تازہ ترین

6ستمبر یوم دفاع کے موقع پر گیاری سیکٹر میں شہید ہونے والے این ایل آئی کے جوان پر خصوصی رپورٹ۔

چلاس( خصوصی بیورو ر رپورٹ)6ستمبر یوم دفاع کے موقع پر گیاری سیکٹر میں شہید ہونے والے این ایل آئی جوان پر خصوصی رپورٹ۔
ہم سرد ہوا کے باسی ہیں
ہم شہید ہیں ہم غازی ہیں۔
جب برف سے اٹھائے جائیں گے
ہم جلدی ملنے آئیں گے
سیاچن دنیا کا بلند ترین محاز جنگ ،رگوں میں خون جمادینے والی سردی مگرپاک فوج کے جوانوں کا خون کو گرمانے والا جوش و جذبہ،6 سال پہلے گیاری میں عزم اور حوصلے کا نیا باب رقم کیا گیا۔2012میں 7 اپریل کا دن سانحہ بن کر طلوع ہوا ۔گیاری سیکٹر میں ناردرن لائٹ انفنٹری کی بٹالین، ہیڈ کوارٹر پر برفانی تودہ آگرہ، پاک فوج کے 140 آفسر اور جوان برف کے تودے تلے دب گئے ۔اس المناک حادثے میں لائنس نائیک شرافت الدین شہید نے بھی جام شہادت نوش کر گئے ۔لائنس نائیک شہید شرافت الدین کا تعلق ضلع دیامر کی تحصیل چلاس کے نواحی گاوں تھک کوٹ سے تھا، شہید شرافت الدین کے والد نے 1965 کی پاک بھارت جنگ لڑی اور اس کے ایک چچا نے کرگل کی جنگ میں شہادت کا رتبہ حاصل کیا، شہید کے خاندان کا ملک و ملت سے بے پناہ محبت اور شہید شرافت کی بچپن سے پاک فوج میں بھرتی ہونے کا شوق اور لگاو کی وجہ سے وہ 2000کی دہائی میں پاک فوج میں بھرتی ہوئے ، اور ملک کے مختلف حصوں اور محاذوں میں دفاع وطن کیلئے خدمات انجام دیتے رہے ۔یکم مارچ 2012 کو جب شہید شرافت الدین کی گلگت بونجی فوجی ہیڈ کوارٹرسے سیاچن گیاری سیکٹر پوسٹنگ ہوئی تو، ان دنوں شہید شرافت الدین بیمار تھے ، جب پوسٹنگ کی اطلاع ملی تو شہید شرافت الدین بستر پر تھے ، فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور گھر والوں سے رخصتی لیکر سیاچن کی طرف رخت سفر باندھ لیا۔پوسٹنگ کی ٹھیک ایک ماہ کچھ دن بعد سیاچن گیاری سیکٹر میں فرائض کی انجام دہی کے دوران برفانی تودہ گرنے کے باعث وطن پر قربان ہوگئے اور جام شہادت نوش کر گئے ۔شہید شرافت کے چار بچے اور 7 بھائی ہیں، جو ملک و ملت کی بقا اور سلامتی کیلئے پاک فوج میں بھرتی ہونے کی خوائش رکھتے ہیں اور وہ بھی اپنے شہید بھائی کی طرح وطن کی مٹی پر قربان ہونے کیلئے تیار ہیں۔شہید شرافت الدین کے بھائیوں اور رشتہ داروں کا کہنہ ہے کہ انہیں اپنے بھائی کی شہادت پر فخر ہے اور وطن کی بقا اور سربلندی کیلئے مزید قربانی دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔شہید شرافت الدین کے رشتہ داروں نے آرمی چیف اور وزیر اعلی گلگت بلتستان سے مطالبہ کیا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے شہدائے گیاری کے لواحقین کیلئے ایک ایک ملازمت دینے کے وعدے پر عملی جامہ پہنایا جائے ۔

  •  
  • 8
  •  
  •  
  •  
  •  
    8
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*