تازہ ترین

لفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب اور بلتی دہشت گرد ۔۔۔

حالیہ دنوں میں ایک سابق جنرل امجد شعیب کی طرف سے گلگت بلتستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کو “بلتی دپشت گردوں” سے جوڑ کر جس طرح سے ایک علاقے میں طالبانائزیشن سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جسے گلگت بلتستان کے نوجوانوں نے خوب اٹھایا اور جرنل امجد شعیب کو معافی مانگنی پڑی ، مگر معافی مانگنتے مانگتے وہ کافی کچھ اور بھی بول گئے ۔
پہلی بار جب اس نے ٹی وی پر بات کی تو ان کا کہنا تھا گلف میں کام کرنے والے بلتی لوگ انڈیا کیلئے کام کرتے ہیں ، جو انڈیا جاتے ہیں اور وہاں سے برین واش ہو کر آجاتے ہیں ، گلگت بلتستان میں ہونے والے واقعات میں یا تو وہ براہ راست ملوث ہو سکتے ہیں یا پھر وہ سہولت کار ہو سکتے ہیں ، جب دوسری بار اس معاملے پر بات کی تو انہوں نے اس بات پر معذرت کی کہ انہوں نے دہشت گردوں کا نام لینے کی بجائے پوری کمیونٹی کی بات کی ، مگر اس بار انہوں نے اپنی بات کی دلیل کے طور پر امریکہ میں مقیم ایک شخص اور خالد خراسانی کی بات کی ، مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں گلف میں نہیں رہتے ، اس سے یہ بات تو صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ جنرل شعیب نے بغیر کچھ جانے بوجھے بلتیوں پر ایک الزام لگایا ، مگر جب اس پہ آوازیں اٹھیں تو ادھر ادھر اپنی بات کے ثبوت ڈھونڈنے میں لگ گئے ۔ گلف سے تو انہیں کوئی نہ ملا البتہ کسی فیس بک پوسٹس کی بنیاد پر امریکہ میں مقیم ایک شخص کا ذکر انہوں نے ضرور کیا ، ساتھ میں خالد خراسانی کا نام خالد بلتی کہ کر لے لیا ، حالانکہ خالد خراسانی کبھی اپنے آپکو خالد بلتی نہیں کہتا مگر اس جنرل کی ذہنیت کو دیکھیں کہ اس نے اس کے نام کے ساتھ بھی بلتی لگا ہی دیا ، کیونکہ شاید اسے ٹاسک بلتیوں کو بدنام کرنے کا ہی ملا ہوا تھا چاہے جہاں سے بھی ملا ہو، افسوس ناک امر یہ ہے کہ دیامر جیسے واقعات پر ایک بڑے ادارے کے بڑے آفیسر نے کس طرح پورے ملک کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ دیامر میں کچھ علاقوں میں سوات، وزیرستان آپریشن کیبعد بڑی تعداد میں طالبان آگئے ہیں، اس بات سے وہاں کے مقامی پر امن لوگ بھی پریشان ہیں ، جس کا ذکر میں نے اپنے ایک مضمون میں پچھلے دنوں کیا تھا ، مگر ایک حکمت عملی کے تحت جس طرح سے لوگوں کی توجہ طالبان سے ہٹا کر بلتستان والوں پہ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ خطرناک ہے۔ ان باتون سے ایسا لگ رہا ہے کہ کچھ قوتیں دیامر میں موجود طالبان سے زیادہ بلتستان میں نوجوانوں کی طرف سے اپنے حقوق کیلئے اٹھنے والی آوازوں سے خوفزدہ ہیں ، کل ہی میں امجد شعیب کی طرف سے وزیر اعلی جی بی حفیظ الرحمن کے ساتھ اسی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہنا کہ دیامر جرگے کی وساطت سے سکول جلائے جانیوالے کئی ایک دہشت گرد پکڑئے ہیں ، ہمارا سوال یہ ہے امجد شعیب سے کہ آپ بتائیں ان دہشت گردوں میں کتنے ایسے بلتی تھے جو آپ کے بقول گلف میں کام کرتے تھے جو آپ کے بقول ان واقعات میں براہ راست ملوث ہو سکتے تھے یا سہولت کار ہو سکتے تھے؟ ظاہر ہے اس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہو گا ۔ بس اس نے حسب الحکم ایک بات کی اور اب اس کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں ہے ۔
امجد شعیب والے واقعے سے ایک نام ضرور سامنے آیا ہے وہ ہے امریکہ میں مقیم ایک شخص کا ، جو اس کے بقول شگری لکھتا ہے، حالانکہ نہ خالد خراسانی بلتی لکھتاہے اور نہ امریکہ میں مقیم شخص شگری لکھتا ہے ، مگر ظاہر ہے ریتائرڈ فوجی نے ضد اسی خناس کی کرنی ہے جو اس کے دماغ میں گھسا ہوا ہے ۔ بہر حال خالد خرسانی کے بارے میں تو مجھ سے زیادہ امجد شعیب کہ سکتا ہے کیونکہ وہ انہیں کے گود میں پلے ہوئے ہیں ، لیکن امریکہ میں مقیم سنگے حسنین ژھرینگ کے حوالے سے میں اتنا جانتا ہوں کہ وہ ایک سابق بیوروکریٹ کا بیٹا ہے ، پنجاب میں پلا بڑھا ہے اور بلتستان سے اس کا کبھی کوئی تعلق نہیں رہا ہے سوائے اس کے کہ اس کا فیملی بیک گراونڈ بلتستان سے ہے ، وہ امریکہ میں مقیم ہیں اور ہم نہیں سمجھتے کہ وہ کسی طرح بھی بلتی کمیونٹی کی نمائندگی کرتے ہیں ۔ میرا خیال ہے کہ بلتستان میں شاید ایک فیصد لوگ بھی ایسے نہیں ہوں گے جو اس کا نام جانتا ہو۔ ایسے میں اس طرح کے کسی شخص کی حرکتوں کی بنیاد ہر پر امن بلتی کمیونٹی کو بدنام کرنے کی کوشش کرنا ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی ہو سکتی ہے ۔ ایسے لوگ ہماری حقوق کی تحریک کا رخ تو موڑ سکتے ہیں مگر حقوق نہیں دلا سکتے ہیں ، یہ لوگ اسی طرح انڈیا کا جنڈا اٹھانا چاہتے ہیں جس طرح مقبوضہ کشمیر میں کچھ لوگوں نے پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر وہاں کی عوام کی حق خود ارادیت کی تحریک کا بیڑا غرق کردیا تھا۔ لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے کسی شخص کا گلگت بلتستان کے حقوق کی جد و جہد کرنے والوں سے کوئی تعقلق نہیں ہے ، بلکہ گلگت بلتستان کی عوام اور یوتھ پاکستان کے اندر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ایک خود مختار لوکل حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں ، جس سے نہ مسئلہ کشمیر متاثر یو اور نہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی مجبوریاں آڑے آجائیں ، نہ ہماری بین القوامی کمٹمنتس متاثرہوں اور نہ کشمیری برادری کو کوئی اعتراض ہو ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جی بی والوں کے حقوق کی تحریک فیصلہ کن مرحلے تک پہنچ چکی ہے جسے سنگے حسنین یا شعیب امجد جیسے لوگ ڈی ٹریک نہیں کر سکیں گے ، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ چاہے امجد شعیب کی باتیں ہوں یا کسی امریکہ میں مقیم شخص کی سب جی بی کے حقوق کی تحریک کا رخ موڑنا چاہتی ہیں ، لیکن ان شاء اللہ ایہ سب ناکام ہوں گے، اور جی بی یوتھ اپنے حقوق لیکر رہیں گے۔

تحریر: انجنئیر شبیر حسین

  •  
  • 231
  •  
  •  
  •  
  •  
    231
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*