تازہ ترین

تحریک طالبان سے بھی زیادہ خطرناک لوگ ۔۔

گلگت بلتستان والو!
تم نے 1947، 48 میں اپنی مدد آپ کے تحت آزادی کی جنگ لڑ کر ڈوگروں سے آزادی لے کر خود کو پاکستان کی جھولی میں رکھ دیا اور تم نے فرط محبت میں یہ تک نہیں کہا کہ اسے اپنی سرزمین پر کم از کم دیگر صوبوں جتنا حق خود ارادیت چاہیے۔
تم نے1988 کی فوجی لشکر کشی میں 700 بے گناہوں کو مروایا اور “قومی مفاد” کی خاطر کبھی منہ نہیں کھولا
سرحدی علاقہ ہونے کے باعث 48، 65، 71، 98 کی جنگوں میں ہزاروں فوجی و سول جوانوں کو مروایا، ہزاروں بے گھر ہوئے اور آج بھی دربدر پھر رہے ہو۔ اس لیے خاموش رہے کہ کہیں قومی خزانے پر سرحدی مہاجرین کی آباد کاری کے باعث خرچے کا بوجھ نہ پڑے۔ 98 میں کرگل محاذ پر مارے جانے والے پانچ سو لوگوں کی لاشیں بھی نہ لے سکے اور تم “قومی وقار” کی خاطر لب کشائی نہ کر سکے۔
سندھ، پنجاب اور آزاد کشمیر میں انڈیا سے ملنے والی تمام سرحدوں پر پاک بھارت تجارت بھی ہوتی اور عام سفر اور خاندانوں میں ملاقاتیں بھی، مگر بلتستان کے کھرمنگ اور چھوربٹ سرحد پر باہم بٹنے والے ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر دونوں طرف آباد سینکڑوں خاندان ایک دوسرے کو ملنے کے لیے ڈھائی ہزار کلومیٹر طے کر کے ہی مل سکتے ہیں وہ بھی دونوں طرف کی سرکار نے “جاسوس” قرار نہ دیا تو، مگر تم نے کبھی مڑ کر نہیں پوچھا کہ کشمیری، پنجابی اور سندھی اگر سرحد پار اپنے بچھڑے پیاروں سے مل کر “جاسوس” نہیں بنتے اور تجارت کر کے غدار نہیں ٹھہرتے تو صرف بلتستان والے ہی کیوں ایسا ٹھہرتے ہیں۔ تم نے یہاں بھی یہی سوچ لیا کہ شاید اس میں بھی کوئی قومی مفاد مضمر ہو گا یوں ستر سال سے ملاقات و تجارت کے لیے بلتستان اور کرگل کی روایتی سڑکیں کھولنے کا مطالبہ نہیں کیا۔
2001 سے 2018 تک ملک کی ہر داخلی اور سرحدی محاذ پر ہزاروں فوجی، پولیس اور سول افراد کی قربانی دی پاکستان کا ایک بھی شاید شہر نہیں جہاں تمہارا خون بے دتیغ نہیں بہایا گیا اور تم “قومی سلامتی” کے لیے سر جھکائے خاموش رہے۔
تمہیں ہر بنیادی حقوق سے محروم رکھنے کے باوجود تم نے اپنی آبادیاں، زندگیاں ویران و برباد کر کے قبرستانیں آباد کر کے ان پر پاکستان کے جھنڈے لہرا دیے۔
70 سالوں میں بنیادی آئینی حقوق سے محروم رکھا گیا، پارلیمنٹ، سینیٹ، سپریم کورٹ کے دروازے دیکھنے کا بھی تمہیں حق نہیں دیا گیا اور تم “جذبہ حب الوطنی” کے تحت ترانوں پر جھومتے رہے۔
تمہاری 73،000 مربع کلومٹر کی سرزمین پر سرکاری ادارے جب چاہیں جہاں چاہیں قبضے کرتے گئے، ان کا معاوضہ تک نہیں دیا گیا مگر تم نے اپنی حق ملکیت کا دعوی تک نہیں کیا۔
دیوسائی، گلیشرز، کے ٹو، دریائے سندھ، صدیوں پرانے تاریخی آثار، ثقافتی ورثے، قدرتی وسائل اور سیاحتی مناظر ، پانی کے ذخائر اور معدنیات کے خزانوں پر دعوی کیا گیا مگر تم نے اپنی شرافت کے مارے منہ کھولنے کو بھی شاید ملک سے وفاداری کی خلاف ورزی جانا۔
این ایف سی ایوارڈ، قومی وسائل کی تقسیم سمیت ہر اقتصادی فورم سے تمہیں دور رکھا گیا۔ سی پیک کا گیٹ وے ہونے کے باوجود اس کے کسی بھی قومی پراجیکٹ میں قابل ذکر ہی نہیں سمجھا گیا اور تم “ملکی استحکام” کے لیے اپنا پیٹ کٹوانے پر بھی تیار ہو گئیے۔
تمہاری سینکڑوں وادیوں میں بنیادی تعلیم اور صحت کے بنیادی مراکز بھی نہیں بنائے گئے مگر تم نے زندگی کے ہر شعبے میں جہاں بھی کوئی بین الاقوامی سطح پر نام کمایا اسے “وطن کی سربلندی” کے نام کر دیا، ماونٹ اوریسٹ، کے ٹو، نانگاپربت پر “وطن عزیز” کے جھنڈے گاڑ لیے۔
بچوں کو گلگت بلتستان کا نام اور اس کا مطلب یاد کرانے سے پہلے اسے پاکستان کا “قومی ترانہ” یاد کروا دیا۔
پاکستان کا ایک بھی صوبہ ایسا نہیں جہاں مختلف دہشت گرد تنظیموں کا فعال نیٹ ورک نہ بنا ہو، آئینی صوبوں کے مختلف گروہ ایسی تنظیموں کا حصہ نہ رہے ہیں بس تم اور تمہاری سرزمین ہی ایسی ہیں جہاں آج تک ملک مخالف کوئی سرگرمی دیکھی نہیں گئی۔ اتنا سہنے کے باوجود تم “وطن کی سالمیت” کے لیے کبھی شکوہ بھی زبان پر نہیں لاتے۔
لیکن یاد رکھیں ساری قربانیوں اور محرومیوں کے باوجود مقتدر حلقوں کی نظر میں تم ہی “تحریک طالبان پاکستان” سے بڑا مسئلہ و خطرہ ہو۔ تبھی تو ایک سو سے زاید سیاسی کارکنوں پر انسداد دہشت کے مقدمات درج کر کے نظر بند یا زبان بند کیے گئے ہو۔
حقیت یہ ہے تم قربانی کے پہاڑی بکرے ہو اور ٹی ٹی پی سے بھی زیادہ بڑا مسئلہ بس۔
اسی لیے پاکستان کے معروف دفاعی تجزیہ نگار جنرل شعیب امجد نے نجی چینل 92 نیوز پر انکرپرسن محمد مالک کے پروگرام میں گلگت بلتستان کو تحریک طالبان پاکستان سے بڑا مسئلہ اور خطرہ قرار دیا۔

تحریر : ڈاکٹر محمد حسین- ماہر تعلیم

  •  
  • 116
  •  
  •  
  •  
  •  
    116
    Shares

About admin

One comment

  1. ڈاکٹر صاحب؛ خدا کیلئے اس گدھے ری-ٹارڈ جنرل کو سیرئیس نہ لیں۔ ان چبل لوگوں کے ذہن میں سوائے بھوسے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ سوچنے سمجھنے کا عمل یہ اپنی نوکری کے آغاز ہی میں ترک کر دیتے ہیں۔
    میں نے گلگت بلتستان کی صرف تصویریں دیکھی ہیں اور وہاں کے عظیم، ہمدرد اور خوش اخلاق لوگوں کی کہانیاں سنی ہیں۔ انشاءاللہ کسی دن ان سے خود ملنے کیلئے آنے کا پروگرام بھی ہے۔ ان کے حقوق، ان کی سیاست اور ان کی سہولیات کیلئے حکومت پاکستان سے مطالبہ بھی ہے کہ باقی پاکستان کی مانند ان وادیوں کے عظیم لوگوں کو بہتر سے بہتر تر سہولیات فراہم کی جائیں۔ ہم پنجاب کے عوام آپ کی اس جدوجہد میں آپ کے ساتھ ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*