تازہ ترین

گلگت بلتستان میں وفاق کی اسیر سیاست۔

مفادات کے حصول کے لئے سیاسی جماعتیں بدلنے کا رواج تقریبا گلگت بلتستان میں پاکستان کی نسبت کچھ زیادہ ہے۔ گلگت بلتستان میں انتخابات وفاق کیساتھ تو نہیں ہوتے۔البتہ وفاق کی بدلتی ہوئی صورتحال دیکھ کر بہت سارے سیاسی رہنما و کارکنان آپنا سیاسی قبلہ بدلنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے۔ 1994 میں جب محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے دور حکومت میں گلگت بلتستان میں جب پہلی دفعہ جماعتی انتخابات کروائے گئے تو شاید اسوقت عوام کی اکثریت نے وفاق کی حکومت پی۔پی کے ہوتے ہوئے بھی آپنا فیصلہ مذہبی جماعت تحریک جعفریہ کے حق میں دے دیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی وفاق میں حکومت ہوتے ہوئے گلگت بلتستان میں انکے بڑے بڑے برج الٹا دئے گئے تھے۔ شاید اسوقت سادہ لوح عوام نے وفاق کی حکومت کو نظرانداز کرکے مذہبی جماعت کے جذباتی نعروں کو اہمیت دی۔
گلگت بلتستان کے اکثر سیاسی رہنما وفاق میں ہونے والے انتخابات کیساتھ اور اسکے بعد آنے والی برسر اقتدار جماعت میں شمولیت اختیار کرکے سیاسی نرسری میں تقریبا خود کش دھماکے کے مرتکب ہوتے جارہے ہیں۔ گلگت بلتستان میں سیاست اور سیاسی کارکنان ہر پانچ سال بعد دوبارہ ارتقائی مرحلے سے گزرتے ہیں۔ یہاں پر وفاق کی بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھ کر اور آپنے مفادات کے حصول کے لئے تقریبا سیاسی رہنما یہی فیصلہ کرتے ہیں کہ وہ وفاق میں بننے والی حکومت کا ہی حصہ بنیں۔
بلتستان سے تعلق رکھنے والے شاعر مرحوم غلام حسن حسنی صاحب نے مسلم لیگ ق کے دور حکومت میں گلگت بلتستان کے سیاسی رہنماؤں کی بدلتی ہوئی سیاسی وفاداریوں کو سامنے رکھ کر ہی بہت خوبصورت منظر کشی کی تھی۔ جو ہر دور میں جی۔بی کے مفاداتی سیاسی رہنماؤں کی شخصیات پر صادق آتی ہے۔
جاؤں گا اسی رخ پہ کہ جس رخ پہ ہوا ہو
شیوہ مرا ہر دور میں انمول رہا ہے
آئندہ الیکشن میں پرندہ میرا دل کا
جانے کے لیے “ت” میں پر تول رہا ہے۔
غلام حسن حسنی مرحوم نے شاید تب لکھاجب لوٹے “ق” لیگ کے باتھ روموں کی طرف محو پرواز تھے۔ اب “ت” یعنی تحریک انصاف کی تبدیلی کے بظاہر آسیر ہوکر آپنے مفادات کے حصول کے لئے تبدیلی کا محض بہانہ بنا کر آپنے پرانے آیجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں۔گلگت بلتستان میں سیاست کی نرسری کو پروان چڑھانے کے لئے وفاداریاں بدلنے کی روش انتہائی نقصاندہ ہے۔ سیاسی رہنما آپنے حلقے اور علاقے کے سیاسی کارکنان کے لئے رول ماڈل بننے کی کوشش کریں۔ کوشش کریں کہ آپنے ووٹرز اور جی۔بی کے لوگوں کے لئے آپنے نظریات اور آعلی کردار کیوجہ سے مثال قائم کرسکیں۔ وفاداریاں بدلتے بدلتے کچھ لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں۔ اور تقریبا وفاداریاں بدلنے والے رہنماؤں کے حلقے کے لوگ بھی مفاداتی سیاست اور وفاداریاں بدلنے کی سوچ کا پرچار کرتے رہتے ہیں۔ اور ایسی سوچ صحت مند ۔مثبت ۔کردار اور باضمیر سیاست کے نصاب کے لئے نقصاندہ ہے۔سیاسی رہنما و کارکنان کوشش یہ کریں کہ وہ آپنی ذات میں ہی انجمن بن جائیں۔ ادھر ادھر کے سہارے لے کر عوامی مینڈیٹ لینے کی کوشیشں نہ کیا کریں۔ آپنا قبلہ ضمیر کردار اور آعلی اوصاف پیدا کرکے بنائیں۔ وفاداریاں بدلنے اور لوٹا سیاست کو پروان چڑھا کر پورے معاشرے اور سیاست کی وادی میں زلزلہ برپا کرکے دارڑیں نہ ڈالا کریں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیے کہ وہ الیکڑیبلز والی اصطلاح کو پروان چڑھا کر ہر دور میں لوٹا کریسی کی سیاست کے آمین سیاسی رہنماؤں پر دست شفقت نہ رکھا کریں۔ شاید وقتی طور پر یہ جماعتیں فائدہ حاصل کرسکیں۔ لیکن سیاست اور سیاسی کارکنان کو زیرو سٹیج پر لے کر جانے سے ان کارکنان و رہنماؤں کی سیاسی استعداد اور کردار پر دھبہ لگنے سے سیاست مادہ پرستی اور ابن الوقتی۔ ذاتی مفادات کے حصول کا نام بن کر رہ جاتی ہے۔سیاسی جماعتیں نہ جانے کیوں لوٹوں کا ہی سہارا لیتی ہیں۔ وہ کوشش کریں کہ متحرک سیاسی کارکنان کو آگے لائے جو ہر وقت ہر دم سیاست کی پرخار وادی میں آپنے جماعت کے منشور کیساتھ کاربند رہتا ہے۔ گلی محلے اور جلسہ گاہوں میں جھنڈے لگاتا ہے۔ عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کے لئے بحث مباحثے کرکے آپنی جماعت کے لئے راہ ہموار کرنے کی جدوجہد کرتا ہے۔ الیکٹیبلز تو انہی کارکنوں کیوجہ سے بام عروج کو پہنچتا ہے۔ لیکن عین وقت میں متحرک سیاسی کارکنان کو محض اس لئے آگے نہیں لایا جاتا کہ وہ معاشی طور پر کمزور ہے۔ متحرک کارکنان کو عزت دو تو لوٹا کریسی کی سیاست آپنی موت آپ مرے گی۔
2018 میں وفاق میں ہونے والے عام انتخابات میں۔ پیپلز پارٹی کے پرانے جیالے رہنماؤں جن میں ندیم افضل چن۔امتیاز صفدر واڑئچ۔نذر محمد گوندل۔شوکت بسرا۔ اور مسلم لیگی سنئیر رہنما چوہدری نثار علی خان و دیگر وفاداریاں تبدیل کرنے والوں کو عوام نے جسطرح مسترد کردیا۔ وہ ایک واضح پیغام ہے۔ ایسے رہنماء آگر وفاداریاں بدل کر بھی جیت جائیں تو بھی انکے سیاسی کردار پر دھبہ تمام عمر لگا رہتا ہے۔ بلکہ آپنی جماعت اور نظریات کیساتھ کاربند رہ کر شکست کا سامنا بھی ہو تو سیاسی میدان میں سر آٹھا کر چلنا وفاداریاں بدلنے والوں سے ہزار گنا بہتر ہے۔
وفاداریاں بدلنے والے سیاسی رہنماؤں اور سیاسی کارکنان کے نام۔ کچھ ردو بدل کیساتھ۔ شاعر سے معذرت
لوٹا کریسی بھی سیاست تھی
یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔
کئی اہل قلم و دانشوار بھی انکے راستے پر چل نکلے۔
وہ خود خالص جہالت تھی۔
یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔
غریبوں کی بھلا کوئی تقدیر کب بدلتا ہے۔
یہ نعرہ ہی حماقت تھی ۔
یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔
ہم ایسے لوگوں کے پیچھے کیوں چلیں۔
جنہیں عہدوں کی حاجت تھی۔
یہ دل کچھ اور سمجھا تھا۔

تحریر: وزیر نعمان علی

  •  
  • 4
  •  
  •  
  •  
  •  
    4
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*