تازہ ترین

حقوق گلگت بلتستان کی حصول کیلئے مثبت رویہ اپنانا وقت کی ضرورت۔

اگرچہ گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرومیوں پر نظر دوڑائی جائیں تو حقوق کے حصول کے حوالے سے مثبت رویہ اپنانے کی بات ناممکن سی لگتی ہے ۔ ایک طرف سے ستر سال تک ایک پورے علاقے کو جس منفی انداز میں چلایا گیا اس کے بعد اس انداز کو بدلنے کا مطالبہ وہ بھی مثبت انداز میں ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ محرمیاں ہمیشہ بغاوت کو جنم دیتی ہیں ، بنگلہ دیش کےبعد بلوچستان کا شورش ہمارے سامنے ہے ۔ قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ بلوچستان کے وسائل کو باپ کی جاگیر سمجھ کر جس طرح لوٹا گیا وہ ایک سیاہ باب ہے، سونے پہ سہاگا یہ کہ انہیں خود ان وسائل کے تمام تر فوائد سے محروم رکھا گیا ، بلوچستان سے ایبٹ آباد تک سوئی گیس کی لائن تو بچھائی گئی مگر سوئی خود ان فوائد سے محروم رکھا ،اور یہ محرومی صرف سوئی تک نہیں بلکہ پورے بلوچستان میں پھیلائی گئی۔ آج بلوچستان کے حالات سب کے سامنے ہیں ۔
گلگت بلتستان کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے۔ 1947 میں ڈوگروں سے آزادی کیبعد اس بحث سے قطع نظر کہ کوئی الحاق ہوا یا نیں ، یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ اس بات کو بھی ایک بار نظر انداز کر دیجیئے کہ ہم مسئلہ کشمیر ، یا ریاست کشمیر کا حصہ ہے یا نہیں ۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ گلگت بلتستان پچھلے ستر سالوں سے پاکستان کے زیر انتظام ہے۔ صاف شفاف پانی کا سب سے بڑا ذخیر، معدنیات کا بہت بڑا خزانہ ، سیاحت کے مواقع سے بھرہور خطہ ، پر امن ترین اور قربانی کے جذبے سے سرشار لوگ پاکستان ہی کی حکمرانی میں پچھلے ستر سال سے ایک غلامانہ زندگی بسر کر رہے ہیں ۔ ایسے میں حسب عنوان مضمون کسی مثبت رویے کے تحت گلگت بلتستان کے حقوق کے حصول کی تحریک اگرچہ مضحکہ خیز لگتی ہے ۔ مگر کئی سارے ایسے عوامل موجود ہیں جن کی بناء پر ہمیں اپنی جد وجہد کو ایک مثبت سمت دینا نہ صرف یہ کہ ہمارے اپنے لیئے فائدہ مند ہے بلکہ اس سے قومی حقوق کی جد و جہد بھی آسان ہو جائیگی ۔ موجودہ حالات میں اگر دیکھا جائے تو گلگت بلتستان تعلیمی میدان تیزی سے ترقی کرنے والے علاقوں میں صف اول میں ہے ، یہ کسی پاکستانی حکومت کی مرہون منت نہیں بلکہ وہاں کے لوگوں نے اپنی مدد آُپ کے تحت نجی ادارے کھول کر اپنی تعلیم کو پورے پاکستان کے مقابلے میں لا کھڑا کیا ہے ، یہ گلگت بلتستان کی تاریخ میں تعلیمی مواقع اور شعور کے حوالے سے بہترین دور ہے ، ایسے میں کسی طرح بھی حقوق کے نام پر نوجوانوں کے اندر منفی جذبات ابھار کر علاقے کو کسی غیر کے مفاد کے حصول کیلئے میدان جنگ بنا دینا ہمارے دررخشان مستقبل پر سوالات کھڑے کریں گے ۔ اسی طرح ناکام اور نا اہل حکومتوں کی طرف سے سی پیک میں خاطر خواہ فوائد حاصل کرنے میں ناکامی کے باوجود مجھے امید ہے کہ یہ پروجیکٹ دنیا کی طرح گلگت بلتستان میں بھی ترقی کے دروازے کھولے گا ،اس حوالے سے گلگت بلتستان کو اس کے اندر مواقع تلاش کر کے اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی ضرورت ہے، حالیہ برسوں میں سیاحت کے فروغ سے جس طرح جی بی میں سیاحوں کا سیلاب آیا یہ بھی اپنے اندر کافی حوصلہ افزاء نشانیاں لیکر آیا ہے ،جی بی میں سیاحت ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرنے لگی ہے ، جسے بہتر مںصوبہ بندی اور پالیسی سازی سے عوام کی معاشی حالت بہتر کرنے کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ گلگت بلتستان میں کسی قسم کی بھی گڑ بڑ یہاں کی سیاحت کو تباہ کر سکتی ہے۔ان سب سے بڑھ کر تعلیم کے ساتھ ساتھ جی بی کے نوجوانوں کے اندر اپنے حقوق کی جو آگاہی پیدا ہو رہی ہے اس سے ظاہر ہو رہا ہے کہ ہم ایک پرامن اور شعوری جد و جہد کے ذریعے اگلے چند برسوں میں اپنے تمام تر حقوق کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ ایسے میں ہمارے نوجواںوں کو کسی بھی طرح سے منفی جذبات کے زیراثر استعمال کر کے علاقے کے مفاد کے خلاف کوئی بھی اقدام قوم کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف یو گا۔
گلگت بلتستان اوئیرنیسن فورم نے انہیں باتوں کو مد نظر رکھ کر گلگت بلتستان میں ایک شعوری جد و جہد کی داغ بیل ڈالی ہے ،اس سلسلے میں جی بی کے یوتھ کو آگاہی دینے کے حوالے سے کئی ایک پروگرام منعقد کئیے گیئے ، جس کی بازگشت اب تک سنائی دے رہی ہے۔ ان پروگرامات کے ذریعے جی بی کی یوتھ کو اپنی تاریخ و ثقافت کی گاہی کے ساتھ ساتھ ، گلگت بلتستان کے بڑے سٹیک ہولڈرز کو ایک بیانئیے پر لیکر آنے کے حوالے سے بھی کوششیں ہو رہی ہیں ، جس پر جی بی کی مین سٹریم اور مقامی پارٹیوں اور تنظیموں کی طرف سے مثبت اشارے ملے ہیں ،اس وقت جی بی اوئیرنینس فورم نے اپنا کوئی بیانیہ پیش کرنے کی بجائے ایک قومی بیانے کی تشکیل کیلئے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں جو اب ایک انٹیلیکچول ڈیبیٹ کے فیز میں ہے ، ہمین امید ہے کہ ہماری کوششیں جی بی کی یوتھ کو ایک مثبت اور تعمیری انداز میں جی بی کے حقوق کے حصول کی ایک عملی تحریک کیلئے تیار کرنے میں معاون ثابت ہوں گے ۔
گلگت بلتستان ایک حساس خطہ ہونے کے ناطے اس بات کا قوی امکان موجود ہے کہ یہاں بڑےئ بڑے انٹرنیشنل کھلاڑی اپنا کھیل کھیلنے کی کوشش کریں گے،سی پیک کے تناظر میں روس ، چین ، امریکہ انڈیا کی نظریں اس وقت گلگت بلتستان پر ہیں ، ایسے میں ہمارا ہر قدم صرف اور صرف گلگت بلتستان کیلئے ہی ہونا چاہیئے ، اس بات کو زیر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہے کہ ہم کہیں جانے انجانے میں کسی غیر کا آلہ کار تو نہیں بننے جا رہے ہیں ، کہیں ہمارا کوئی قدم جانے انجانے میں ہماری تحریک کو نقصان تو نہیں پہنچا رہا ہے ، کہیں ہم میں سے ایک آدھ مہروں کی حرکتیں پوری قوم کو ریاست کے سامنے مشکوک ٹہرانے کا باعث تو نہیں بن رہی ہیں ۔ ان سب باتوں کو سامنے رکھ کر ایک باشعور قوم کی طرح ایک عدم تشدد اور پر امن جد و جہد کی راہ اپنا کر اپنے حقوق کی طرف بڑھنا وقت کی ضرورت ہے ۔

تحریر:انجنئیر شبیر حسین

  •  
  • 35
  •  
  •  
  •  
  •  
    35
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*