تازہ ترین

6 ستمبر ،قوم کے عزم وہمت کا دن!

انسانی تاریخ میں کچھ لمحات وواقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں قوموں کی کامیابیاں مضمر ہوتی ہیں۔ 6ستمبر 1965ء کا دن بظاہر تو پاکستان کے لیے ایک بڑی آزمائش اور امتحان کا دن تھا، مگر ملت کے سرفروش ، باہمت ، غیور اور بہادر جوانوں کے عزم وہمت نے یہ دن رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کےلیے روشن وتابناک مثال بنادیا۔ یہ پاکستان کاعین شباب تھا۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے تھے۔ اس کی مسلسل ترقی دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی ۔ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب دشمن نے ملک کے مختلف محاذ سے پاکستان پر غیر اعلانیہ حملہ کردیا۔ دشمن کا خیال تھا ابھی پاکستان کے پاس اتنی فوجی تعداد بھی نہیں اور یہ کمزور ملک ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ نے تو کہ دیاتھا ہمارا  اگلی صبح کا ناشتہ لاہور میں ہوگا۔ مگر خدا اور خداکے رسولﷺ پر مکمل ایمان سے سرشار فوجی جوانوں کی ہر محاذ پر نعرہ تکبیر کے ساتھ چلائی ہوئی ایک ایک گولی سنکڑوں دشمن کو نشانہ بناتی تھی اور انہیں الٹے پیر بھاگنے پر مجبور کردیتی تھی۔ دشمن کو کھیم کرن کا محاذ،چونڈہ کا محاذ،چھمب جھوڑیاں کا محاذ، واہگہ باڈر، سیاچن اور کرگل یعنی کہ ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت نے سیالکوٹ کے محاذ پر دنیا کے سب سے بڑے ٹینکوں کے ساتھ حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جو پاک فوج کے نڈر اور بہادر سپاہیوں نے ناکام بنادیا۔ پاک فوج نے بھارتی فوج کو پسپاکردیا۔اس سانحے میں ملک کا ہر مردو زن ، جوان بوڑھے سب پاک فوج کے بہادر جوانوں کے شانہ بہ شانہ شریک تھے۔  میں یہاں پر ایک ایسے غیر معروف قومی ہیرو  کے حالات کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو فوج میں تو نہیں تھے لیکن وطن کی محبت میں انہوں نے 65ء کی جنگ میں فوجی جوانوں کے برابر جنگ میں حصہ لیا اوروطن کی خاطر لازوال قربانی دی۔ والدہ اور بہن کو نظروں کے سامنے شہید ہوتےدیکھا۔ بوڑھے باپ کے ساتھ فوجی جوانوں کوپانی اور دیگر ضروری سامان پہنچاتاتھا۔اس شخص کا نام محمد علی ہے ۔ ان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع کھرمنگ باغیجہ سے ہے۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں ایک دعوت پر ان سے ملاقات ہوئی۔ شکل سے معلوم ہوتا تھا بلتی یا گلگتی ہے۔ میں قریب گیا سلام کیا اور تعارف کروانا چاہا ۔ میرے لہجے سے انہوں نے  فوراً اندازہ لگالیا بلتی زبان میں ہی شروعات کی۔ کہتے ہیں میں چھوٹا تھا جب 65ء  کی جنگ ہوئی تھی ۔ مگر میں زندگی کے وہ سیاہ دن بھول نہیں سکتا ۔ دشمن کے جہاز ہمارے علاقے میں گھس آتے اور جہاں آبادی نظر آتی گولے داغتے ۔ بہت سارے مقامی لوگ شھید ہوگئے، لوگوں کے مال مویشی مارے گئے، املاک کو نقصان پہنچایا گیا، مساجد اور عبادت گاہیں تباہ ہوگئیں۔ پاک فوج کی طرف سے ہدایت تھی رات کے وقت گھر میں شمع نہیں جلانی، دن کے وقت مخصوص اوقات میں ہی گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ غیر ضروری نقل و حمل سے اجتناب کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔لوگ زیر زمین بینکرز میں رہتے تھے۔ ایک دن صبح کاوقت تھا میں میری والدہ اور میری چھوٹی بہن بینکر کے منہ  پر کھڑے تھے اچانک  دشمن کا جہاز آیااور  گولہ باری شروع کردی۔ والدہ نے مجھے کندھے سے پکڑا اور بنکر کےاندر دھکیل دیا۔ میں بینکر کے اندر دور جاکر گرپڑا۔ گولے کی آواز آئی بینکر کے اندر دھواں ہی دھواں تھا۔میرے سر اور بازو میں چوٹیں آئی تھیں۔ جب ہوش آیا تو دیکھا والدہ اور میری چھوٹی بہن جنہیں والدہ گود میں اٹھائی ہوئی تھی دونوں شہید ہوچکے تھے۔ میں کبھی والدہ کی لاش  سے لپٹ کرروتا تو کبھی چھوٹی بہن کے سر کو گود میں لےکر روتا۔ معلوم نہیں میں کتنی دفعہ بے ہوش ہو ا۔اسی طرح سارا دن گزرگیا۔ علاقے کے لوگوں کو معلوم ہونے تک  شام ہوچکی تھی ۔ رات کے اندھیرے میں والدہ اور بہن کے جنازے اٹھے اور قریب آبادی میں ہی دفنا دیے گئے۔وہ کہتے ہیں میں نے زندگی میں کربناک دن دیکھے۔ مجھے معلوم نہیں وہ دن آج بھی میرے ذھن سے کیوں نہیں نکلتا ۔والدہ کے  وہ آخری جملے جو انہوں نے مجھے گولوں سے بچانے کے لیے کہے تھے ، آج بھی نہیں بھلا سکا۔ بعد میں 1971ء  کی جنگ میں بھی والد کے ساتھ محاذ پر سامان پہنچاتارہا۔ ایک دن ہم دونوں سامان لے کر جارہے تھے۔ کچھ فوجی جوان بھی ساتھ تھے۔ ایک مقام پر میں پہاڑی کے ساتھ لگائی ہوئی رسی نہ چڑھ سکا۔ ایک فوجی جوان آیا پہلے اس نے  مجھے اپنی پشت پر اٹھا کر اوپر پہنچایا پھر سامان کو اوپر لے آیا۔دن کا وقت تھا اچانک دشمن کی طرف سے گولے آنا شروع ہوگئے۔ ابو نے مجھے ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپادیا۔ایک گولہ قریب پتھر پر لگااور اس کا  ایک حصہ ابو کے پیٹ پر لگا جس سے ابو شدید زحمی ہوگئے۔ خون بہ رہا تھا میں روتا چلاتا رہا فوجی جوان آئے مجھے اور والد کو گاؤں کی طرف لےکے جارہے تھے راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میرے والد  شہید ہوگئے ۔ اس دن کے بعد دل برداشتہ ہوکر علاقے سے نکل پڑا،  اسلام آبادمیں کسی کے گھر کام کرتا رہا ۔ کچھ عرصہ بعد سرکاری  ادارے میں ملازمت ملی ۔ پھر یہیں کا ہوکے رہ گیا۔ سال میں ایک دفعہ والدین کے قبور پر ضرور جاتاہوں۔ محمد علی صاحب اپنا واقعہ سناچکے مگر میں دل میں سوچ رہا تھا جب تک ایسے محب وطن موجود ہیں اس ملک کی طرف دشمن کبھی میلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔

 ہمارے ملک کے عظیم سپوتوں ایم ایم عالم، میجر عزیز بھٹی، راشد منھاس، سپاہی مقبول حسین جیسے سینکڑوں بہادر جوانوں کے جذبے ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔لیکن وطن عزیز میں ایسے بے تحاشا غیور، بہادر اور محب وطن سرفروش موجودہیں جن کے بارے میں  آج بھی ہم نہیں جانتے۔ ہمیں چاہئے  ایسے قومی ہیروں کی زندگی کا مطالعہ کریں اور ان کے کارناموں کو  آئندہ نسلوں تک پہنچائیں۔ ایسےلوگوں  کی تاریخ ہمارا قومی سرمایہ ہے۔ پاکستان زندہ باد۔

تحریر: سیدحسین

  •  
  • 61
  •  
  •  
  •  
  •  
    61
    Shares

About admin

One comment

  1. نسانی تاریخ میں کچھ لمحات وواقعات ایسے ہوتے ہیں جن میں قوموں کی کامیابیاں مضمر ہوتی ہیں۔ 6ستمبر 1965ء کا دن بظاہر تو پاکستان کے لیے ایک بڑی آزمائش اور امتحان کا دن تھا، مگر ملت کے سرفروش ، باہمت ، غیور اور بہادر جوانوں کے عزم وہمت نے یہ دن رہتی دنیا تک آنے والی نسلوں کےلیے روشن وتابناک مثال بنادیا۔ یہ پاکستان کاعین شباب تھا۔ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے اٹھارہ سال ہوگئے تھے۔ اس کی مسلسل ترقی دشمن کی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی ۔ 5 اور 6 ستمبر کی درمیانی شب دشمن نے ملک کے مختلف محاذ سے پاکستان پر غیر اعلانیہ حملہ کردیا۔ دشمن کا خیال تھا ابھی پاکستان کے پاس اتنی فوجی تعداد بھی نہیں اور یہ کمزور ملک ہے۔ بھارتی فوجی سربراہ نے تو کہ دیاتھا ہمارا اگلی صبح کا ناشتہ لاہور میں ہوگا۔ مگر خدا اور خداکے رسولﷺ پر مکمل ایمان سے سرشار فوجی جوانوں کی ہر محاذ پر نعرہ تکبیر کے ساتھ چلائی ہوئی ایک ایک گولی سنکڑوں دشمن کو نشانہ بناتی تھی اور انہیں الٹے پیر بھاگنے پر مجبور کردیتی تھی۔ دشمن کو کھیم کرن کا محاذ،چونڈہ کا محاذ،چھمب جھوڑیاں کا محاذ، واہگہ باڈر، سیاچن اور کرگل یعنی کہ ہر محاذ پر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔بھارت نے سیالکوٹ کے محاذ پر دنیا کے سب سے بڑے ٹینکوں کے ساتھ حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا جو پاک فوج کے نڈر اور بہادر سپاہیوں نے ناکام بنادیا۔ پاک فوج نے بھارتی فوج کو پسپاکردیا۔اس سانحے میں ملک کا ہر مردو زن ، جوان بوڑھے سب پاک فوج کے بہادر جوانوں کے شانہ بہ شانہ شریک تھے۔ میں یہاں پر ایک ایسے غیر معروف قومی ہیرو کے حالات کا ذکر کرنا چاہتاہوں جو فوج میں تو نہیں تھے لیکن وطن کی محبت میں انہوں نے 65ء کی جنگ میں فوجی جوانوں کے برابر جنگ میں حصہ لیا اوروطن کی خاطر لازوال قربانی دی۔ والدہ اور بہن کو نظروں کے سامنے شہید ہوتےدیکھا۔ بوڑھے باپ کے ساتھ فوجی جوانوں کوپانی اور دیگر ضروری سامان پہنچاتاتھا۔اس شخص کا نام محمد علی ہے ۔ ان کا تعلق گلگت بلتستان کے ضلع کھرمنگ باغیجہ سے ہے۔ پچھلے دنوں اسلام آباد میں ایک دعوت پر ان سے ملاقات ہوئی۔ شکل سے معلوم ہوتا تھا بلتی یا گلگتی ہے۔ میں قریب گیا سلام کیا اور تعارف کروانا چاہا ۔ میرے لہجے سے انہوں نے فوراً اندازہ لگالیا بلتی زبان میں ہی شروعات کی۔ کہتے ہیں میں چھوٹا تھا جب 65ء کی جنگ ہوئی تھی ۔ مگر میں زندگی کے وہ سیاہ دن بھول نہیں سکتا ۔ دشمن کے جہاز ہمارے علاقے میں گھس آتے اور جہاں آبادی نظر آتی گولے داغتے ۔ بہت سارے مقامی لوگ شھید ہوگئے، لوگوں کے مال مویشی مارے گئے، املاک کو نقصان پہنچایا گیا، مساجد اور عبادت گاہیں تباہ ہوگئیں۔ پاک فوج کی طرف سے ہدایت تھی رات کے وقت گھر میں شمع نہیں جلانی، دن کے وقت مخصوص اوقات میں ہی گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں۔ غیر ضروری نقل و حمل سے اجتناب کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔لوگ زیر زمین بینکرز میں رہتے تھے۔ ایک دن صبح کاوقت تھا میں میری والدہ اور میری چھوٹی بہن بینکر کے منہ پر کھڑے تھے اچانک دشمن کا جہاز آیااور گولہ باری شروع کردی۔ والدہ نے مجھے کندھے سے پکڑا اور بنکر کےاندر دھکیل دیا۔ میں بینکر کے اندر دور جاکر گرپڑا۔ گولے کی آواز آئی بینکر کے اندر دھواں ہی دھواں تھا۔میرے سر اور بازو میں چوٹیں آئی تھیں۔ جب ہوش آیا تو دیکھا والدہ اور میری چھوٹی بہن جنہیں والدہ گود میں اٹھائی ہوئی تھی دونوں شہید ہوچکے تھے۔ میں کبھی والدہ کی لاش سے لپٹ کرروتا تو کبھی چھوٹی بہن کے سر کو گود میں لےکر روتا۔ معلوم نہیں میں کتنی دفعہ بے ہوش ہو ا۔اسی طرح سارا دن گزرگیا۔ علاقے کے لوگوں کو معلوم ہونے تک شام ہوچکی تھی ۔ رات کے اندھیرے میں والدہ اور بہن کے جنازے اٹھے اور قریب آبادی میں ہی دفنا دیے گئے۔وہ کہتے ہیں میں نے زندگی میں کربناک دن دیکھے۔ مجھے معلوم نہیں وہ دن آج بھی میرے ذھن سے کیوں نہیں نکلتا ۔والدہ کے وہ آخری جملے جو انہوں نے مجھے گولوں سے بچانے کے لیے کہے تھے ، آج بھی نہیں بھلا سکا۔ بعد میں 1971ء کی جنگ میں بھی والد کے ساتھ محاذ پر سامان پہنچاتارہا۔ ایک دن ہم دونوں سامان لے کر جارہے تھے۔ کچھ فوجی جوان بھی ساتھ تھے۔ ایک مقام پر میں پہاڑی کے ساتھ لگائی ہوئی رسی نہ چڑھ سکا۔ ایک فوجی جوان آیا پہلے اس نے مجھے اپنی پشت پر اٹھا کر اوپر پہنچایا پھر سامان کو اوپر لے آیا۔دن کا وقت تھا اچانک دشمن کی طرف سے گولے آنا شروع ہوگئے۔ ابو نے مجھے ایک بڑے پتھر کے نیچے چھپادیا۔ایک گولہ قریب پتھر پر لگااور اس کا ایک حصہ ابو کے پیٹ پر لگا جس سے ابو شدید زحمی ہوگئے۔ خون بہ رہا تھا میں روتا چلاتا رہا فوجی جوان آئے مجھے اور والد کو گاؤں کی طرف لےکے جارہے تھے راستے میں ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے میرے والد شہید ہوگئے ۔ اس دن کے بعد دل برداشتہ ہوکر علاقے سے نکل پڑا، اسلام آبادمیں کسی کے گھر کام کرتا رہا ۔ کچھ عرصہ بعد سرکاری ادارے میں ملازمت ملی ۔ پھر یہیں کا ہوکے رہ گیا۔ سال میں ایک دفعہ والدین کے قبور پر ضرور جاتاہوں۔ محمد علی صاحب اپنا واقعہ سناچکے مگر میں دل میں سوچ رہا تھا جب تک ایسے محب وطن موجود ہیں اس ملک کی طرف دشمن کبھی میلی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔
    ہمارے ملک کے عظیم سپوتوں ایم ایم عالم، میجر عزیز بھٹی، راشد منھاس، سپاہی مقبول حسین جیسے سینکڑوں بہادر جوانوں کے جذبے ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔لیکن وطن عزیز میں ایسے بے تحاشا غیور، بہادر اور محب وطن سرفروش موجودہیں جن کے بارے میں آج بھی ہم نہیں جانتے۔ ہمیں چاہئے ایسے قومی ہیروں کی زندگی کا مطالعہ کریں اور ان کے کارناموں کو آئندہ نسلوں تک پہنچائیں۔ ایسےلوگوں کی تاریخ ہمارا قومی سرمایہ ہے۔ پاکستان زندہ باد۔
    تحریر: سیدحسین
    2
    2
    Shares

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*