تازہ ترین

ملک کے نجی ٹی وی چینلز پر بلتستان کے خلاف سنگین ہرزہ سرائی، سوشل میڈیا پر ہنگامہ۔

اسلام آباد( نامہ نگار خصوصی) گلگت بلتستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات پر گلگت بلتستان کی حکومت خطے میںکام کرنے والے خفیہ ایجنسیوں کی ناکامی کا نتیجہ بتا رہے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر جعفراللہ خان نے کارہ نالے میں دہشت گردی سیکورٹی کی ایجنسیوں کی ناکامی قرار دیا ہے۔ دوسری طرف نجی ٹیلی ویژن پر گلگت بلتستان کے جعرافیائی حالات اور زمینی حقائق سے لاعلم دفاعی اور سیاسی تجزیہ نگاروں کی جانب سے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے واقعات پر گلگت بلتستان کے عوام کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جارہا ہے۔گزشتہ ہفتے نیو چینل پر افغان امور کے ماہر جانے والے رحیم اللہ یوسف زئی نے دیامر میں اسکول جلائے جانے والے واقعے میں گلگت بلتستان کے لوگ ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ اُنکا کہنا تھا کہ دبئی میں بھارت کی جانب سے گلگت بلتستان کے حوالے سے سمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں گلگت بلتستان کے کچھ لوگشریکتھے جو بھارت کے پیرول پر کام کرتے ہیں اور یہی لوگ اس وقت سی پیک کو ثبوتاز کرنا چاہتے ہیں۔ اُس پروگرام میں گلگت بلتستان سے ایک صحافی بھی شریک گفتگو ہونے کے باجود رحیم اللہ یوسف زئی سے اس من گھرٹ الزام پر ثبوت مانگنے کی جرات نہیں ہوئی ۔لیکن سوشل میڈیا پر اُن کے من گھرٹ تجزئے پر عوام نے اُنکی خوب درگت بناڈالا۔ یوتھ کی جانب سے سوال کیا جارہا تھا کہ رحیم اللہ یوسف زئی گلگت بلتستان کے مظلوم اور محکوم عوام کے خلاف ہرزہ سرائی سے پہلے اس واقعے کا کوئی آڈیو ویڈیو یا تصویری ثبوت لیکر آتے لیکن ایسا نہیں کیا۔ اس کا مطلب گلگت بلتستان کے عوام میں بڑھتی ہوئی احساس محرومی کو مزید ہوا دینے کی سازش ہے اور یہی عناصر دراصل پاکستان دشمن عناصر کو گلگت بلتستان کا راستہ دکھاتے ہیں۔ کل 12 اگست کو بھی چینل 92 پر محمد مالک کے پروگرام بریکنگ ویوز ود مالک میں دفاعی تجزیہ نگار لفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب نے انکشاف کیا ہے کہ بیرون ممالک کام کرنے والے بلتستان کے کچھ لوگ بھارت جاکر تربیت اور پیسہ لیکر آئے ہیں جو گلگت بلتستان کا حالت خراب کرسکتا ہے۔ اُن کے اس بات کی توثیق کرتے ہوئے خود اینکر پرسن محمد مالک نے بھی الزام لگایا کہ گلگت بلتستان کو آغا خان سٹیٹ بنانے کی تیاریاں عروج پر ہے لہذا یہ سب عناصر ملکر گلگت بلتستان میں سی پیک پراجیکٹ کو ثبوتاز کرنا چاہتے ہیں۔ اُن کے اس ہرزاسرائی پر اہلیان بلتستان میں شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے۔ کل سے سوشل میڈیا پر اُن کے خلاف عوام کی طرف سے شدید نفرت اور احتجاج کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سوشل میڈیا پر گلگت بلتستان کے طلبہ تنظیموں اور یوتھ ایکٹیوسٹ نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے،عوام کی طرف سے کہا جارہا ہے کہ یہ فوکسی لوگ ہیں جن کا کام جھوٹ بول کر ریاست کو گمراہ کرنا اور اپنی نمبر بنانے کے سواے کچھ نہی بارہ اسکولز اڑانے کا تو کانون کان خبر نہی ہوئی اب اسطرح کی جھوٹ پھلانے سے حقیقت نہی چھپتی۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سابق جنرلز اور جرنلسٹس دو بے لگام گھوڑےہیں وہ سچ بولے یا جھوٹ اُن سے کوئی سوال کرنے والا نہیں ۔ ورنہ بلتستان پر الزام لگانے کا مقصد بھارت کو راستہ دکھانے کے مترادف ہیں ۔کیونکہ گلگت بلتستان واحد قوم ہے جنہوں نے یکم نومبر 1947 کو الحاق بھارت سے نفرت کرتے ہوئے ڈوگروں سے آذادی حاصل کی تھی اُس آذادی کے ثمرات آج بھی نہیں مل رہا لیکن سوال کرنے پر الزام لگا کر خاموش کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بلتستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز مصنف کالم نگار اور رہنما پاکستان تحریک انصاف سید عباس کاظمی کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ جنرل ر شعیب بلتستان کے جوانوں کے بارے میں آپ کا بیان انتہائی بے بنیاد بے ہودہ اور ناقص معلومات اور متعصبانہ ذہن کی غماز ہے ۔ پاکستان کے زیر انتظام علاقوں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں صرف بلتستان ایک جگہ ہے جہاں سے آج تک ایک بھارتی جاسوس پکڑا نہیں گیا۔ اور بلتستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں آج تک پاکستانی جھنڈے کو جلایا نہیں گیا۔ پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں کے بارے میں آپ ایسی بکواس کرتے ہیں ۔ آپ کے فوجی عہدے کا احترام اپنی جگہ لیکن ہم بحیثیت ٹی وی مبصر ایسی بکواس سننے کیلئے تیار نہیں ۔ اگر بلتستان سے نوجوان بھارت جاکر پیسے لے کر آتے ہیں تو ریاست کے سیکیورٹی کے ذمہ اران کہاں اور کیوں سوے ہوے ہیں ۔ ضمیر اور وطن فروشی ہم لوگوں میں نہیں یہ اآپ کے لوگوں میں ہے ۔ آئندہ اس طرح کی ہززہ سرائی کی تو اس کو سپریم کورٹ اور موجودہ چیف آف آرمی سٹاف کے نوٹس میں لے جانے کا حق محفوظ رکھتے ہیں ۔ اُنکا اینکر پرس مالک کو پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا کہ محمد مالک پیسے کیلئےوطن کے خلاف بھونکنے والےتم نے جو بکواس کی ہے اس کا ثبوت حکومت کے سامنے رکھو ۔ اور وطن دشمن عناصر کو سزا دلواو ۔
اہلیان بلتستان میں اس ہرزہ سرائی پر شدید غم اور غصہ پایا جاتا ہے فیس بُک اور ٹیوٹر پر لوگ شدید احتجاج کررہے ہیں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد مالک اور جنرل شعیب کے الزام کا نوٹس لیں اور اُن سے ثبوت مانگیں اورثبوت نہ ملنے کی صورت میں اہلیان گلگت بلتستان سے معافی مانگیں اور اُنہیں قانون کے مطابق سزا دیں۔

یاد رہے جنرل امجد شعیب اس سے پہلے بھی ٹیکس کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو بھارت کی حمایت یافتہ قرار دے چکے ہیں۔

  •  
  • 145
  •  
  •  
  •  
  •  
    145
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*