تازہ ترین

گلگت بلتستان میں شاہی سواری کا بے جا استعمال۔۔۔

گلگت بلتستان کے سرکاری تعلیمی اداروں کے باھر آپ دس منٹ کے لئے کھڑے ہو جائیں یا دفتری اوقات کے بعد کسی بھی کاروباری مرکز کے پارکنگ پر نظردوڑائیں یا پھر ہفتہ اور اتوار کے روز سیاحتی مقامات کی طرف نکلنے والی سڑکوں کا مشاہدہ کریں تو آپ کے منہ سے بے اختیار یہ الفاظ نکلیں گے کہ کون کمبخت کہتا ہے کہ گلگت بلتستان غریب صوبہ ھے لاکھوں روپے مالیت کی چمچماتی سینکڑوں سرکاری گاڑیاں جس شان سے گزرتی ہیں اس طرح کے مناظر آپ کو شائدترقیافتہ ممالک میں بھی دیکھنے کونہ ملیں۔الحمداللہ گلگت بلتستان میں اعلی بیوروکریٹ سے لیکر پٹواری اور کلرک تک، سیاستدانوں سے لیکر ان کے گماشتوں تک لینڈ کروزر سے لیکر وی ایٹ تک کی سرکاری سواری کی سہولت موجود ہے۔انہیں مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ جس طرح سےاور جب چاہیں اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں چاہئے سکول کا پک اینڈ ڈراپ ہو، کھیتوں سے گھاس پھوس اور منڈیوں سے بھیڑ بکریاں لانا مقصود ہو سرکاری سواری ھر دم دستیاب ہے سرکاری اعداوشمار کے مطابق اعلی سرکاری آفسران اور بعض عوامی نمائندے جنہیں عرف عام میں وزیر کے نام سے پکارا اورجانا جاتا ھے کے پاس ایک نہیں دو نہیں تین نہیں بلکہ چار چار اور پانچ پانچ مہنگی ترین گاڑیوں کا ایک پورا ریوڑ ہو تا ہے اس لوہے کے ریوڑ کی دیکھ بال کے لئے سرکاری ڈ رائیوروں کا ایک جتھہ بھی ہمہ وقت تیار نظر آئیگا جیساک سرحد پر دشمن کو نیست و نابود کرنے کے لئے چاق و چوبندفوجی دستہ بیقرار رہتا ھے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق پورے گلگت بلتستان میں سرکاری گاڑیوں کی تعداد دس ہزار سے زائد ہے۔اوران ساری گاڑیوں کا پہیہ چوبیس گھنٹے چلتارہتا ہے۔جب ان گاڑیوں کا پہیہ چلتا ہےتو صاحب بہادر،ڈرائیور،اکاونٹنٹ،کیشیئر،ویلڈر،خرادی،رنگساز،فاضل پرزے بیچنے والا،فلنگ اسٹیشن والا حتی کہ سروس اسٹیشن والے کا بھی آمدنی کا پہیہ اسی تیزی سے گھومتا ہے۔گلگت بلتستان کو وفاقی حکومت ایک خطیر رقم سالانہ بجٹ کی صورت میں فراہم کرتی ہے اس بجٹ کا ایک حصہ گلگت بلتستان کی تعمیروترقی اور ایک حصہ غیرترقیاتی اخراجات مثلا”تنخواہیں،الاونسزاور پینشن کے علاوہ روزمرہ کے حکومتی اخراجات کے لئے مختص کیا جاتا ہے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس غیرترقیاتی بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ ان شاہی سواریوں کی مرمت اور پی او ایل کی مد میں خرچ ہو رہا ہے گلگت بلتستان کے لئے وفاق کی طرف سے بجٹ 19-2018 کےغیرترقیاتی اخراجات کے لئے تئیس ارب کا بجٹ مختص کیا گیا ہے جس میں سے تقریبا”30 فیصد حصہ سرکاری گاڑیوں کی مرمت اور تیل کی مد میں خرچ ہوگا ان گاڑیوں کی مرمت کے نام پر جس طرح لوٹ مار کی جاتی ھے وہ انتہائی شرمناک ھے ایک سرکاری گاڑی کی قیمت اگر پندرہ لاکھ ہے تو سال میں اس کی مرمت اور تیل کی مد میں کم ازکم سات سے آٹھ لاکھ روپے ادھر ادھر کئے جاتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ھے کہ گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت کے ذمہ داروں اور بیورو کریٹس کی زیر استعمال گاڑیوں کا موازنہ وفاقی حکومت کے ذمہ داروں اور بیورو کریٹس کی گاڑیوں سے کرلی جائے تو لگتا ہے کہ وفاق گلگت بلتستان کو نہیں بلکہ گلگت بلتستان وفاق کو بجٹ فراہم کرتا ہے۔گلگت بلتستان گورننس آر‌‌‌‌‌ڈر 2009 کے نفاذ اور اس آرڈر کے تحت ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں اس انتظامی صوبے کے اولین وزیراعلی سید مہدی شاہ نے جب ذمہ داریاں سنبھالی تھیں تو راقم نے پہلی ملاقات میں ان شاہ خرچیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے گذارش کی تھی کہ مہدی سرکار فوری طور پر سرکاری گاڑیوں کی بیجااور غیر ضروری استمعال پر پابندی عائد کرکے بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ بچا سکتی ہے اوراس رقم کو تعلیم اور صحت کے شعبے پر خرچ کرکے عام آدمی کے مشکلات میں کسی حد تک کمی لائی جاسکتی ہے مہدی شاہ صاحب میں ایک خوبی ہے کہ وہ آپ کی بات کو غور سے سنتے ہیں اور کرتے وہی ہیں جو اس کا من کرتا ہے۔ہماری گزارش پر ابتدائی دنوں میں صوبائی حکومت نے غیر ضروری اخراجات میں کمی لانے اور سرکاری گاڑیوں کے غیر ضروری استعمال پر پابندی کا نعرہ تو بلند کیا لیکن چند مہینوں کے بعد مہدی سرکار نے اپنی مدت پوری ہونے تک سرکاری وسائل کا جس طرح بےدریغ استعمال کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔2015 کومہدی حکومت اپنے انجام کو پہنچی تو متوالا وزیراعلی سے عوام نے امیدیں لگائیں جس طرح آجکل عوام کی اکثریت پی ٹی آئی کی حکومت سے لگا بیٹھے ہیں بدقسمتی سےن لیگ کی صوبائی حکومت کے تین سال گزر چکے ہیں لیکن سرکاری گاڑیوں کی غیر قانونی اور بے دریغ استعمال کے حوالے سے بس یہی کہا جاسکتا ہے کہ”وہی ہےچال بے ڈھنگی جو پہلے تھی سو اب بھی ہے”بلکہ ان عیاشیوں میں مہدی شاہ حکومت کی نسبت کم نہیں اضافہ ضرور ہوا ہے۔اب تو الحمداللہ حکومت میں شامل بعض عہدیداروں کے چیلے چانٹے بھی اس بہتی گنگا میں باقاعدگی اور دیدہ دلیری سےنہ صرف ہاتھ بلکہ پاوں بھی دھو رہےہیں۔ اب وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ھی غیرترقیاتی اخراجات میں فوری طور پر کمی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم ہاوس میں موجودہ اسی مہنگی گاڑیوں کو نیلام کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ تمام وفاقی و صوبائی وزراء کو ہدایت کی گئی ھے کہ وہ صرف ایک گاڑی استعمال کرسکتے ہیں بظاہر وفاق ،پنجاب اورکے پی کے میں اس ہدایت پر عملدرآمد بھی ہو تا ہوا نظر آرہا ہے.لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد بہت سارے اختیارات صوبوں کو تفویض کئے گئے ہیں جن کے تحت وفاق صوبوں میں بے جا مداخلت نہیں کرسکتا اور اگر ایک آدھ صوبے میں مخالف پارٹی کی حکومت ہو تو معاملہ مزید گھمبیر ہو جاتا ہے اب سندھ،گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی حکومت نہیں سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ اگر وفاقی سطح پر ایسے اقدامات جن کے اٹھانے سے عام آدمی کو فائدہ پہنچتا ہو اس کے ثمرات اگر دیگر صوبوں کے لوگوں تک نہ پہنچ پائیں تو ان اقدامات کا کیا فائدہ۔یہاں ہم صرف اپنی صوبائی حکومت سے ہی امید کرسکتے ہیں کہ گلگت بلتستان جو شروع سے مالیاتی طور پر وفاق کا دست نگر ہے ان غیر ضروری اخراجات کو کم کرکے ہم اپنے مالی مشکلات کو کسی حد تک کم کرسکتے ہیں وزیراعلی گلگت بلتستان ایک جہاندیدہ سیاستدان ہیں ان مالی مسائل کا بخوبی ادراک رکھتے ہیں اب وفاقی سطح پر غیر ضروری اخراجات کو کم کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں تو صوبائی حکومت کے پاس یہ ایک سنہرا موقع ہے کہ قبل اس کے کہ وفاق ان اقدامات پر عملدرآمد شروع کرے پہل کرکے گلگت بلتستان میں اس سے بڑھ کر غیرضروری اخراجات پر قابو پانے کے لئے جنگی بنیادوں پران اقدامات کو عملی جامہ پہنائے تاکہ وفاق اور دیگر صوبوں کو یہ پیغام جائے کہ گلگت بلتستان کی اولین ترجیح معاشی طور پر ایک مضبوط و مستحکم پاکستان ہے۔

تحریر: محبوب خیام

  •  
  • 13
  •  
  •  
  •  
  •  
    13
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*