے حوالے کرنے کے بجائے چھوڑ دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واقعے کی فوٹیج سامنے آنے کے بعد پولیس نے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی۔ پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ دکانداروں نے قانون ہاتھ میں لیا اور خواتین کو پولیس کے حوالے نہیں کیا جبکہ تشدد میں ملوث دکاندار اپنے گھر اور دکانوں کو تالے لگا کر فرار ہوگئے۔
ہم ان غریب عورتوں پر کئے گئے بہیمانہ تشدد کی بھر پور مزمت کرتے ہیں اور متعلقہ ذمہ دار افراد سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ان پر تشدد کرنے والے ظالموں کو ضرور گرفتار کرکے عبرتناک سزا دلوانے میں تاخیر نہ کریں
پستی اور زوال کی دوسری مثال بلتستان کی سرزمین پر منعقد ہونے والی مرد وزن کی مخلوط ڈانس محفل ہے-
مختلف زرائع سے شنید ہے کہ بلتستان کی تاریخ میں پہلی سرفہ رنگا میں ثقافتی فروغ کے نام خواتین نے ڈانس پارٹی میں شرکت کرکے اپنی حیا اور عفت کو داغدار کیا گیا اور بلتستانی معاشرے کو خراب کرنے والے دشمنوں کے آلہ کار بنے ہوئے کچھ افراد نے لہولعب ناچ گانے کی محفل سجاکر لڑکیوں کو بھی مدعو کرکے اپنی محفل کی زینت اور رونق میں اضافہ کیا گیا – چنانچہ کچھ دلسوز افراد میڈیا پر اس مکروہ وقبیح حرکت کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لئے متحرک دکھائی دے رہے ہیں جو ہماری نظر میں لائق تقدیر عمل ہے اور ایسے افراد داد وتحسين کے مستحق ہیں – ہم بھی سرفہ رنگا میں ہونے والے اس مخلوط پروگرام کی بھر پور مزمت کرتے ہیں لیکن یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ بعض افراد اس کے ذمہ دار بلتستان کے علماء کو ٹھرانے پر مصر ہیں، چنانچہ انہوں نے بڑے تند لہجے میں علما سے مخاطب ہوکر اس مسئلے کی طرف ان کو متوجہ کرانے کے ساتھ انہیں ايام عزا میں اسی مسئلے کو موضوع سخن بنانے کی تلقین کی ہے تو ان کی خدمت میں عرض ہے يقينا آپ نے از باب دلسوزی اپنے مافی الضمير کو پہنچانے کی کوشش کی ہے لیکن اگر زمینی حقائق کے مطابق غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کی وجہ فقط علما نہیں ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہمارے علما کی کوتاہی بھی اس میں ضرور شامل ہے مگر پورا ملبہ ان پر گرانا نیک شگون نہیں- اس کے اصل ذمہ دار علما سے کہیں زیادہ والدین محترم ہیں جو اپنے بچوں کو مغربی تعلیم دلوانے کے لئے تو اپنا پورا سرمایہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہوتے ہیں مگر وہ اپنے بچوں کو اسلامی تربیت سے مزین کرانے کے لئے کوئی منصوبہ بندی نہیں کرتے ہیں، جب بچوں کی ذہنیت فقط مغربی خشک تعلیم سے مستحکم ہوگی، جب وہ اسلامی تعلیمات سے بےگانہ ہوں گے، جب اخلاقی اور تربیتی مراحل سے وہ نہیں گزریں گے، جب انہیں دینی شعور سے مالا مال کرانے کے لیے والدین نے کوئی انتظام نہیں کئے ہوں گے تو ایسے بچے بے راہ روی کا شکار نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا-
واقعتا جائے تعجب ہے کہ ہمارے والدین کی آرزو ہوتی ہے کہ ان کے بچے اچھے سکول یا یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرکے باصلاحیت انسان بنیں، چنانچہ وہ شب و روز محنت مزدوری کرکے پیسے جمع کرتے ہیں اور اپنے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں یہ بہت اچھی سوچ ہے ہم اس کی تعریف کرتے ہیں لیکن وہ جتنا ان کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ہیں کیا اتنا وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ان کی فکری تربیت کرانے کے بارے میں بھی فکر مند رہتے ہیں- اے کاش! ہمارے والدین اپنے بچوں کے معنوی اور تربیتی پہلو پر بھی تھوڑی توجہ دیتے تو نہ سرفہ رنگا کا پروگرام کامیاب ہوتا اور نہ ہی ہمارے معاشرے میں بے پردگی اور غیر اخلاقی حرکتیں کرنے کی کسی میں جرات پیدا ہوتی- اہلیان بلتستان کو بیدار رہنا چاہیے کہ سرفہ رنگا کا مخلوط ڈانس پروگرام بے حیائی آپ کے معاشرے میں پھیلانے کا آغاز ہے، اگر آپ اپنے بچوں کی فکری تربیت کے لئے سرجوڑ کر کوئی لائحہ عمل طے نہیں کریں گے آپ بے حیائی کی اس وبا کو روک نہیں سکیں گے-
امام سجاد علیہ السلام اولاد کے حقوق اور انکی ذمہ داریوں کے بارے میں اس طرح فرماتے ہیں :
اولاد کا حق یہ ہے کہ آپ کو توجہ کرنی چاہیے کہ وہ آپ کے ٹکڑے ہیں ۔ اولاد میں جو بھی خوبی یا بدی ہو لیکن اسکی نسبت باپ کی طرف ہوتی ہے۔ آپ اسکے ادب ، اللہ کی معرفت، عبادت اور دینی مسائل کے بارے میں مسئول ہیں اور اسکے عوض میں جزا و سزا کے مستحق ہیں ۔ پس اولاد کی ایسی تربیت کرو کہ دنیوی زندگی میں تمہارے لیے مایۂ افتخار و شرافت و زینت ہوں اور آخرت میں خدا کے سامنے شرمندگی کا باعث نہ ہوں

تحریر :محمد حسن جمالی

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*