تازہ ترین

نجی ٹیلی ویژن پر گلگت بلتستان کے خلاف خوفناک ہرزہ سرائی۔

محترم قارئین مملکت پاکستان میں جنرل مشرف کے دور سے جس تیزی کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا نے ترقی کی اور اُس ترقی کے نتیجے میں تجزیات ،صحافت کے نام     پر بے تکے لوگوں کو مدر پدر آزادی ملی ، اوراُس آزادی  کی وجہ سے الیکٹرانک میڈیا ایک منڈی کی شکل اختیار کرگیا ہے ۔ یہاں ریٹنگ اور مفادات کیلئے  کوئی کچھ بھی کرے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ پیمرا کا ادارہ بھی اکثر معاملات میں بلکل ہی بے خبر نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ میڈیا پر بیٹھے لغویات پر مبنی تجزیات کرنے والوں نے پاکستانی عوام کو شدید ذہنی اضطراب میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ یہ بے تکے لوگ اکثر اوقات ایسے موضوعات پر بھی گلے پھاڑ پھاڑ کر تجزئیے پیش کرتے ہیں جس کے بارے میں شاید ہی اُنہوں نے کبھی تحقیق کرنا بھی گوارہ نہ کیاہو ۔ خاص طور پر گلگت بلتستان جیسے پسماندہ ترین علاقے کے بارے میں بات کرنا ہو تو ایسے بیان کررہا ہوتا ہے جیسے یہ لوگ ہر ہفتے 28 ہزار مربع میل خطے میں گھوم پھر کر آتے ہیں اور تجزیات بیان کرتے ہیں۔

بدقسمی کی بات ہے کہ ان اہل بکواسات کواس بات کا بخوبی علم ہے کہ گلگت بلتستان ایک ایسا خطہ ہے جس کے بارے میں ہمارے غلط تجزیے  ہی قانون بن جاتے ہیں ۔ گزشتہ ہفتے نجی ٹیلی ویژن نیو ٹی وی پر افغان امور کے ماہر رحیم اللہ یوسف زئی ،جوآج تک کی عمر میں کبھی گلگت بلتستان گیا ہی نہیں ہوگا ، کو گلگت بلتستان کے مسائل زمینی حقائق کے بارے میں کیسے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن کیونکہ نام بڑا ہے لہذا اُنہیں بھی لاوارث خطے کے بارے میں بولنے کا موقع ملا تو فرماتے ہیں کہ دبئی میں بھارت نے گلگت بلتستان کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا اوراُس سیمینار میں گلگت بلتستان سے بھی لوگ مدعو تھے جنہیں سی پیک کے خلاف سازش کیلئے استعمال کرنا تھا(لیکن ثبوت کوئی نہیں تھے)۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں ریٹنگ کیلئے بھاو لگتا  ہے اور بولنے والا اگر مشہور ہے تو اُنکا جھوٹ بھی سچ مانا جاتا ہے اور خاص طور معاملہ جب گلگت بلتستان کا ہو تو اس قسم کے جھوٹ کی بنیاد پر قوانین وضع کرتے ہیں جس کا ثمرات 150 سے  زیادہ پرُامن شہریوں کا شیڈول فور میں ہونا اور دیامر میں اسکول جلانے والے ایک درجن سے بھی کم لوگوں کا دنددناتے پھرنا ہے۔

محترم قارئین گلگت بلتستان جو کہ پاکستان کے مطابق پاکستان کا آئینی حصہ نہیں بلکہ ریاست جموں کشمیر کا حصہ ہے ،لیکن پاکستان کی  اس مسلسل تکرار کے باجود آج بھی یہاں پاکستان کے اندر ضم ہونے کی تحریک چل رہی  ہے ۔ یہاں کے عوام خود کو قانونی اور آئینی طور پر متنازعہ ہونے کے باجود ستر سالہ محرمیوں اور بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہوتے ہوئے   خود کو  مکمل پاکستانی کہلوانا چاہتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ گلگت بلتستان میں آج تک پاکستان کی ریاست کے خلاف کوئی ایک شخص بھی نظر نہیں آئے گا لیکن گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق اقوام متحدہ میں مملکت پاکستان کی جانب سے تسلیم شدہ حقوق کا مطالبہ کرنا جرم بنتا  جارہا ہے۔یہاں حقوق کیلئے احتجاج کرنے والوں پر سب سے پہلے مسلم لیگ نون کی حکومت کے مقامی اراکین اور گلگت بلتستان کے وزیر اعلیٰ، ڈپٹی اسپیکر قانون ساز اسمبلی اور وزیر تعلیم نے بھارت نواز ہونے کا الزام لگایا۔ جسکا مقصدصرف اور صرف اقتدار کی کرسی کو بچانا تھا ۔سیاسی طور پر نابالغ ان غیرسنجیدہ افراد کو کاش معلوم ہوجاتا  کہ اپنے ہی ہم وطنوں پر غداری جیسے الزامات کا لگانا اس خطے کیلئے کس طرح خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

بحرحال یہاں کے عوام اپنی متنازعہ حیثیت کو بلکل ایک طرف رکھ کر یوم آزادی پاکستان کی تیاریوں میں مصروف تھے گلگت بلتستان کے پہاڑوں کو پاکستانی جھنڈے کی پینٹنگ  سے رنگین کرایا جارہا تھا ہر گلی محلے میں پاکستانی جھنڈے لہرانے کی تیاریاں عروج پر تھے۔لیکن اچانک 12 اگست کو ایک مرتبہ پھر نجی ٹیلی ویژن 92 پر سابق ایم ڈی پی ٹی وی محمد مالک کے پروگرام میں گلگت بلتستان کے عوام پر ضیاالحق کے گود  پالے ایک ریٹائرڈ جنرل نے اپنے گاڈ فادر کی روح کو تسکین پہنچانے کیلئے بلتستان پر گہری ضرب لگائی اور اُنہوں نے بلتستان کے لوگوں کو تحریک طالبان سے بھی خطرناک قرار دیتے ہوئے بالائے عقل تجزیہ   کیا۔پروگرام کے ا ینکر جن کا شمار پاکستان کے ان مخصوص صحافیوں ہوتا ہے جو صحافتی اقدار کو پاؤں تلے روندتے ہوئے ذاتی فائدہ پہنچانے والے موقعوں کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔کاش جنرل شعیب جیسے متعصب تجزیہ نگاروں کو معلوم ہوتا کہ گلگت بلتستان کے 22 لاکھ عوام پاکستان کو اپنا فخر سمجھتے ہیں لیکن آپ جیسے متعصب فوجی اور سول حکمران گلگت بلتستان کو بلوچستان بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ لیفٹنٹ جنرل (ر) امجد شعیب   کاش ایسے من گھڑت تجزیات کرنے سے پہلےیہ احساس کرتے  کہ اس قسم کے منفی اور بچگانہ تجزیات سے متنازعہ گلگت بلتستان کے لاکھوں عوام کی دل آزاری ہوسکتی ہے لیکن افسوس یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ  گلگت بلتستان کے عوام کے احساسات کا قتل عام کیا  گیا ہو۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ گلگت بلتستان کا  احساس محرومی اور حالات کی خرابی میں بھی ایسے ہی کرداروں کا ہاتھ رہا ہے جنہوں نے کبھی گلگت بلتستان کے گراونڈ میں جاکر یہاں کے عوام کی فریاد سُننے کی کوشش نہیں کی بلکہ ٹھنڈ ےکمروں میں بیٹھ کر یہاں کے عوام کی قسمت کے فیصلے لکھتے رہے ۔

افسوس اس بات پر بھی ہے کہ گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت ،دفاعی اور جعرافیائی اہمیت کو پس پشت ڈال کر لیفٹنٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے اپنے بچگانہ تجزیے میں پشتون تحفظ موومنٹ کو بھی گلگت بلتستان سے جوڑنے کی کوشش کی اور خلیجی ممالک میں کام کرنے والے بلتستان کو لوگوں پر سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بلتی بھارت جاکر تربیت اور پیسہ لیکر آئے ہیں اور یہ لوگ بلاواسطہ یا بلواسطہ سی پیک اور دیامر ڈیم پروجیکٹ کو ثبوتاژ  کرنے کیلئے گلگت بلتستان میں حالات خراب کرسکتے ہیں۔ افسوس اس بات پر بھی ہے کہ اس سنگین الزام کاان کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں تھا پھر بھی پروگرام کے پروڈیوسر نے بھی اس سنگین الزام کو سنسنر کرنا گوارہ نہیں کیا۔ اس سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ ملکی میڈیا بھی گلگت بلتستان کے معاملے پر پاکستانی عوام کو گمراہ کرنے میں پیش پیش ہے۔

امجد شعیب کا یہ الزام کوئی نئی بات نہیں اس سے پہلے بھی موصوف گلگت بلتستان میں اینٹی ٹیکس موومنٹ کو بھارت کی ایماء پر احتجاج قرار دے چُکے ہیں ۔ بلتستان سے اُنکی دشمنی بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کیونکہ اُنکے گاڈ فادر جنرل ضیاء نے بھی بلتستان فتح کرنے کی ناکام کوشش کی تھی اگر شعیب امجد جنہیں معلوم ہے کہ بلتستان میں اہل تشیع مکتب فکر کے لوگ آباد ہیں اور انکا تعلق اُس طبقے سے ہے جسے پاکستان میں تکفیری کہتے ہیں۔امجد شعیب  کو گلگت بلتستان کو سی پیک گیٹ وے ہونے کی خبر ہے لیکن شاید ہی اُنہیں معلوم ہو کہ سی پیک میں گلگت بلتستان کا 600 مربع کلومیٹر استعمال ہورہا ہے لیکن گلگت بلتستان کے عوام کے حصے میں دھواں اور ماحولیاتی آلودگی آئی ہے یہاں ایک بھی زون نہیں بنایا گیا ۔ کیا اُنہوں نے کبھی اس معاملے پر کسی ٹاک شو میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا؟ کبھی نہیں۔ سی پیک پر بھارت نے اعتراض کیا تو گلگت بلتستان کے عوام نے بھارت کو للکارا اور حقوق نہ ملنے کے باجود گلگت بلتستان کے معاملے میں دخل اندازی نہ کرنے کی تنبیہ کی لیکن امجد شعیب کو پنجاب میں دندناتے اور ایوانوں میں راء کے سہولت کار نظر نہیں آیا ۔امجد شعیب کو شاید ہی معلوم ہوگا کہ دیامر بھاشا ڈیم کا نام پہلے صرف دیامر ڈیم تھا اور دیامر ڈیم میں پختونخوا نہیں بلکہ گلگت بلتستان ڈوب جائے گا یہاں کی ثقافت، تہذیب کے آثار زیر پانی چلے جائیں گے۔ لیکن بعد میں اس ڈیم کا نام تبدیل کرکے دیامر بھاشا ڈیم رکھ دیا اور انرجی جنریشن کے تما م ٹربائین بھاشاپختونخوا میں لگائے  اور گلگت بلتستان یہاں بھی حقوق سے محروم رہ گیا۔

امجد شعیب کو شاید یہ بھی معلوم ہوگا کہ دنیا کی تاریخ میں گلگت بلتستان واحد خطہ ہے جو قدرتی وسائل اور آبی ذخائر سے مالا مال ہونے کے باجود گزشتہ ستر سالوں سے قومی شناخت سے محروم ہے  اور یہاں کے عوام نیم پاکستانی اور نیم ریاست جموں کشمیر کا باشندہ کہلاتے ہیں اور یہاں حکومت کے نام پر غیرمنتخب غیرمقامی افراد کو عوام پر مسلط کیا جاتا ہے ۔ مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان آرڈر 2018 کو عوامی امنگوں کے برعکس خفیہ طور یہاں مسلط کیا اور سپریم کورٹ نے اس آرڈر کی توثیق کی جس کے خلاف گلگت بلتستان کے عوام اور یہاں کے نمائندے سراپا احتجاج ہیں۔مگر افسوس آپکی نظریں مسائل پر نہیں ۔

امجد شعیب صاحب آپ کے پاس گلگت بلتستان کے حوالے سے معلومات کا خزانہ ہے  تو  یہ بات بھی معلوم ہوگی  کہ گلگت بلتستان میں مناسب تعلیمی نظام نہ ہونے کی وجہ سے ہم میٹرک کے بعد اپنے گھروں کر خیرباد کہہ کرپاکستان کے مختلف شہروں میں بس جاتے ہیں اور محنت مزدوری کے ساتھ تعلیم مکمل کرکے جب روزگار کیلئے اپنے خطے کا رخ کرتے ہیںتو معلوم ہوتا ہے کہ یہاں کے سرکاری محکموں میں مقامی سے ذیادہ پنجاب سے لوگ آئے ہیں اور اس خطے کے کوٹے میں مالی چپراسی کی نوکریاں دی جاتی ہے۔ ایسے میں حصول روزگار کیلئے دنیا بھر کے ملکوں خاص طور پر خلیجی ممالک کا رخ کرکے ملکی اور اپنے خطے کی معیشت کو سہارا دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن آپ نے بدترین معاشی استحصالی اور کرپشن سے متاثر خطے کے اورسیز ورکر ز کے گلے میں بھی غداری کا لاکٹ پہنا دیا۔

امجد شعیب صاحب آپ شائد اس بات سے بھی بخوبی آگاہ ہیں کہ جس قومی اسمبلی اور سنیٹ میں داخلے کیلئے گلگت بلتستان کے عوام گزشتہ ستر سالوں سے راہ دیکھ رہے ہیں اُسی اسمبلی میں ملک کے آئینی شہریوں اور عوامی نمائندوں نے پاکستان مخالف تقریر کیا ، مولانا فضل الرحمن کو اس بار عہدہ نہ ملنے پر یوم آزادی نہ منانے کا اعلان کیا۔ لیکن دوسری طرف گلگت بلتستان کے جوان سوات سے لیکر جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپ ہی کے گاڈ فادر ضیاالحق کا تخلیق کردہ طالبان کے خلاف پاکستان بچانے کیلئے جان قربان کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔امجد شعیب صاحب آپ شائد اس بات سے بھی بخوبی  آگاہ ہونگے کہ معرکہ کرگل میں گلگت بلتستان کے جوانوں کو مجاہدین کی وردی پہنا کر جنگی محاذپر پاکستان کے  دفاع کرنے کیلئے کہا گیا تو سرتسلیم خم کیا، کارگل کے پہاڑوں پر  آج بھی شہدوں کی ہڈیاں شناخت کیلئے پُکار رہی  ہیں۔ لیکن آپ نے بلتستان پر الزام لگا کر اُن شہیدوں کے خون کے ساتھ غداری کی۔آپ کوشائد ہی معلوم ہوگا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں صورت حال یہ ہے کہ سوشل میڈیا میں سٹیٹس اپ ڈیٹ کریں اور کسی کو پسند نہ آئے تو ایکشن پلان کا ڈنڈا چل جاتا ہے یا پھر فورتھ شیڈول نامی کالے قانون کے ذریعے پابندکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اب اگر محمد مالک کی بات کریں تو اُنہوں نے مسکراہٹ کے ساتھ فرمایا کہ گلگت بلتستان کو آغا خان اسٹیٹ بنانے کی تیاریاں ہورہی ہے۔

جناب مالک صاحب آپکو چونکہ گلگت بلتستان کے بارے میں الف اور ب بھی معلوم نہیں لہذا عرض کروں گا کہ گلگت بلتستان کی تعمیر ترقی میں آغاخان فاونڈیشن کا جو مثبت کردار ماضی سے لیکر آج تک رہا ہے اُس سے آپ نالاں نظر آتے ہیں  ۔کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ بھی امجد شعیب کی طرح گلگت بلتستان فتح کرنے کی ذہنیت رکھتے ہیں اگر ایسا   نہیں ہے  تو آپ اسماعیلی مکتب فکر کا دوسرے مسالک سے لڑانے کی ناکام کوشش کرتے وقت ہزار بار سوچتے۔ مالک صاحب گلگت بلتستان کی تعریف آغا فاونڈیشن بغیر مکمل نہیں پرنس کریم آغا خان کو اللہ اپنی حفاظت میں رکھے جنہوں نے گلگت بلتستان میں بالا کسی مسلکی اور علاقائی اختلاف کے خوب خدمت کی ہے ۔ہمیں معلوم ہےگلگت بلتستان کے عوام جب کبھی حقوق کیلئے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں تو آپ جیسے کردار بڑی  اسکرین پر بیٹھے منفی پروپیگنڈے کرکے مفادات حاصل کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں تو برائے مہربانی اپنے ٹاک شو  میں گلگت بلتستان کے اس اہم قومی ایشو کو بھی زیر بحث لائیں کہ جب ہم آئینی صوبے کا مطالبہ کرتے ہیں تو جواب ملتا ہے کہ مسلہ کشمیر کی حل تک ایسا ممکن نہیں لیکن جب گلگت بلتستان کے عوام متنازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق مانگیں تو ماحول خراب کیا جاتا ہے۔ہمیں یہ بھی بتائیں کہ گلگت بلتستان کی حیثیت اگر ریاست جموں کشمیر کے دیگر اکائیوں کی طرح متنازعہ ہے تو یہاں سٹیٹ سبجیکٹ کی خلاف ورزی کیوں ہورہا ہے، عوامی املاک کا خالصہ سرکار( سکھا شاہی) کا نام دیکر کیوں لوٹا جارہا ہے،اس خطے کے عوام آج بھی تعلیم صحت دیگر انسانی ضروریات سے محروم کیوں ہیں۔ شائد ہی آپ میں سے کسی کے پاس جواب ہوگا۔

اس متنازعہ پروگرام کے بعد گلگت بلتستان کے عوام نے آرمی چیف کی طرف دیکھنا شروع کیا ہے سوشل میڈیا پر اس حوالے سے شدید غم و غصہ  ہے عوامی سطح پر احتجاج کی تیاریاں بھی ہورہی ہیں ۔ ۔لہذا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ صاحب سے گزارش کروں گا کہ اس خوفناک الزام کی تحقیق کریں اور الزام لگانے والوں سے مکمل ثبوت مانگیں اور اگر کوئی اس طرح کے معاملات میں ملوث ہے تو عوام کے سامنے لائے جائیں ۔ ورنہ گلگت بلتستان کے عوام سے معافی مانگیں اور اس قسم کے افراد کو منہ کو مستقبل کیلئے لگام دیں۔

تحریر: شیرعلی انجم

  •  
  • 97
  •  
  •  
  •  
  •  
    97
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*