تازہ ترین

سوشل میڈیا پر عوام نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کی حمایت میں زبردست کمپئن شروع کردیا۔

گلگت ( ڈسٹرک رپورٹر) 12 اگست کو نجی ٹی وی پر گلگت بلتستان کے حوالے سے خطرناک ہرزہ سرائی کے بعدشدید عوامی احتجاج نےامجد شعیب اور جینل 92 کے اینکر پرسن کو غیرمشروط معافی مانگنے پر مجبور کیا تھا۔ لیکن گزشتہ دنوں اس حوالے سے اُسی چینل پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو خصوصی طور پر صفائی پیش کرنے دعوت دیکر وقت نہ دینے میں سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے غم اور غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ عوامی حلقوں سے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک کمپئن شروع کردی ہے جس میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کو بات مکمل کرنے کا موقع نہ ملنے پر احتجاج کیا جارہا ہے۔اس کمپئن میں وزیر اعلیٰ کے اُس بات کو عوامی حلقوں خاص طور پر وزیر اعلیٰ کے ناقدین کی جانب سے خوب سراہا جارہا ہے جس میں اُنہوں نے کہا تھا کہ۔ گلگت بلتستان ستر سالوں سے بنیادی حقوق سے محروم ہیں اور اس محرومی پر ہماری نئی نسل مایوس ہیں۔ ایسے میں اگر کسی نے دلبرداشتہ ہوکر سخت الفاظ استعمال کرے تو الیکٹرونک میڈیا پر اے سی والے کمروں میں بیٹھے ریٹائرڈ فوجی افسران کو غداری کے سرٹیفیکٹ بانٹنے کا کوئی حق نہیں۔ اُنہوں نے کہا تھا کہ بُرے لوگ فوج میں بھی موجود ہیں اور اگر اس سلسلے کو بند نہیں کیا تو اُن افراد کا گلگت بلتستان میں داخلے پر پابندی بھی لگایا جاسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر اُن کے اس بیان کو خوب سراہا جارہا ہے اور کہا جارہا ہے کہ وزیر اعلیٰ اگر اسی طرح خطے کی ترجمانی کرتے رہیں تو یوتھ اُن کے پیچھے کھڑے ہیں لہذا اُنکو چاہئے کہ گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرمیوں کی خاتمے کیلئے روائتی نعروں سے ہٹ کر اس خطے کی متنازعہ حیثیت اور اس حوالے سے مملکت پاکستان کا بین الاقوامی سطح پر موقف کو سامنے رکھتے ہوئے حقوق کا مطالبہ کریں، آرڈر 2018 کو مسترد کریں ۔ اگر ایسا ہوا تو وزیر اعلیٰ اگلی بار بھی گلگت بلتستان کا حاکم بن سکتا ہے۔

  •  
  • 26
  •  
  •  
  •  
  •  
    26
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*