تازہ ترین

موسمیاتی تبدیلی(Climate Change)

گزشتہ سال موسمیاتی تبدیلی پر نظر رکھنے والے ایک ادارے جرمن واچ نے موسمیاتی تبدیلوں کی وجہ سے ہونے والی جانی ومالی نقصانات کے لحاظ سے ملکوں کی فہرست جاری کی ۔اس گلوبل کلائمیٹ رسک انڈیکس2017 کے مطابق پاکستان ساتواں بڑا ملک ہے جو 1996سے2015تک موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے جانی ومالی نقصانات سے دوچار ہوا۔ سائنسدانوں کا مانناہے کہ1950کے بعد سے جس تیزی سے ہمارے زمین کے کراہ ہواAtmosphere)) میں

  Atmospheric Carbon Dioxide (CO2) کی مقدامیں اضافہ ہوا ہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھاگیا جس کی وجہ سے زمین کی سطح گرم اور موسمیاتی تبدیلیاں رونماہورہی ہے۔ہماری زمین اور دیگر سیاروں کو بھی مختلف گیسس حلقہ بنائے گھیرے رکھتی ہے گیسوں کے اس مجموعے کو کراہ ہواکہتے ہے۔کراہ ہوامختلف گیسس جیسے CarbonDioxide(CO2),Methane(CH4),  Water Vapor(H2O)Nitous Oxide(N2O) پر مشتمل ہوتی ہے گیسس کے اس مجموعے کو گرین ہاؤس گیسس بھی کہا جاتاہے ہماری زمین اپنی تمام تر توانائی سورج سے حاصل کرتی ہے سورج سے جو توانائی ہماری زمین کی طرف آتی ہے یہ توانائی پہلے کراہ ہوامیں داخل ہوتی ہے کراہ ہوامیں موجود مختلف گیسس توانائی کے زیادہ تر حصے کوزمین کی سطح تک پہنچنے سے روک دیتی ہے اور اس توانائی کو اپنے اندر جذب کرلیتی ہے اور توانائی کا کچھ حصہ زمین کی سطح تک بھی پہنچ جاتی ہے زمین ایک خاص وقفے کے بعد سورج سے حاصل ہونے والی توانائی کو سیاروں کی طرف اخراج کرنا شروع کر دیتی ہے زمین کی سطح سے نکلنے کے بعد یہ توانائی گرین ہاؤس گیسس میں پھنس جاتی ہے جس کی وجہ سے زمین کی سطح گرم ہوجاتی ہے اس سارے عمل کو گرین ہاؤس ایفیکٹ کہتے ہے زمین کے کراہ ہوامیں گرین ہاؤس گیسس اور گرین ہاؤس ایفیکٹ ایک خاص حد تک ہے جس کی وجہ سے زمین میں انسانوں،جانوروں اور درختوں کا زندہ رہنا ممکن ہے۔ا گرگرین ہاؤس گیسس اور گرین ہاؤس ایفیکٹ ضرورت سے زیادہ یا کم ہو جائے ایسی دونوں صورتوں میں وہاں انسانو ں،جانوروں اور درختوں کا زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ہماری زمین کے علاوہ مریخ کے گرد بھی (Atmosphere)موجود ہے لیکن مریخ کا کراہ ہوا نہایت باریک ہے اورناہی  مریخ کے کراہ ہواپر گرین ہاؤس ایفیکٹ عمل میں آتاہے جس کی وجہ سے مریخ کی سطح کافی سرد اور مریخ پر انسانی زندگی کا ہونا ناممکن ہے اس کے برعکس سیارہ زھرہ کے کراہ ہوامیں زمین  اور مریخ دونوں کے مجموعی مقدار سے 300 گنا زیادہ Carbon Dioxide موجودہے اور سیارہ زھرہ میں گرین ہاؤس ایفیکٹ حدسے زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سیارہ زھر ہ بہت زیادہ گرم ہے اور زھرہ پر بھی انسانی زندگی کاہونا ممکن نہیں۔اکثرماحولیاتی سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کی وجہ گرین ہاؤس ایفیکٹ اور گرین ہاؤس گیسس میں اضافہ ہے۔سائنسدانوں کے مطابق گرین ہاؤس گیسس میں اضافہ کی وجہ   Fossil Fuel،تیل،کوئلہ اورصنعتوں سے خارج ہونے والی گیسس  ہے۔تحقیق دانوں کا مانناہے کہ  %95  امکان ہے کہ انسانوں کی پیداکردہ گرین ہاؤس گیسس

    Carbon Dioxide, Methane, Nitrous oxide اصل وجہ ہے زمین کی درجہ حرارت میں اضافے کی۔موسمیاتی تبدیلی سے جو تبدیلیاں ہماری زمین پر رونما ہو رہی ہے ان میں سمندر کی سطح میں اضافہ،  گرمی کی لہر،گلیشیر کاپگھلنااورشدیدموسمیاتی تبدیلیاں شامل ہے۔ حالیہ برسوں میں جس شدد نوعیت کی گرمی کی لہروں کاآغازہواہے یہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔ سال 2015میں آنے والی شددگرمی کی لہروں نے جس طرح پاکستان کے ہمسایہ ملک بھارت کو متاثر کیا اس کی مثال اس سے پہلے کبھی نہیں ملتی ہے تقریبا 2500افراد شددگرمی کی لہروں کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔سال 2015میں گرمی کی لہروں نے پاکستانی شہریوں کو بھی کافی حد تک متاثر کیا۔گزشتہ سال بھی گرمی کی لہروں نے شہریوں کو متاثر اور تکالیف سے دوچار کیا۔زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کی وجہ سے تقریبا دنیا کے تمام بلند وبالا پہاڑی سلسلوں پر گلیشیرپگھلنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ان پہاڑی سلسلوں میں ہمالیہ،افریقہ،Alps،Andes,Rockies,، Alaska کے پہاڑی سلسلے شامل ہے۔اس کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے شدید تبدیلی دیکھی جارہی ہے شدید ہواؤں کا چلنا،طوفانوں کا آنا،گرمی کی لہریں، خشک سالی اور ان جیسے دیگر کئی شدید تبدیلیاں ریکارڈ کی جارہی ہے۔ان تبدیلیاں کی وجہ سے ناقابل تلافی جانی ومالی نقصانات کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔ ماہرین کا کہنا ہے موسمیاتی تبدیل کی روک تھام کے لیے ضروری ہے کہ انسانی پیدا کردہ گرین ہاؤس گیسس کو کم کیا جائے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام ممالک مل کر کام کرئے اور گرین ہاؤس گیسس کو کم کرنے کے لیے گرین ہاؤس گیسس کے زرائع پر قابو پائے تاکہ موسمیاتی تبدیل کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاری اور انسانی جانی ضیاع کا روک تھام ہوسکے۔

تحریر :  ذوالفقار علی احسان

  •  
  • 1
  •  
  •  
  •  
  •  
    1
    Share

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*