تازہ ترین

زخمی دیامر اور ہماری اجتماعی ذمہ داریاں۔

سرسبز پہاڑی سلسلوں اور قیمتی لکڑیوں کے جنگلات سے مالا مال اور گلگت بلتستان میں چلغوزوں کا واحد مرکز 10936 مربع کلومیٹر کے لگ بگ رقبہ اور دو لاکھ تیس ہزار کی آبادی پر مشتمل ضلع دیامر گلگت بلتستان کا چہرہ اور اس خطے کا گیٹ وے اور اہم  تاریخی پس منظر کاحامل ضلع ہے اور اس ضلع کی دو بڑی تحصلیں داریل اور تانگیر ہیں۔ موجودہ حالات میں دیامر کی اہمیت پہلے سے کہیں ذیادہ بڑھ گئی ہے کیونکہ دیامر سے سی پیک کا روڈ بھی گزر رہا ہے اس کے علاوہ دیامر کو گلگت بلتستان کا محافظ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع تک بذریعہ سڑک رسائی دیامر کو کراس کئے بغیر ممکن نہیں۔بدقسمتی سے ضلع دیامر میں آج بھی شرح تعلیم میں گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی نسبت ناقابل یقین ہے ۔ یونیسف کی ایک سروے کے مطابق دیامر میں 70 فیصد بچیاں اور 48 فیصد بچے آج بھی ابتدائی تعلیم سے محروم ہیں ۔یونیسف نےگلگت بلتستان میں سب سے زیادہ حصول علم کا رجحان ہنزہ میں قرار دیا ہے۔جہاں 88.1 فیصد لڑکے اور 87.3 فیصد لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں اس طرح ضلع کے کل87.7 بچے دوسرے نمبر ضلع گانچھے میں کل81.2 ضلع غذر میں 70.6, گلگت78.4 ، اسکردو 74.3 اور استور میں 71.2 فیصد لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں ۔یونیسیف سروے میں گلگت بلتستان کے ایک ہزار 460 دیہی 2 ہزار 3سو 40 شہری علاقوں اور 28,000 گھرانوں کے سروے کیے گئے۔ ضلع دیامر میں شرح تعلیم میں کمی کی اصل ذمہ دار کون ہے اس سوال کا جواب شائد کسی کے پاس ہوا لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ اس حوالے سے دیامر کے ممبران قانون ساز اسمبلی اس ریجن کے مجرم ہیں جواپنی حاکمیت کرپشن اور ٹمبر کے ٹھیکوں کی لین دین کیلئے اختیارات کے استعمال پر صرف کرتے ہیں۔ دوسرا بڑا مجرم دیامر کا شدت پسند مذہبی طبقہ ہے اگرچہ شدت پسند مذہبی عناصر کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہ طبقہ ماضی سے لیکر آج تک طاقتور رہے ہیں اور اس طاقت کے پیچھے کن عناصر کا ہاتھ ہے شائد کسی نے آج تک معلوم کرنے کی کوشش کی ہو۔ دیامر میں ایسے بھی مولوی ہیں جو آج بھی لڑکیوں کی تعلیم کو منبر رسول(ص) سے حرام قرار دیتے ہیں اور دیامر میں اسکول جلانے کا آج جو تیسرا بڑا واقعہ پیش آیا تو بھی مولویوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں جسکا نقصان دیامر کے عام شہریوں کو ہورہا ہے جو علم کے پیاسے ہیں اخوت اور رواداری کے علمبردار ہیں۔گلگت بلتستان ایک طرح سے کئی مسالک پر مشتمل ایک گلدستہ ہے جہاں ہر مسلک کے لوگ ایک دوسرے کے غم خوشی میں شریک ہوتے ہیں شادیاں کرتے ہیں اور رشتہ داریاں بھی ہیں لیکن دیامر گلگت بلتستان کا ایسا ضلع ہے جہاں سوفیصد مسلک دیوبند کے عقائد پر یقین رکھنے والے مسلمان بستے ہیں۔ میں جب بھی مسلک دیوبند کا نام لیتا ہوں تو میرے ذہن میں خود بخود مولانا طارق جمیل جیسے علام دین کا چہرہ آجاتا ہے جو نہ صرف اس مسلک کی ترجمانی کرتے ہیں بلکہ دیگر مسالک کے لوگ بھی اُنکی پیروی کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔ محترم قارئین زخمی دیامر کی تعمیر اور ترقی کیلئے گلگت بلتستان کی حکومتیں سمیت یہاں کے منتخب عوامی نمائندوں نے آج تک توجہ نہیں دیا بلکہ یہاں تعلیم دشمن عناصر کو آشیرباد ملتے رہے۔ اسی طرح اس سرزمین کو گلگت بلتستان میں فرقہ واریت اور دہشتگردی کیلئے بھی خوب استعمال کیا لیکن اس سلسلے کو روکنے کیلئے بھی مقامی حکومت اور دیامر کے عوامی نمائندوں اورمذہبی طبقے نے عملی کوشش نہیں کیا ۔ اس وجہ سے معاشرہ آج نہ صرف بدنام ہورہا ہے بلکہ ترقی اور تعمیر کے میدان میں بھی دیامر گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کی نسبت پست نظر آتا ہے۔قارئین گلگت بلتستان میں ہونے والے فرقہ ورانہ فسادات تاریخ کا حصہ ہے اور ان فسادات میں بھی دیامر کا خوب استعمال ہوا سانحہ کوہستان سے لیکر لولوسر اور سانحہ چلاس جیسے دل ہلا دینے والے واقعات کا ذکر کریں تو آج بھی آنسو نکل آتا ہے لیکن اس بھی بڑا صدمہ یہ ہے کہ اپنے ہی دھرتی کے باشندوں کے خلاف اس قسم کے اندوہناک واقعات کے باوجود دیامر میں مسلک لے لبادے میں چھپے پاکستان بھر میں دہشت گردی میں ملوث کلعدم مذہبی جماعتوں نے یہاں ایک بار نہیں کئی بار جلسے کئے لیکن نہ ریاست نےکوئی ایکشن لیا اور نہ ہی دیامر کے معتدل علمائے کرام اور یہاں کے پڑھے لکھے طبقے کے اندر اس حوالے سے بولنے کی ہمت ہوئی کیونکہ یہاں مسلک تڑکا لگا ہوا تھا ۔بدقسمتی کی بات یہ بھی ہے کہ جو افراد پاکستان بھر میں کلمہ گو مسلمانوں کو پر کفر کے فتوے دینے والے دیامر میں مسلک کا لبادہ اوڑھ کر کیسے یہاں آتے جاتے رہے ان سب واقعات کا ایک غیرجانبدار تحقیق ہوجائے تو اسکول جلانے والے ماضی سے لیکر آج تک کون ہے معلوم ہوسکتا ہے۔ لیکن آج بھی ایسا لگتا ہے مسلہ جرم کو ختم کرنا نہیں بلکہ وقتی طور پر ملتوی کرنا ہے۔محترم قارئین گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کی سرحدیں خاص طور پر پہاڑی اور جنگلات کے راستے ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور ماضی میں پاکستان میں دہشت گردی ،نام نہاد افغان جہاد کے نتیجے میں پھیلی اور افغان جہاد کے جہادی خیبرپخونخواہ میں مختلف ٹریننگ سینٹرز میں تربیت پاتے رہے ہیں۔ المیہ یہ بھی ہے کہ دیامر کے ساتھ ملحق سرحدی علاقے ہزارہ ڈویژن میں بھی سخت گیر مذہبی موقف کے حامل لوگ بڑی تعدادمیں آباد ہیں اور دیامر میں بھی فکری اور مسلکی طور یہی مماثلت موجودتھی۔ افغان جہاد اور اس کے بعد کی تمام صورت حال میں اس پٹی پر دہشت پسند اور شرپسند عناصر ہمیشہ موجود رہے اور یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان عناصر کے لئے مقامی سطح پر بھی مخصوص عناصر کی طرف سے بدقسمتی سے نرم گوشہ پایاگیا ۔یوں کئی مفروراور اشتہاری دہشت گرد جرم کے ارتکاب کے بعد مختلف علاقوں سے بھاگ کر یہاں آجاتے اور کمانڈر یامجاہد کاروپ دھارکر پہاڑوں میں روپوش رہتے۔ اسی طرح داریل تانگیر کے جنگلات سے بھی گلگت کے مختلف علاقوں کا راستہ ہے جہاں کاروائیاں کرکے دہشت گرد بڑی آسانی کے ساتھ دوسرے علاقوں میں مومنٹ کرتے ہیں۔ اور یہ پہلی بار نہیں کہ دیامر کے عوام نے دہشت گردوں کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن کرنے کا مطالبہ نہیں کیا ہوا لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکتا آج بھی دیامر کے یوتھ کا مطالبہ ہی یہی ہے کہ جو گنتی کے دہشت گرد پہاڑوں میں رپورش ہیں اُنہیں گرفتار کرنے کے بجائے داریل تانگیر کے گلی محلوں میں سرچ آپریشن سمجھ سے بالاتر ہے۔ اگر آپریشن کرنےوالوں کا خیال ہے کہ دیامر کا پورا ضلع ہی دہشت گرد ہیں تو یہ اس علاقے پر ظلم ہوگا کیونکہ دیامر کے عوام نے اسکول جلانے کے دوسرے ہی دن پورے دیامر بلکہ پاکستان کے مختلف شہروں میں آباد دیامر کے لوگوں نے تعلیم دشمن عناصر کے خلاف احتجاج کرکے اور تعلیم کے حق میں نعرے لگا کر اس بات کا ثبوت پیش کیا ہے کہ دیامر تعلیم کے پیاسے ہیں ۔دیامر زخمی ہیں اس زخم پر نمک کے بجائے مرہم رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جس طرح کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے بلکل اسی طرح دیامر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے اور دیامر کا استحکام گلگت بلتستان اور خاص طور پر سی پیک کے استحکام کی ضمانت ہے۔لہذا زخمی دیامر کو اب اخباری بیانات نہیں ایمرجنسی ڈولپمنٹ اور کالج یونیورسٹیاں چاہئے۔ سابق وزیر اعلیٰ مہدی شاہ نے داریل تانگیر کو سب ڈویژن کا درجہ دیا تو آج وزیر اعلیٰ حفیظ الرحمن نے داریل تانگیر ضلع کا اعلان کیا مگر وفا نہیں ہوسکا ایسا کیوں کس کے ایماء پر داریل تانگیر ضلع کا فائل دب کر رہ گیا؟ دیامر کے عوام کو پوچھنے کی ضرورت ہے۔ دیامر کی زمین وسیع یہاں بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی کی طرح بین الاقوامی اسٹنڈرڈ کے یونیورسٹی قائم کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔دیامر میں اسکول جلانے کے بعد دیامر کے عوام کی جانب سے تعلیم کی حمایت جلسے جلوس اور ریلیاں اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ دیامر کے عوام نے مٹھی بھر دہشتگردوں کو اخلاقی طور پر شکست دی ہے ۔لہذا زخمی دیامر کو مزید زخم دینے کے بجائے عوامی اُمنگوں کے مطابق گنتی کے دہشتگردوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ حفیط الرحمن کو بھی چاہئے کہ دماغ سے غرور اور گھمنڈ کا سریا نکال کر وفاق سے دیامر کیلئے گرانٹ لانے کیلئے عملی کوشش کریں اور داریل تانگیر ضلع کے وعدہ کا وفا کرنے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت سے بات کریں۔ کیونکہ اس وقت دیامر زخمی ہیں اور زخم پر مرہم اور دہشت گرد عناصر کو شکست دینے کیلئے مقامی اخبارات میں جھوٹ پر مبنی مسلسل دعوں کے بجائے کچھ عملی طور پر بھی دیامر کیلئے کرکے دکھائیں۔ گلگت بلتستان کے دیگر اضلاع کے عوامی کی بھی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس وقت دیامر کے زخم پر مرہم رکھنے کیلئے سوشل میڈیا پر دیامر کے سافٹ امیج کو اُجاگر کرنے کیلئے کام کریں اور گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرمیوں سے دور رکھنے کیلئے جس قسم کے حربے استعمال کیا جارہا ہے اُن سازشوں کو سمجھیں اور اپنی قانونی حیثیت کے مطابق حقوق کی حصول کیلئے دیامر سے لیکر خنجراب اور سیاچن اور کرگل کی پہاڑی تک یک زبان ہوکر کہیں ۔ دیامر کی ترقی گلگت بلتستان کی ترقی ہے۔ زخمی دیامر کی پُکار تعلیم ہمارا ہے ہتھیار۔

تحریر: شیر علی انجم

  •  
  • 11
  •  
  •  
  •  
  •  
    11
    Shares

About admin

اپنی رائے کا اظہار کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

*