تازہ ترین

کپتان نے میدان مار لیا،پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوگئے۔ پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسد قیصر جبکہ اپوزیشن اتحاد کی جانب سے سید خورشید شاہ کو اسپیکر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔اسد قیصر نے 176 اور خورشید شاہ نے 146 ووٹ حاصل کیے۔پول کیے گئے 330 میں سے 322 ووٹ منظور جبکہ 8 مسترد ہوئے۔ایاز صادق نے اسد قیصر سے اسپیکر قومی اسمبلی کا حلف لیا، ،ی ٹی آئی کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے لیے قاسم سوری اور متحدہ اپوزیشن کی جانب سے سعد محمود کو نامزد کیا گیا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر اراکین اسمبلی ایوان میں موجود ہیں۔اجلاس کے آغاز پر 5 منتخب اراکین قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا، جو کسی وجہ سے 13 اگست کو حلف نہیں اٹھاسکے تھے۔ علاوہ ازیں سپیکر کے انتخاب کے بعد قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کے دوران مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے ارکان ایک دوسرے کے آمنے سامنے آگئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران جیسے ہی سردار ایاز صادق نے نئے اسپیکر اسد قیصر کی کامیابی کا اعلان کیا تو مسلم لیگ ن کی جانب سے احتجاج شروع ہوگیا۔ نواز شریف کی تصاویر اٹھائے ن لیگی اراکین اسپیکر کے ڈائس کے سامنے آکر ووٹ کو عزت دو اور جعلی مینڈیٹ نا منظور کے نعرے لگانے لگے۔ مسلم لیگ ن کی جانب سے رانا ثنا اللہ، شیزہ فاطمہ اور مریم اورنگزیب احتجاج میں پیش تھیں، مسلم لیگ ن کے ارکان کے نعروں ہی کی گونج میں سپیکر نے اپنے عہدے کا حلف لیا۔ اس دوران تحریک انصاف کے رکن بھی میدان میں آگئے جب کہ پی ٹی آئی کے عامر لیاقت احتجاجی ارکان کے درمیان بیچ بچائو کراتے رہے۔ حالات کو دیکھتے ہوئے اسپیکر نے ایوان کی کارروائی کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا، دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں لاتعلق ہوکر بیٹھے رہے جب کہ آصف علی زرداری احتجاج کو دیکھ کر ایوان سے باہر چلے گئے۔ سابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اجلاس کے دوران کہا کہ الیکشن میں الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور ہم بھی کمیشن کا درست انتخاب نہیں کرسکے۔ اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاکہ ایسے الفاظ کبھی استعمال نہیں کروں گا جس سے آپ کی یا سپیکر کے عہدے کی تضحیک ہو، مجھ پر جعلی سپیکر کے جملے کسے گئے جنہیں میں نے خنداں پیشانی سے برداشت کیے، میں آپ کو نام لے کر نہیں پکاروں گا اور آپ کو جناب سپیکر کہوں گا۔ جب پارلیمنٹ کو چور کہا گیا تو مجھ سمیت تمام ارکان کے دل دکھے، مجھ سے کہا گیا کہ میرا جھکائو اپوزیشن کی طرف بہت زیادہ ہے۔ پیپلزپارٹی نے 2014 کے دھرنوں اور ستعفوں میں مشکل وقت میں ساتھ دیا، مشکل وقت میں خورشید شاہ نے میرا ساتھ دیا جو قابل تعریف ہے، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ استعفے یہاں منظور نہیں ہوئے، شاہ محمود قریشی سے کہا کہ میرے چیمبر میں آئیں تاکہ استعفوں کا فیصلہ ہوسکے۔ انہوں نے کہا مناسب نہیں تھا کہ ڈیڑھ سو لوگ بیٹھ کر ان کے استعفوں کا فیصلہ کریں جو لاکھوں لوگوں کے ووٹ سے آئے تھے، ممبر کی غیرحاضری پر ڈی سیٹ کرنے کا قانون تبدیل ہونا چاہیے۔الیکشن ایکٹ 2017 میں بہت محنت کی گئی، الیکشن ایکٹ میں اتنے اختیارات دیئے گئے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھے لیکن الیکشن میں الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اور ہم بھی کمیشن کا درست انتخاب نہیں کرسکے۔ ایاز صادق نے سوال اٹھایا کہ ریٹرننگ افسران کی ٹرینگ کس کی ذمہ داری تھی؟ یہ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، افسران کی ٹریننگ نہیں کی گئی تو 20 ارب روپے کس چیز کے لیے گئے تھے؟ سابق اسپیکر کی تقریر کے دوران جب نومنتخب اسپیکر نے ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کا یاد دلایا تو ایاز صادق نے کہا کہ میں بھی سمجھتا ہوں کہ چھ سات بجے تک انتخاب کے نتائج آنے چاہیے، رات دیر اور دوسرے دن نہیں۔ اس موقع پر ایاز صادق نے تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری پر ہلکے پھلکے مذاق میں جملے بازی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ شیریں مزاری ان گائیڈیڈ میزائل ہیں جو اپنے اوپر گریں گی، میری خواہش تھی کہ شیریں مزاری اسپیکر ہوں اور میں پھر وہی کروں جو وہ کرتی تھیں جب کہ شیریں مزاری حکومتی بینچ میں نہیں اپوزیشن میں بہتر کردار ادا کرسکتی ہیں۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*